یونان کے دارالحکومت ایتھنز سمیت مختلف شہروں میں عوام کا تارکینِ وطن کے خلاف پالیسیوں پر احتجاج، پناہ گزینوں کو بچانے کے ناکافی اقدامات پر حکام کے خلاف شدید نعرے بازی،احتجاجی مظاہرین کی جانب سے مختلف مقامات پر پولیس پر پتھرا ئوکے واقعات بھی رونما ہوئے جبکہ پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی،برطانوی میڈیاکے مطابق یونانی حکام نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث 9افراد کو گرفتار کرلیا ہے،یونان میں تارکین وطن سے متعلق نسل پرستانہ تبصرے پر دائیں بازو کی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے یونانی رکن پارلیمنٹ کریاکوس میسوٹاکیس کی رکنیت معطل کردی گئی، یونانی رکن پارلیمنٹ نے اپنے ایک انٹرویو میں تارکین وطن کو برداشت نہ کرنے اور ان پر چوریوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا جس کے بعد اب انہیں جماعت سے نکال دیا گیا ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
بھارت میں ایک اور مسلمان پر انتہا پسند جنونیوں کی جانب سے بہیمانہ تشدد کیے جانے کا واقعہ پیش آگیا،انتہاپسندوں کی جانب سے مسلمان پر تشدد کے واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی،افسوس ناک واقعہ بھارتی ریاست اتر پردیش (یو پی)کے ضلع بلند شہر میں پیش آیا ہے،ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جنونی انتہا پسندوں کی جانب سے ساحل نامی ایک مسلمان نوجوان کے سر کے بال کاٹ کر اسے درخت سے باندھ دیا جاتا ہے،انتہا پسندوں کی جانب سے زبردستی ساحل نامی مسلمان نوجوان سے جے شری رام کے نعرے بھی لگوائے جاتے ہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
برطانیہ میں عیدالاضحی منانے کے حوالے سے اس سال پھر علما کرام ایک پیج پر نہ آ سکے اور مسلم کمیونٹی دو حصوں میں تقسیم ہوگئی،برطانیہ میں اس سال بھی دو عیدیں ہوں گی، سینٹرل لندن مسجد نے 28جون جبکہ مرکزی جماعت اہلسنت یو کے اوور سیز ٹرسٹ نے 29جون کو عید منانے کا اعلان کیا ہے،سینٹرل لندن مسجد کے مطابق برطانیہ میں ذوالحج کا چاند نظر آگیا ہے جس کے بعد یوم عرفہ 27اور عیدالاضحی 28جون کو ہوگی،دوسری جانب مرکزی جماعت اہلسنت یو کے اوور سیز ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ عیدالاضحی 29جون کو منائی جائے گی،علما کرام کے درمیان اتفاق نہ ہونے پر برطانیہ میں مقیم مسلم کمیونٹی پریشانی کا شکار ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
برازیل کے جنوبی علاقے میں سمندری طوفان نے تباہی مچا دی، ریاست ریو گرانڈے ڈو سل میں طوفان سے 11افراد ہلاک، 20 لاپتہ ہوگئے ،عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سمندری طوفان کی وجہ سے شدید بارش ہوئی جس سے گھروں میں پانی بھر گیا اور گلیاں ندی نالوں میں تبدیل ہوگئیں ، حکام کاکہنا ہے کہ ہیلی کاپٹرز کی مدد سے سیلاب زدہ علاقوں میں لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے ، رپورٹس کے مطابق8ہزار سے زیادہ افراد کی آبادی والا قصبہ کارا طوفان سے سب سے زیادہ متاثر ہوا، سیکڑوں ایکڑ رقبہ زیر آب آگیا، فصلیں تباہ ہو گئیں جبکہ سیلابی صورتحال سے کئی علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا جس کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات کاسامنا ہے ،حکام نے کئی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے امکان کا انتباہ بھی جاری کردیا ہے، طوفان اور بارشوں سے 80ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں ۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
کینیڈا میں خالصتان کے حامی سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجار کو فائرنگ کر کے قتل کردیا گیا،تفصیلات کے مطابق سکھ رہنما ہردیپ سنگھ کو کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کے گردوارے میں فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ،بھارت نے کینیڈین حکام سے ہردیپ سنگھ کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کر رکھا تھا، بھارتی تحقیقاتی ادارے نے ہردیپ سنگھ کے بارے میں معلومات دینے والے کیلئے انعامی رقم دینے کا بھی اعلان کررکھا تھا،ہردیپ سنگھ علیحدگی پسند تنظیم سکھ فور جسٹس کے سرگرم کارکن تھے ، انہوں نے خالصتان کے قیام کیلئے ریفرنڈم میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
برطانیہ میں بس ڈرائیوروں نے تنخواہوں میں اضافے کیلئے ہڑتال کا اعلان کردیا،غیر ملکی میڈیا کے مطابق برطانیہ کی معروف بس کمپنی کے 800ملازمین احتجاج میں حصہ لے رہے ہیں،ڈرائیورز کا کہناہے کہ کمپنی کی جانب سے گزشتہ 5سالوں سے تنخواہ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، بڑھتی ہوئی مہنگائی میں اس تنخواہ میں گھر کے اخراجات پورا کرنا ممکن نہیں رہا، ڈرائیوروں نے کمپنی کی جانب سے تنخواہ میں معمولی اضافے ہو مسترد کر دیا ،کمپنی حکام نے تنخواہ میں 12فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے جو آئندہ سال اپریل تک نافذالعمل ہوگا ۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
بھارت میں گرمی کی شدید لہر سے ہلاکتوں کی تعداد 100سے تجاوز کر گئی ہے، محکمہ موسمیات نے گرمی کی شدت میں مزید اضافے کی بھی پیش گوئی کردی،بھارتی میڈیا کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں اترپردیش، بہار اور اوڈیشا میں ہوئی ہیں ، ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد کی عمریں 60 سال یا اس سے زائد ہیں، بہار کے 15اضلاع شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں،بھارتی میڈیا کے مطابق حکام نے دن کے اوقات میں 60سال کی عمر کے افراد کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی ہے جبکہ مختلف ہسپتالوں میں 400 افراد زیرعلاج ہیں ، ہسپتالوں میں اموات میں اچانک اضافے اور مریضوں میں بخار، سانس لینے میں دشواری جیسے دیگر مسائل کا سامنا ہے،بھارتی میڈیا کے مطابق صورتحال خراب ہونے کی وجہ سے ہسپتال کے عملے کی چھٹیاں بھی منسوخ کردی ہیں،رپورٹس کے مطابق ہیٹ ویو کے نتیجے میں ریاست اترپردیش میں اب تک 54ہلاکتیں رپورٹ ہوچکی ہیں جہاں سب سے زیادہ ہلاکتیں ضلع بلیا میں ہوئی ہیں جو لکھنو سے تقریبا 200میل کے فاصلے پر واقع ہے ، اتوار کے روز ضلع بلیا میں درجہ حراست 43ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے،یوپی کے وزیر صحت برجیش پاٹھک کا کہنا ہے کہ حکومت نے بلیا میں ہونے والے واقعے کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے اور وہ ذاتی طور پر وہاں کی صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں،دوسری جانب ریاست اترپردیش میں ہیٹ ویو سے عوام کی حالت غیر ہوگئی، اس پر طویل لوڈ شیڈنگ نے شہریوں کا جینا اور بھی مشکل بنا دیا ہے، گرمی کے ستائے عوام سراپااحتجاج ہیں ۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اپنے دو روزہ دورہ چین میں اپنے چینی ہم منصب سے ساڑھے پانچ گھنٹے کی طویل ملاقات کی ہے ،امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق بلنکن سے چینی وزیر خارجہ چن گانگ نے بیجنگ کے سرکاری گیسٹ ہائوس میں ملاقات کی ، دونوں وزرائے خارجہ کی وفود کی سطح پر ملاقات ساڑھے 5گھنٹے جاری رہی، ملاقات کے بعد انٹونی بلنکن عشائیہ میں شرکت کے لیے چلے گئے،چینی وزارت خارجہ نے ملاقات کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان طویل بات چیت ہوئی ہے اور انھوں نے بات چیت کوواضح، گہری اور تعمیری قرار دیا ہے،دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلنکن کی چینی وزیر خارجہ سے واضح، ٹھوس اور معیاری بات چیت ہوئی ہے،امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق بلنکن نے مواصلات کے چینلز کھلے رکھنے پر زور دیا، دونوں رہنماوں نے مشترکہ بین الاقوامی مسائل پر تعاون کے مواقع پر بھی گفتگو کی،امریکی وزیر خارجہ بلنکن نے رابطوں کے تسلسل کیلئے چینی وزیر خارجہ کو واشنگٹن آنے کی دعوت بھی دی جس کو چینی وزیر خارجہ نے قبول کرلیا اور مناسب وقت پر امریکا آنے کی حامی بھری ہے،واضح رہے کہ سال 2018کے بعد کسی بھی امریکی وزیر خارجہ کا چین کا یہ پہلا دورہ ہے ۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
وکیل شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے سابق رہنما پرویز خٹک ایک دو روز میں اپنی سیاسی جماعت متعارف کروا رہے ہیں۔ وکیل شیر افضل مروت کی جانب سے اپنے ایک بیان میں پرویز خٹک کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے بڑا دعوی کیا۔ انہوں نے کہا کہ پرویز خٹک نئی پارٹی بنانے جارہے ہیں جس میں زیادہ تر ارکان، پی ٹی آئی کے سابق عہدیدار، ایم این اے اور ایم پی اے ہیں۔ شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ پارٹی کو اقتدار کی راہداریوں کی مکمل آشیرباد اور حمایت حاصل ہے۔ مالاکنڈ میں پی ٹی آئی کے بیشتر رہنما سمجھوتہ کر چکے ہیں جبکہ سینئر نام بڑا سرپرائز دینے والا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئی پارٹی مالاکنڈ ڈویژن سمیت 6 اضلاع، لکی مروت اور کوہاٹ سے حمایت کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس حوالے سے پی ٹی آئی والوں کو بھی پرویز خٹک سے تعاون کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کی اہلیہ بشری بی بی کی 190 ملین پانڈ سکینڈل کے کیس میں 4 جولائی تک عبوری ضمانت منظور ہو گئی۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت میں 190 ملین پانڈ سکینڈل کے کیس میں بشری بی بی کی ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواست پر سماعت ہوئی، درخواست پر سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی۔ احتساب عدالت نے بشری بی بی کی 5 لاکھ کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی۔ پی ٹی آئی چیئرمین کی اہلیہ بشری بی بی گاڑی سے اتر کر احتساب عدالت گئیں اور عدالت میں حاضری لگانے کے بعد وہ واپس گاڑی میں بیٹھ گئیں۔ بشری بی بی کے وکلا نے نیب کے بطور ملزم طلبی کے نوٹس کے پیش نظرِ ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
مسلم لیگ ن نے سابق وفاقی وزیر مفتاح اسماعیل اور شاہ محمد شاہ کو پارٹی عہدوں سے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا۔ چیف آرگنائزر مریم نواز کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ مسلم لیگ ن نے سندھ کی تنظیم میں تبدیلیوں کا فیصلہ کرلیا، چیف آرگنائزر مریم نواز کا کہنا ہے کہ صوبائی صدر شاہ محمد شاہ اور جنرل سیکریٹری مفتاح اسماعیل کو عہدوں سے ہٹاکر نئے لوگوں کو ذمہ داری دی جائے گی۔ مریم نواز نے شاہ محمد شاہ اور مفتاح اسماعیل کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دے دیا۔ چیف آرگنائزر نے فیصلہ کیا ہے کہ مفتاح اسماعیل کو پارٹی عہدے سے الگ کرکے آئندہ کوئی اہم ذمہ داری نہیں دی جائے گی۔ مریم نواز نے سینئر رہنماوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ دونوں رہنماوں نے اہم کارکنوں کو پارٹی کو خیرباد کہنے پر انہیں نہیں روکا، قیادت کو بھی آگاہ نہیں کیا گیا۔ واضح رہے کہ مفتاح اسماعیل وزیر خزانہ کے عہدے سے ہٹائے جانے اور سلیمان شہباز کی جانب سے تنقید کے بعد پارٹی قیادت اور پالیسیوں سے اختلافات کا اظہار کھل کر چکے ہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
بلاول بھٹو کی د ھمکی کام کر گئی، وزیراعظم شہباز شریف نے سندھ میں سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے 25 ارب روپیکی منظوری دے دی۔ بق یہ رقم سندھ میں سیلاب متاثرین کی امداد پر خرچ ہو گی، وزیراعظم نے جمعے کو پیپلز پارٹی کے وفد سے ملاقات میں فنڈز کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی تھی۔ خیال رہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ دنوں سوات میں جلسے سے خطاب کے دوران وزیر اعظم سے بجٹ میں وعدے پورے نہ کرنے کا شکوہ کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے پیسا نہ ملا تو پیپلز پارٹی بجٹ منظور نہیں ہونے دے گی۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
پاکستان سمیت دنیا بھر میں اونٹوں کا عالمی دن ''ورلڈکیمل ڈے'' 22جون کو منایا جائے گا،اس دن کے منانے کامقصدچولستان،ریتلے،دشوار گزار اور صحرائی علاقوں میں سفر کیلئے اونٹوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے اس دن کے حوالے سے ملک بھر میں محکمہ لائیو سٹاک،کیمل ایسوسی ایشن آف پاکستان اور جانوروں کے حقوق کیلئے سرگرم تنظیموں کی جانب سے مختلف تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا۔اونٹ ریتلے علاقوں کا جانور ہے اے صحرائی جہاز بھی کہا جاتا ہے اونٹ کو گوشت،دودھ کے حصول کیلئے پالا جاتا ہے اسے صحرائی علاقوں میں بوجھ اٹھانے اور سفر کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
22جون کو سال کا طویل ترین دن جبکہ مختصر ترین رات ہو گی۔ماہرین فلکیات کے مطابق22جون2023ء کو سال کا طویل ترین دن جبکہ مختصر ترین رات ہو گی اس روز دن کا دورانیہ تقریباً 14گھنٹے جبکہ رات10گھنٹوں کی ہو گی۔یکم جولائی کے بعد دن کا دورانیہ بتدریج کم ہو نا شروع ہو جاتا ہے اور 22ستمبر کو دن اور رات کا دورانیہ تقریباً برابر ہوتا ہے جبکہ اس کے بعد راتوں کے دورانیے میں اضافہ اور دن کا دورانیہ مختصر ہونا شروع ہو جاتا ہی22دسمبر سال کا مختصر ترین دن اور رات طویل ترین ہوتی ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
یونان کشتی حادثے کی تحقیقات کیلئے وزیراعظم کی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی نے کام شروع کر دیا۔ کمیٹی لاہور اور کراچی میں گرفتار ایجنٹوں سے متعلق جانچ پڑتال کرے گی، تحقیقاتی کمیٹی نے ایف آئی اے سے بھی ریکارڈ طلب کر لیا۔ قبل ازیں وزیر اعظم نے کشتی حادثے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کیلئے 4 رکنی اعلی سطح کی کمیٹی بھی تشکیل دے دی، کمیٹی کے چیئرمین ڈی جی نیشنل پولیس بیورو احسان صادق ہیں۔ وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری (افریقہ)جاوید احمد عمرانی، آزاد جموں و کشمیر پونچھ ریجن کے ڈی آئی جی سردار ظہیر احمد اور وزارت داخلہ کے جوائنٹ سیکرٹری(ایف آئی اے)فیصل نصیر بھی کمیٹی کا حصہ ہیں۔ خصوصی کمیٹی یونان میں کشتی ڈوبنے کے تمام حقائق جمع، انسانی سمگلنگ کے پہلو کی تحقیقات کر کے ذمہ داروں کا تعین کرے گی، کمیٹی ایک ہفتے میں رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کرے گی جس کی روشنی میں مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
حکومتی اتحاد(پی ڈی ایم ) کے سربراہ فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف بیرونی ایجنڈے پر کام کررہی تھی ہم نے اس کے ایجنڈے کو پاش پاش کردیا۔ ٹانک میں کارکنوں سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے چیئرمین پی ٹی آئی اور ان کی جماعت پر تنقید کی، انہوں نے سربراہ تحریک انصاف کا نام لیے بغیر کہا کہ پہلے ہی کہا تھا کہ یہ شخص ملک دشمن ہے، ہم نے پی ٹی آئی حکومت کیخلاف کلمہ حق بلند کیا، تحریک انصاف کا ایجنڈا بیرونی تھا، ہم نے اس کا ایجنڈا پاش پاش کردیا۔ ملک میں امن و امان کی صورتحال پر حکومتی اتحاد کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ملک میں دہشت گردی بار بار سر اٹھاتی ہے، امن و امان کی ذمہ دار حکومت ہوتی ہے، گزشتہ حکومت نے قیام امن کیلئے کچھ نہیں کیا۔ پاکستانی معیشت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اسلامی نظام کے سوا کوئی نظام نہیں چل سکتا، ہم عالمی سطح پر پاکستان کا تشخص بحال کریں گے۔ ترقیاتی کاموں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ٹانک کے مسائل سے واقف ہوں، ہم ٹانک میں پینے کا صاف پانی فراہم کریں گے، گومل زام سے ضلع کو صاف پانی میسر آئے گا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ حکومت کشتی سانحے کا شکار افراد کے خاندانوں کی ہر قسم کی بھرپور معاونت کرے گی۔ اپنے ایک بیان میں رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ یونان کشتی حادثہ میں اموات ایک بہت بڑا سانحہ ہے، ملک بھر کے عوام اپنے بھائیوں کی دیار غیر میں اموات پر سوگوار ہیں، پاکستان بھر میں سانحہ پر قومی سطح پر سوگ منایا جا رہا ہے، انسانی سمگلنگ کو روکنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ درندہ صفت انسانی سمگلروں کے خلاف ایف آئی اے حرکت میں آ چکی ہے، لاہور اور کراچی میں اس سلسلہ میں گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں، اس سانحہ میں ملوث موت کے تمام افراد کو قانون کے شکنجے میں لایا جائے گا، وزیر اعظم کی ہدایت پر تحقیقاتی کمیٹی بنائی گئی ہے،کمیٹی ذمہ داروں کا تعین کرے گی اور انسانی سمگلنگ کے انسداد کیلئے سفارشات مرتب کرے گی۔ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ انسانی سمگلنگ کا دھندہ کرنے والوں کو عبرتناک سزا کیلئے خصوصی قانون سازی کی جائے گی، حکومت اس سانحہ کا شکار ہونے والوں کے خاندانوں کی ہر قسم کی بھرپور معاونت کرے گی۔ وزیر داخلہ نے جاں بحق افراد کی مغفرت کیلئے دعا کی اور کہا کہ جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے مکمل ہمدردی اور دکھ میں شریک ہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
عضو هيئة كبار العلماء بالقاء خطبة يوم عرفة لهذا العام
عوامی مسلم لیگ کے سربراہ و سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ہم اپنے 300 پاکستانیوں کا سوگ منا رہے ہیں، لوگ بیروزگاری اور معاشی قتل عام سے بچنے کیلئے یونان کے سمندر میں شہید ہوگئے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں شیخ رشید کا کہنا تھا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، جب 20 کلو آٹے کا تھیلا 3000 روپے کا ہوگا تو لوگ زہر کا گھونٹ پینے پر مجبور ہوں گے، معاشی، اقتصادی اور سیاسی تباہی، کارخانے بند، کاروبار بند، کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ اس اندھیرے سے کس طرح نکلنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے واقعہ کی ساری قوم نے مذمت کی ہے، خدا کیلئے اس قوم کو زندہ رہنے کا حق دو، لوگوں کے گھروں میں ایک وقت کا کھانا ہے، قومیں عوام سے ہوتی ہیں، قومیں جوش، جذبے، ولولے سے زندہ رہتی ہیں، اس قوم کو جذبہ اور امید دیں نا امیدی نہ دیں، پاکستان قیامت تک زندہ رہے گا۔ سربراہ عوامی لیگ کا کہنا تھا کہ بجٹ میں سب جھوٹ بولا گیا ہے، اسحاق ڈار، نوازشریف اور شہبازشریف کے بیانات نہیں مل رہے، نوازشریف آپ آ جائیں آپ کو پتہ لگے گا کہ لوگ کس حالت میں پہنچ چکے ہیں، آنے میں دیر نہ کریں، میری اداروں سے درخواست ہے کہ اس پاکستان کو اندھیروں سے نکالیں، اس پاکستان کو اجالے میں لے کر جائیں، امید دلائیں۔ سابق وزیر نے مزید کہا کہ نوجوان ڈپریشن اور دبا کا شکار ہو چکا ہے، گھروں میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے، آئیں سب مل کر پاکستان کو آگے لے کر چلیں، پاکستان ہے تو ہم ہیں، پاکستان ہماری پہچان ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے میئر کراچی الیکشن میں پی ٹی آئی کے بلدیاتی چیئرمینوں کی غیر حاضری پر عدالت سے جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ کر تے ہوئے کہا ہے کہ ہم کورٹ میں بھی جائیں گے مطالبہ کریں گے، اس معاملے پر جے آئی ٹی بنائیں، بلدیاتی انتخابات کو چار مرتبہ ملتوی کیا گیا، اپنی نشستیں بڑھانے کیلئے حلقہ بندیاں کی گئیں، دھاندلیوں کے باوجود زیادہ ووٹ جماعت اسلامی نے لئے، آر اوز کے ساتھ مل کر نتائج کو تبدیل کیا گیا، ماضی میں بھی پیپلز پارٹی نے ملک توڑ دیا لیکن مینڈیٹ کو نہیں مانا تھا۔پیر کے روز کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ الیکشن عمل دھاندلی ، قبضے اور جعلسازی میں لپٹا ہوا ہو تو آپ اس پر ٹھپہ نہیں لگا سکتے ، الیکشن ہوں ، لوگ ووٹ ڈالیں کوئی جیتے یا ہارے یہی جمہوریت ہے ، جیتنے والے کو مبارکباد جبکہ ہارنے والے سے اظہار افسوس کیا جاتا ہے ، 15جنوری سے پہلے جو بلدیاتی ایکٹ پیش کیا ۔ انکی نیت صاف نظر آگئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے غلط حلقہ بندیاں کیں ، جس میں اپنی سیٹیں بڑھانے کی کوشش کی ۔ الیکشن کمیشن نے تمام شواہد کے باوجود سندھ حکومت کا لکھا ہوا فیصلہ سنادیا ۔15جنوری کو انتخابات کے بعد فارم 11نہیں دیئے جارہے تھے ۔ فارم 11کے مطابق جماعت اسلامی کی 100سے زائد نشستیں تھیں۔ خواتین ، اقلیت اور دیگر نشستیں ملاکر ہماری 155کے قریب نشستیں تھیںان کے آر اوز نے نتائج کو تبدیل کیا ۔ آج تک وہ مسئلہ حل نہ ہوا۔الیکشن کمیشن نے آج تک صحیح فیصلہ نہیں دیا اور پیپلزپارٹی نے نتیجہ سنا دیا ۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہم فائنل سماعت کے بعد فیصلہ سنا ئیں گے ۔ آج تک چیف الیکشن کمشنر نے وہ فائنل سماعت ہی نہیں کی ۔ حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ کہ مطالبہ کرتا ہوں کہ اس معاملے پر جے آئی ٹی بنائی جائے ، 9مئی کے واقع کی مذمت کرتے ہیں، ہماری قرار داد بھی موجود ہے ،موجودہ صورتحال میں ایسا نہیں ہوسکتا کہ کراچی کے انتخابات پر قبضہ کریں ، اس تماشے کیساتھ پورے شہری زمینوں پر قبضہ کیا جارہا ہے ، انہں کوئی پوچھنے والا نہیں ، ہم مقدمہ لڑیں گے اور سب کو بولنا پڑے گا ، سب کو کراچی کے عوام کی پچ پر چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے آنا پڑے گا ، الیکشن کمیشن کراچی میں مکمل طور پر شفاف انتخابات کرانے میں ناکام ہوگیا ، یہ پاکستان کا اتنا بڑا الیکشن کیسے کرائے گا ۔ وہ کراچی کا چھوٹا سا الیکشن نہیں کرسکتے ۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
چیئرمین پی ٹی آئی کو القادر ٹرسٹ کے 190 ملین پاؤنڈ کے کیس میں بڑا ریلیف مل گیا، احتساب عدالت نے 4 جولائی تک عبوری ضمانت میں توسیع کردی۔ سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان القادر ٹرسٹ کے 190 ملین پاؤنڈ کے معاملے میں احتساب عدالت اسلام آباد میں پیش ہوئے۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے چیئرمین پی ٹی آئی کی عبوری ضمانت میں 4 جولائی تک توسیع کردی۔ سماعت کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث جبکہ پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی اور سہیل عارف بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
قومی اسمبلی کے اجلاس میں یونان کشتی حادثے میں جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں ،سابق ایم۔این اے شیر محمد بلوچ ،کلرکہار بس حادثے میں جاں بحق ہونے والے و دیگر حادثوں میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے دعا کی گئی دعا مولانا عبدالاکبر چترالی نے کروائی قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی سربراہی میں منعقد ہوا اجلاس شروع ہوا تو تلاوت ،نعت اور ترانے کے بعد سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ سب سے پہلے یونان میں کشتی حادثے میں جاں بحق ہونے والے 300 کے قریب پاکستانیوں ،کلرکہار بس حادثے میں جاں بحق ہونے والے 13 افراد کے جاں بحق ہونے ،سابق ایم این اے شیر محمد بلوچ اور دیگر حادثوں میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے فاتحہ خوانی کی جائے اور انہوں نے کہا کہ مولانا عبدالاکبر چترالی فاتحہ خوانی کروائیں جس پر مولانا عبدالاکبر چترالی نے جاں بحق ہونے والوں کے لیے فاتحہ خوانی کروائی۔ (محمداویس)
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
وفاقی وزیر برائے دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ یونان کشتی حادثہ کے زمہ داران کے خلاف سخت ترین ایکشن لیا جائے اس کاروبار کو بند ہونا چاہیے پارلیمنٹ سوگوار خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے ،یونیورسٹیاں ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں دی جائیں جو خدمت کا جذبہ رکھتے ہوں۔ قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی سربراہی میں منعقد ہوا اجلاس میں نقطہ اعتراض پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہاکہ کشتی حادثے میں 300سے زائد پاکستانی جان بحق ہوگئے ۔یہ سلسلہ 1970کی دہائی میں شروع ہوا جب ہمارے لوگوں نے روزگار کے لیے بیرون ملک جانا شروع ہوئے اور یہ کاروبار بھی شروع ہوا. یورپ بھجوانے کا کاروبار غیرقانونی شروع ہوگیا ۔یونان کی کوسٹ کارڈز نے ظلم کیا جس پر یونان کے لوگوں نے احتجاج کیا ۔جو لوگ اس کاروبار میں ملوث ہیں ان کے خلاف سخت ترین ایکشن لینا چاہیے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ اگر ہماری اکانومی صحیح چل رہی ہوتی تو یہ حادثات نہ ہوتے ۔ یہاں روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے لوگ بیرون ملک جاتے ہیں۔ وزیراعظم نے سوگ کا اعلان کیا ۔اس کاروبار کو بند ہونا چاہیے ۔ان لوگوں کے تانے بانے ترکی اور دیگر ملکوں میں بھی ہیں ۔لیبیا میں بھی ہیں ۔یہ لوگ خفیہ ترکیہ سے نہیں گئے ائیرپورٹ سے گئے ہیں. پارلیمنٹ بھی سوگ وار خاندانوں کے ساتھ شریک ہے۔ یہ قومی مسئلہ ہے اس کو حل ہونا چاہیئے ۔ وائس چانسلر کے خلاف لفظ پر معذرت کی ۔ایسے وائس چانسلر ہیں جو 11سال سے وائس چانسلر ہیں قائمہ کمیٹی بلاتی ہے نہیں آتے ہیں ۔ ایک وائس چانسلر ٹرمینیٹ ہوئے ہیں مگر سٹے آڈر پر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ وائس چانسلر کا وقت مکمل ہوجائے تو گھر جائیں ۔اورسیز پاکستانیوں کی بات کی ۔میں نے گلف میں کام کرنے والوں کی تعریف کی ۔ 65لاکھ اورسیز پاکستانی عرب ممالک میں ہیں۔ یہ ہماری لائف لائن ہیں۔ میں نے ان لوگون کے بارے میں کہاتھا جن کے پاکستان میں سٹیک نہیں ہیں ۔جو لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان ترسیلات بند کریں میں نے ان کی مذمت کی ہے۔ عرب ملکوں میں 4ہزار درہم کماتے ہیں تو 35سو پاکستان بھجتے ہیں۔
میرا اعتراض امریکہ میں پاکستانیوں پر ہے انہوں نے لابنگ کی۔عمران خان کے حق میں بیان آتے رہے اس کو پیسے دیتے رہے 9مئی کو پاکستان پر حملہ ہوا۔تو ایک طبقہ ہے جو عمران خان کے ساتھ ہے ۔ عرب ملک میں کام کرنے والے پاکستانیوں کی ترجیح صرف پاکستان ہے۔ پاکستان جن کی لائف لائن پاکستان ہے وہ پاکستان کے محسن ہیں جو عمران خان کو لائف لائن سمجھتے ہیں ان کی مذمت کرتا ہوں جو ترسیلات بند کرنے کی بات کرتے ہیں اس کی مذمت کرتا ہوں ۔اس پر سپیکر قومی اسمبلی نے کہاکہ کشتی حادثے پر حکومت کو سختی سے محاسبہ کرنا چاہیے حلقے کے لوگوں کو تعلیم دیں کہ ان لوگوں کے جھانسے میں نہ آئیں انسانی سمگلروں کو سخت سزا دی جائے ۔وائس چانسلر کی عزت ہے جو انفرادی ہیں ان کا محاسبہ ہونا چاہیے ۔اورسیز کا پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ہے ۔ان کی اکثریت پاکستان کی محبت میں ڈوبی ہوئی ہے اگر کسی ایک بندے نے زرمبادلہ بھیجنے کی روکنے کی بات کی ہے تو اس کی مذمت کرتا ہوں۔رکن اسمبلی۔میر منور علی تالپور نے کہاکہ پاکستان میں ایسے حالات نہیں کہ لوگ بیرون ملک جائیں پاکستان میں کوئی جنگ نہیں ہورہی ہے یہاں باقاعدہ کاروبار ہے لوگ دکانیں بناکر بیٹھے ہوئے ہیں۔چیئرمین پبلک اکانٹس کمیٹی نور عالم خان نے کہاکہ اورسیز پاکستانیوں نے 9مئی کے واقعات کی مذمت کی ہے ۔ سمگلر ایران سے لوگوں کو لے کرجاتے ہیں ہجرت چلتی رہتی ہے۔ جس کو کیس دیاگیاہے وہ قابل بندہ ہے ۔رکن اسمبلی محسن داوڑ نے کہاکہ آج صبح ہمارے ممبر قومی اسمبلی علی وزیر کو شمالی وزیرستان سے گرفتار کرلیا گیا ہے ۔پرچہ ایف آئی اے سائبر کرائم کا پشاور میں ہواہے۔ ان پر چارج کیا ہے عدالت میں بھی پیش نہیں کیا گیا ہے ۔ ہم نے یہاں قانون بنایا تھا کہ سیشن کے دوران کسی کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا ہے سیشن جاری یے مگر ان کو گرفتار کرلیا گیا مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہاکہ وزیر دفاع سے اتفاق کرتا ہوں سوال یہ ہے کہ لوگ بیرون ملک کیوں جارہے ہیں ملک کیوں چھوڑ رہے ہیں قوانین ہیں مگر ان پر عمل نہیں ہورہاہے۔ سب سے بنیادی کام ایجنسیوں کی ہے 25ایجنسیاں کام کررہی ہیں۔ قانون پر عمل درآمد کیا جائے ۔راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ ملک میں یوم سیاہ منایا جارہاہے(محمداویس)
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
یونان میں تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے سانحہ کے بعد اس میں ملوث ایک اور ایجنٹ کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)نے یونان کشتی حادثے میں ملوث ایک اور ایجنٹ کی گجرات سے گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ ایف آئی اے حکام کابتانا ہے کہ گرفتار ایجنٹ کا تعلق وزیرآباد سے ہے، ملزم رقم لیبیا میں مرکزی ایجنٹوں کو بھیجتا تھا۔ ایف آئی اے کے مطابق ملزم کو متاثرہ فیملی کی نشاندہی پر گرفتار کیاگیا جس سے مرکزی انسانی اسمگلرز سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
سینٹر فار بی آر آئی اینڈ چائنا اسٹڈیز (سی بی آر آئی سی ایس)، انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ ڈپلومیٹک اسٹڈیز (آئی پی ڈی ایس) اوع کاشی یونیورسٹی کے سنٹر فار چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور (سی سی پی ای سی) کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ یہ دستخط18 جون کو چین کے شہر کاشغر میں منعقدہ تیسرے مزتاگتا فورم کے دوران، چین پاکستان اقتصادی راہداری ( سی پیک ) کے لیے وقف ایک بین الاقوامی سمپوزیم میں کییگئے ۔ گوادر پرو کے مطابق اس مفاہمت نامے کے ذریعے، سی بی آر آئی سی ایس اور سی سی پیک مشترکہ تحقیقی منصوبوں، کانفرنسوں، سیمینارز اور ورکشاپس کے انعقاد کے لیے پرعزم ہیں جو چین، پاکستان اور اس سے باہر کے اسکالرز، ماہرین اور پالیسی سازوں کو اکٹھا کرتے ہیں۔ یہ تعاون فیکلٹی اور طلبہ کے تبادلے کے پروگراموں میں بھی سہولت فراہم کرے گا، جس سے دونوں اداروں کے درمیان خیالات، تجربات اور ثقافتی تفہیم کے تبادلے کو ممکن بنایا جائے گا۔ سی بی آر آئی سی ایس اور سی سی پیک کے درمیان تعاون کا مقصد چین پاکستان اقتصادی راہداری اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو اسٹڈیز کے میدان میں علمی تعاون، علم کے تبادلے اور مشترکہ تحقیقی کوششوں کو فروغ دینا ہے۔ شراکت داری سی پیک کے ارد گرد اقتصادی، سماجی، اور جغرافیائی سیاسی حرکیات اور علاقائی روابط، پائیدار ترقی اور امن کے لیے اس کے مضمرات کی تفہیم کو گہرا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ گوادر پرو کے مطابق دونوں اداروں کی مہارت اور وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے، یہ تعاون سی پیک اور وسیع تر بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو سے متعلق علمی گفتگو، پالیسی سازی، اور اسٹریٹجک سوچ میں حصہ ڈ الے گا ۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
پاکستان کے مقامی طور پر تیار کردہ یا اسمبل کردہ موبائل فونز نے بنیادی طور پر درآمد شدہ فونز کی تعداد کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جو کہ پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں ریکارڈ کمی ہے۔ گوادر پرو کے مطابق 2023 کے پہلے چار ماہ (جنوری تا اپریل) میں، پاکستان نے مقامی طور پر 3.44 ملین فون سیٹ تیار یا اسمبل کیے، جب کہ ملک نے تجارتی طور پر محض 300,000 (0.3 ملین) فون سیٹ درآمد کیے ہیں۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق، 3.44 ملین مقامی طور پر اسمبل یا تیار کردہ فونز میں سے 2.79 ملین فیچر فونز (2G) اور 0.65 ملین اسمارٹ فونز ہیں۔ گوادر پرو کے مطابق چینی موبائل کمپنیاں مقامی مینوفیکچرنگ اور اسمبلی میں دوڑ میں سب سے آگے ہیں۔ چینی فون نہ صرف سستے بلکہ بیرون ملک سے درآمد کیے گئے بہت سے اعلیٰ درجے کے فونز سے بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ پی ٹی اے کے مطابق جنوری اور اپریل 2023 کے درمیان، چین کے ایکس موبائل نے 0.45 ملین موبائل فون بنائے، اس کے بعد VGO Tel نے 0.40 ملین سیٹس بنائے۔ اسی طرح، چینی کمپنیوں آئی ٹیل، جی فائیو ، اور انفینکسنے بالترتیب 0.39 ملین، 0.20 ملین، اور 0.15 ملین فون تیار کیے ہیں۔ گوادر پرو کے مطابق پی ٹی اے کے موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ اتھارٹیز پروگرام کے تحت پاکستان سے مقامی طور پر تیار کردہ ہینڈ سیٹس نے برآمدات شروع کر دی ہیں۔ دسمبر 2022 میں، کم از کم 120,000 ''پاکستان میں تیار کردہ'' موبائل ہینڈ سیٹ افریقی مارکیٹ میں برآمد کیے گئے۔ گوادر پرو کے مطابق 2016 اور 2020 کے درمیان، پاکستان نے ملک میں تیار کردہ موبائل فونز سے زیادہ موبائل فون درآمد کیے ہیں۔ تاہم 2021 میں، پہلی بار ملک میں تیار کردہ فونز کی تعداد درآمدی فونز کی تعداد سے تجاوز کر گئی، تجارتی طور پر درآمد کیے گئے 10.26 ملین فونز کے مقابلے میں 24.66 ملین فون مقامی طور پر اسمبل یا تیار کیے گئے۔ 2022 میں ملک نے 21.94 ملین فونز اسمبل یا تیار کیے، جبکہ درآمد شدہ فونز کی تعداد 1.53 ملین تک گر گئی۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
پاکستان کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد نے ایران کا دورہ کیا ، سیکرٹری دفاع جنرل(ر) محمود الزمان خان نے وفد کی قیادت کی ۔ پاکستانی وفد کا ایرانی نائب وزیردفاع نے استقبال کیا ۔ ایرانی نائب وزیر دفاع نے پاکستانی سیاسی اور عسکری قیادت کیلئے نیک خواہشات کااظہار کیا ۔سیکرٹری دفاع نے پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیا ، دو طرفہ تعلقات باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کے اصولوں پر استوار کرنے کا عزم کیا ، دونوں ممالک کے سرحدی محافظوں میں میری ٹائم کیلئے مفاہمی یادداشت پر دستخط کئے گئے ، معاہدہ پی ایم ایس اے اور ایرانی محافظوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرے گا ۔دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں ، سکیورٹی اور انسداد دہشتگردی اور علاقائی اقتصادی روابط کے فروغ کاعزم کیا گیا ۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
پاکستان اور ایران کے دوطرفہ سیاسی مشاورت کا 12 واں دور تہران میں منعقد ہوا جس میں دوطرفہ تعلقات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ۔ دفتر خارجہ کے مطابق سیکرٹری خارجہ ڈاکٹر اسد مجید خان اور ایران کے نائب وزیر خارجہ علی باغیری کنی نے دونوں ملکوں کی قیادت کی ، ملاقات میں دوطرفہ تجارت کو بڑھانے، متنوع بنانے اور توانائی، ٹرانسپورٹ روابط، تعلیم اور عوام سے عوام کے تبادلوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ ملاقات میں فریقین نے علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں قریبی تعاون کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ اقتصادی کمیشن اور مشترکہ تجارتی کمیٹی سمیت مختلف ادارہ جاتی میکانزم کے باقاعدہ اجلاس کی اہمیت پر زور دیا۔ فریقوں نے اقوام متحدہ، او آئی سی اور ای سی او سمیت کثیرالجہتی فورمز پر تعاون جاری رکھنے اور مشترکہ تشویش کے عالمی اور علاقائی مسائل پر بات چیت کو مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ سیکرٹری خارجہ نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کو معمول پر لانے کا خیرمقدم کیا ، انہوں نے اپنے ایرانی ہم منصب کو بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط پر جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی صورت حال سے آگاہ کیا اور کشمیر کاز کے لیے ایران کی ثابت قدم حمایت کو سراہا۔ سیکرٹری خارجہ نے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہ سے بھی ملاقات کی ، انہوں نے اعلی سطحی دوطرفہ تبادلوں کی موجودہ رفتار کو برقرار رکھنے اور مختلف شعبوں میں باہمی فائدہ مند تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ رکن پارلیمنٹ/چیئرمین پاکستان-ایران پارلیمانی فرینڈشپ گروپ احمد امیرآبادی فرحانی سے ساتھ الگ ملاقات میں دونوں فریقوں نے پارلیمانی تبادلوں کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ سیکرٹری خارجہ ڈاکٹر اسد مجید خان نے اکنامک کوآپریشن آرگنائزیشن (ای سی او )کے سیکرٹری جنرل خسرو نوزیری سے بھی ملاقات کی اور تنظیم کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا ، انہوں نے ای سی او کے رکن ممالک کے درمیان علاقائی رابطوں اور تجارتی فروغ کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ تہران میں سیکرٹری خارجہ نے معروف ایرانی تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ایرانی دانشوروں اور سکالرز سے بھی بات چیت کی جہاں انہوں نے خطے میں امن اور ترقی کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار پر روشنی ڈالی۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
ریلوے کی برانڈنگ کا منصوبہ وزارت ریلوے کی ذیلی کمپنی ریل کاپ کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے فلاپ ہوگیا،ٹینڈر میں ایک بھی کمپنی نہ آئی ،ریل کاپ کسی کمپنی کو بھی مطمئن نہ کرسکی، ریلوے نے مسافرٹرینوں اور ریلوے سٹیشنوں کی برانڈنگ کے لیے اشتہار دیا تھا ،وزیر ریلوے نے برانڈنگ کا اہم منصوبہ سرکاری ریل کمپنی ریل کوپ کے حوالے کیاتھا ، وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کی جانب سے کہاتھاکہ برانڈنگ سے ریلوے کو سالانہ اربوں روپے اضافی آمدن ہوگی اور اس پر ریلوے کا کوئی خرچ بھی نہیں آئے گا،ترجمان ریل کوپ کاکہناہے کہ ہم اس منصوبے کے لیے دوبارہ اشتہار دیں گے۔اس خبررساں ادارے کے مطابق وزیر ریلوے سعد رفیق نے ریلو ے کی آمدن بڑھانے کے لیے مسافر ٹرنیوں اور ریلوے سٹیشنوں پر اشتہار لگانے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا، جس میں مسافرگاڑیوں اور ریلوے سٹیشنوں کی برانڈنگ ہونی تھی ۔وزیر ریلوے کی طرف سے یہ اہم منصوبہ پاکستان ریلوے کی اپنی کمپنی ریل کاپ کو دیا گیا کہ وہ اس منصوبے پر کام کرے اور جلدازجلد اس کو شروع کرے ۔برانڈنگ کے لیے ابتدائی طور پر پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا گیا جس میں تین ریلوے سٹیشنوں اور کچھ مسافرٹرنیوں کو شامل کیاگیاتھا۔ریل کاپ نے اس حوالے سے اخبارات میں اشتہارات بھی دیئے اور لوگوں کو بھی بھرتی کیااب جب ٹینڈر کھولے گئے تو ایک بھی کمپنی ریلوے مسافر ٹرنیوں اور سٹیشنوں کی برانڈنگ کے منصوبے میں نہیں آئی، سب فرموں نے اس منصوبے پر اپنے تحفظات کا اظہارکیا۔ واضح رہے کہ پرائیویٹ سیکٹر میں برانڈنگ کی اربوں روپے کی مارکیٹ ہے مگر ریل کوپ کی ناقص منصوبہ بندی اور متعلقہ سیکٹر سے مشورہ نہ کرنے کی وجہ سے کوئی کمپنی اس میں شامل نہ ہوئی۔ ترجمان ریل کوپ نے اس حوالے سے موقف دیتے ہوئے کہاکہ ہم برانڈنگ کے لیے دوبارہ ٹینڈر کریں گے اور اس حوالے سے سامنے آنے والی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ یہ منصوبہ کامیاب ہو سکے۔(محمداویس)
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
وزیراعظم شہبازشریف کے اسحاق ڈار کے خلاف باتیں کرنے والوں کوپارٹی چھوڑنے کے بیان پر مسلم لیگ ن کے ارکان قومی اسمبلی بھی تقسیم ہوگئے ،کچھ نے بیان کی حمایت کی اور کچھ نے بیان کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ اسحاق ڈار بھی تو باتیں کرتے تھے اختلاف رائے کو برداشت کرناچاہیے۔ہفتہ کو قومی اسمبلی اجلاس میں وقفہ نماز کے دوران مسلم لیگ ن کے ارکان ہال کی پچھلی نشستوں پر بیٹھے تھے شہباز شریف کے بیان پر بحث کررہے تھے ایک بزرگ خاتون رکن نے شہباز شریف کے بیان کی مکمل حمایت کی تو ان کے پاس بیٹھے مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی نے ان کوٹوکتے ہوئے کہاکہ جب اسحاق ڈار وزیر خزانہ نہیں تھے تو وہ بھی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے خلاف باتیں کرتے تھے میڈیا پر بیان دیتے تھے نواز شریف کو غلط بریف کرتے تھے اس وقت ان کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیاگیا جو اب اسحاق ڈار پر تنقید کرنے والوں کے خلاف اس طرح کا بیان دیا ہے ۔سیاسی جماعت میں اختلاف رائے ہوتاہے اس کو ختم نہیںکرناچاہئے ہر ایک کو ساتھ ملاکر چلناچاہیے ۔وقفہ نماز کے دورن مسلم لیگ ن کے ارکان قومی اسمبلی کے درمیان شدید بحث ہوتی رہی ۔(محمداویس)
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
قومی اسمبلی کا اجلاس ارکان نے خوش گپیوں میں گزار ،بڑے دنوں بعد اپوزیشن رکن سائرہ بانو ایوان میں آئیں ،سائرہ بانو نے وزیر آبی وسائل خورشید شاہ اور وزیر دفاع خواجہ آصف سے ان کی نشست پر جاکر ملاقات کی،تقریر کے دوران جزباتی بھی ہوگئیں ،اجلاس میں ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ 28ارکان ایک وقت میں ایوان میں موجود تھے،ارکان اپنی تقریر کاانتظار کرتے تقریر کرتے ہی ایوان سے چلے جاتے،مولاناعبدالاکبرچترالی بجٹ تقریر کرنے کے باجود ایوان میں موجود رہے ۔پیر کوقومی اسمبلی کااجلا س سپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔اجلاس میں کئی دنون کے بعد جی ڈی اے کی رکن قومی اسمبلی سائرہ بانو آئیں سائرہ بانو ہوا کے لیے رائٹنگ پیڈ سے پنکھا چلاتی رہی،پی پی پی کی رکن شگفتہ جمانی تقریر مکمل کرنے کے بعد سائرہ بانو سے ان کی نشست پر ملیں اور دونوں مل کر وزیر آبی وسائل خورشید شاہ کے پاس آئیں اور سائرہ بانو نے خورشید شاہ سے بات کی اور واپس اپنی نشست پر چلی گئیں ،خورشید شاہ وزیر ایاز صادق کے پاس آئے اور ان سے ساتھ بیٹھ کر بات کرتے رہے اس کے بعد وزیر دفاع خواجہ آصف ،وزیر ایاز صادق اورطاہرہ اورنگزیب آپس میں گپ شپ کرتے رہے۔وفقہ نماز کے بعد اجلاس شروع ہوا تو وزیر دفاع خواجہ آصف کے پاس وزیر نوید قمر بیٹھ کر گہ شپ لگاتے رہے سائرہ بانو وزیر دفاع کے پاس نشست پر بیٹھ گئیں اور ان سے کچھ بات کی۔ریاض مزاری کے پاس جاکر خورشید جونیجو گپ شپ کرتے رہے۔مسلم لیگ ن کی خواتین ارکان نے پچھلی نشست پر اپنا اجلاس شروع کیئے رکھا ۔مسلم لیگ ق کی رکن فرحت خان نے سائرہ بانو کا نام لیے بغیر طنز کیاکہ وہ یہ سب کچھ سوشل میڈیا کے لیے کرتی ہیں تاکہ مشہور ہوجائیں ۔(محمداویس)
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے )نیشنل سینٹرل بیورو انٹرپول نے قتل کے مقدمے میں مطلوب ملزم کو کویت سے گرفتار کرکے گجرات پولیس کے حوالے کردیا۔ ایف آئی اے انٹرپول پاکستان نے قتل کے مقدمے میں مطلوب ملزم کے ریڈ نوٹس جاری کئے تھے، جس پر نیشنل سینٹرل بیورو انٹرپول نے کارروائی کرتے ہوئے قطر سے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ رپورٹ کے مطابق ملزم یار عمران کیخلاف قتل، اقدام قتل کے تحت مقدمہ درج تھا، ایف آئی اے امیگریشن حکام نے ملزم کو گجرات پولیس کے حوالے کردیا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثارکے بیٹے کی پارلیمانی کمیٹی میں طلبی کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی،عدالت نیاٹارنی جنرل کو 4 ہفتوں میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے کچھ سوالات اٹھائے تھے انکے جوابات کے لیے آپکو بلایا ہے، عدالت کا اٹارنی جنرل سے مکالمہ ،عدالت کا اٹارنی جنرل سے استفسار،کہا آپ کوعدالتی سوالات کے جواب دینے میں کتنا وقت چاہیے ہوگا؟ عدالت نے ریماکس میں کہا آپ کو چارہفتے کا ٹائم دیتے ہیں کچھ قانونی نکات ہیں ان پرآپکی معاونت چاہیے ہوگی ، اٹارنی جنرل نے کہا وفاقی حکومت نے مبینہ آڈیو لیکس کے معاملے پر کمیشن قائم کیا ،عدالت نے جو سوالات اٹھائیوہ سپریم کورٹ کے سامنے بھی ہیں،سپریم کورٹ نے بھی ان سوالات پر فیصلہ سنانا ہے۔ جسٹس بابر ستار نے ریماکس دئیے آپ ہمارے پانچ سوالات پر ہی معاونت کریں ،معاملہ بالآخر سپریم کورٹ میں ہی جانا ہے ، ہوسکتا ہے ہم کوئی فیصلہ دیں تو وہ سپریم کورٹ کے لیے معاونت ہو۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل کو چارہفتوں میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل جواب کی کاپیاں فریقین کو بھی فراہم کریں ۔ سابق چیف جسٹس کے بیٹے کی خصوصی کمیٹی میں طلبی کیخلاف حکم امتناع میں توسیع کردی گئی،بعدازاں عدالت نے درخواست پر سماعت 16 اگست تک ملتوی کردی۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
پاکستان تحریک انصاف کے شریک چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کا اتحاد بکھر رہا ہے، کل سے اس کی شروعات ہو چکی ہے، عملی طور پر یہ اتحاد ختم ہو چکا ہے، اب اعلان کرنا باقی ہے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں آج عدالت میں پیش ہوا، میرے وکیل علی بخاری تیار تھے، انویسٹی گیشن آفیسر تھوڑے سے کنفیوژ تھے، جو کشتی کا واقعہ ہوا اس میں 300 سے زائد پاکستانی ہلاک ہوئے، وزیراعظم نے سوگ کا اعلان کیا، درست کیا، انکوائری کیلئے کمیشن بنایا، ٹھیک بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پانگ ٹرم ہے؟ 300 گھرانوں کے حالات کو دیکھیں، گھر میں صف ماتم ہے اور یہ معلوم ہی نا ہو کہ آپ کا پیارا زندہ بھی ہے کہ نہیں، میں نے دفترخارجہ میں ایک سیکشن بنایا تھا جس کا کام 24/7 حالات سے باخبر رہنا تھا، آج 3 دن ہوگئے دفتر خارجہ خاموش ہے، حقائق نہیں بتائے جا رہے، میں سمجھتا ہوں دفتر خارجہ کو اس معاملے پر عوام کو آگاہ کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ میری ہمدردیاں لواحقین کے ساتھ ہیں، 3 دن سے اس جہاز کا انجن بند تھا، کسی نے نہیں دیکھا، میرے کلپس اور انٹرویوز موجود ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں نے کہا تھا پی ڈی ایم کا اتحاد بکھر رہا ہے، کل سے اس کی شروعات ہو چکی ہے، بلاول بھٹو نے کل سوات کے حوالے سے خدشات ظاہر کئے، سندھ کے بارے میں بلاول جو کہہ رہے ہیں ٹھیک کہہ رہے ہیں، بجٹ میں سندھ کی ایلوکیشن کے بارے میں تبصرہ کیوں نہیں ہوا، کائرہ صاحب جو کہہ رہے ہیں میں نے ان کی بات مانی لیکن ایسا نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کراچی کے میئر کے الیکشن میں ن لیگ نے پی پی پی کو 13 ووٹ کیوں دیئے، آج کا پڑھا لکھا نوجوان بیانات سے قائل نہیں ہوگا، ہم ہر حلقے میں امیدوار تیار کر رہے ہیں، ہر کسی کو اپنے امیدوار ڈھونڈنے کا حق ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
نگران وزیراعلی پنجاب محسن نقوی نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا دورہ کیا اور ہسپتال میں مریضوں کو فراہم کی جانے والی علاج معالجے کی سہولیات کا جائزہ لیا۔ محسن نقوی نے پی آئی سی کی ایمرجنسی وارڈ کا معائنہ کیا اور زیر علاج مریضوں کی عیادت اور خیریت دریافت کی، وزیراعلی نے مریضوں اور تیمارداروں سے پی آئی سی میں فراہم کردہ سہولتوں بارے استفسار کیا، محسن نقوی نے مریضوں سے بائی پاس اور انجیوگرافی کی سہولتوں بارے دریافت کیا۔ نگران وزیراعلی پنجاب نے پی آئی سی میں انجیو پلاسٹی گائیڈنگ کیتھیٹرز کی قلت کا نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری صحت کو انجیو پلاسٹی گائیڈنگ کیتھیٹرز کی فوری فراہمی کے لئے موقع پر ہی ہدایات دیں، محسن نقوی نے ہارٹ اٹیک کے مریضوں کے لئے پرائمری انجیو گرافی کی مہیا کی جانیوالی سہولیات کا جائزہ لیا اور پی آئی سی میں صفائی کے انتظامات کا بھی مشاہدہ کیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ رش کے باوجود ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف محنت سے دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروف ہے، پی آئی سی میں علاج معالجے کی سہولتوں کو مزید بہتر بنایا جائے گا، پی آئی سی میں انجیو پلاسٹی گائیڈنگ کیتھیٹرز کی کمی کو دور کرنے کیلئے سیکرٹری صحت کو ہدایات جاری کردی ہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
یونان کے قریب بحیرہ روم میں کشتی ڈوبنے سے پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے پر ملک بھر میں یوم سوگ منایا گیا ،قومی پرچم سرنگوں رہا ، جاں بحق افراد کیلئے خصوصی دعا کی گئی ۔ پیر کو وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر 14 جون کو یونان میں کشتی الٹنے کے حادثے پر قومی سوگ منایا گیا ، اس سلسلے میں قومی پرچم سرنگوں رہا ، جاں بحق ہونے والوں کیلئے خصوصی دعا کی گئی ۔دوسری طرف واقعے کی تحقیقات کے لئے 4 رکنی اعلی سطح کی کمیٹی بھی تشکیل دے دی، اعلی سطح کی کمیٹی یونان میں کشتی ڈوبنے کے تمام حقائق جمع کرے گی، کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ کمیٹی ایک ہفتے میں رپورٹ وزیراعظم شہبازشریف کو پیش کرے گی، واقعے میں ملوث ملزمان، کمپنیوں اورایجنٹوں کوسخت سزا کیلئے قانون سازی ہوگی۔ عالمی سطح پرمسئلے کے حل کیلئے تعاون اور اشتراک عمل کی تجاویزدی جائیں گی۔ انسانی اسمگلنگ کے پہلو کی تحقیق ہوگی اورذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔ کمیٹی کے چیئرمین ڈی جی نیشنل پولیس بیورو احسان صادق ہوں گے، وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری (افریقہ )جاوید احمد عمرانی، آزاد جموں و کشمیر پونچھ ریجن کے ڈی آئی جی سردار ظہیر احمد اور وزارت داخلہ کے جوائنٹ سیکرٹری (ایف آئی اے)فیصل نصیر بھی کمیٹی میں شامل ہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
تراهن الرياض وباريس على تحقيق نقلة نوعية في تعزيز الشراكات الموثوقة الآمنة، فضلًا عن السعي الجاد لتهدئة مستدامة للنزاعات في المنطقة وتعظيم سياسة تصفير الأزمات، والإسهام في بلورة بدائل مشتركة للتنمية ومكافحة الفقر والتغير المناخي ومجالات التعاون في الطاقة المتجددة والهيدروجين النظيف، وعززت المملكة الجهود الدولية في العمل لإنجاح اتفاقية باريس للمناخ 2015؛ من خلال إعلان ولي العهد عن مبادرتي “السعودية الخضراء” و”الشرق الأوسط الأخضر” في 2021.
يمكن اعتبار العلاقة السعودية – الفرنسية نموذجًا للشراكة الآمنة التي لا تتغير بل تزداد تعاظمًا مع مرور الوقت تتمّ مراجعتها على ضوء التجارب السابقة، والواقع الحاضر، والرؤية المستقبلية. والمملكة تنشد في تحالفاتها مع الدول احترام سيادتها واستقلال قرارها، وأولوية مصالحها وعدم التدخل في شؤونها أو إملاء أو فرض شروط، فضلًا عن المضي نحو ديمومة هذه الشراكة وفق المصالح المشتركة والندية . وبرز الحرص الدائم من الرئيس الفرنسي ماكرون على ديمومة العلاقة مع المملكة، ليس فقط على الصعيد الثنائي ولكن أيضًا في احتواء الأزمات واعتماد نهج مشترك للأزمات النفطية ومواجهة آثارها السلبية في الاقتصاد والاستقرار.
من هنا جاءت مخرجات لقاء صاحب السمو الملكي الأمير محمد بن سلمان؛ ولي العهد، مع الرئيس ماكرون منوعة؛ بدءًا من تعظيم الشراكة الموثوقة وتعزيز السلام والاستقرار في المنطقة إلى حلحلة مسار الحرب الأوكرانية الروسية إلى إنهاء الأزمة اللبنانية؛ حيث شدد بيان قصر الإليزيه على ضرورة وضع حد سريع للفراغ السياسي والمؤسساتي في لبنان الذي يشكل العقبة الحائلة دون إيجاد حل للأزمة الاجتماعية- الاقتصادية العميقة، فضلًا عن عدم السماح بتفاقم الوضع اللبناني والضغط من أجل إيجاد مخرج إنقاذي يمكن أن تتضح معالمه في الأسابيع القليلة القادمة.
وفي مواجهة عالم متغير ومضطرب تتجلى خصوصية العلاقة بين الرياض وباريس؛ إذ حرصت الأخيرة على التشبث بعلاقتها مع المملكة في الوقت الذي ابتعدت قوى غربية عنها؛ ما أحدث انقلابًا في التوازنات الجيوسياسية لصالح الصين وروسيا، وحرص الرئيس إيمانويل ماكرون على استمرار التقارب مع الرياض متجاهلًا توجهات إدارة بايدن بالابتعاد عن حلفائه الاستراتيجيين في المنطقة؛ حيث أضحت الشراكة الآمنة بين الرياض وباريس نموذجًا للشراكات طويلة الأمد التي تتعاظم مع مرور الوقت.
لفت الأنظار إبداء الرئيس ماكرون حرصه على إعادة تأكيد رغبة الشركات الفرنسية في مواكبة المملكة بمشاريعها الطموحة في إطار “رؤية 2030″، وأبرزها: مشاريع “الانتقال الطاقوي” وإنتاج الطاقة النظيفة الشمسية والهيدروجين والتقنيات الجديدة. ويبدو أن المجموعات والشركات الفرنسية التي زاد عددها ونشاطها داخل المملكة منذ زيارة ولي العهد في 2018 تتطلع أيضًا للاستثمار والتبادل في المجالات المتنوعة مثل: الأمن والدفاع.
ولم يكن سرًا طلب الرئيس ماكرون من سمو ولي العهد -بحسب ما ورد في الإعلام الفرنسي- بذل جهد خاص لدى الرئيس بوتين من أجل وقف الحرب مع أوكرانيا؛ كون الرئيس الفرنسي يعلم قوة ومكانة ولي العهد لدى الرئيس بوتين والرئيس الأوكراني فولوديمير زيلينسكي؛ ولإيجاد مخرج للنزاع وتكثيف التعاون من أجل خفض تأثيرات الحرب في أوروبا والشرق الأوسط.
لقد غابت فرنسا لفترة عن المنطقة العربية، ولكن يبدو أن هنالك تحولًا في قصر الإليزيه؛ حيث زادت الأهمية الاستراتيجية للمملكة بعد الحرب الأوكرانية وجاءت زيارة ولي العهد لفرنسا لمدة عشرة أيام لتكرس الطابع الخاص للعلاقات السعودية-الفرنسية استنادًا إلى شراكة استراتيجية متجذرة ومتنوعة، وأواصر من الثقة نسجها ولي العهد بحنكته وحكمته، خصوصًا أن باريس تعتبر الرياض “حليفًا وشريكًا وثيقًا” يلعب دورًا رئيسيًا في الحفاظ على الأمن والسلم الإقليمي واستقرار المنطقة.. وتجيء مشاركة المملكة بوفد رسمي برئاسة سمو ولي العهد الأمير محمد بن سلمان -في إطار زيارة العشرة أيام- في “القمة الفرنسية للتحالف المالي والعالم الجديد”، تلبية لدعوة من الرئيس الفرنسي ماكرون، يومي 22 و23 يونيو الجاري؛ نظرًا للثقل الاقتصادي النفطي السعودي بما يعكس الدور القيادي للمملكة ومكانتها وتأثيرها العالمي، وحرصها على التعاون مع فرنسا في التصدي للتحديات المشتركة لأمن واستقرار المنطقة والعالم.
وتُعقد القمة في مقر “منظمة التعاون والتنمية الاقتصادية” (OECD)؛ اذ يعوّل فيها الرئيس ماكرون على التعاون السعودي من أجل إصلاح النظام المالي الدولي (إصلاح بنوك التنمية متعددة الأطراف وأزمة الديون، وتمويل التكنولوجيا الخضراء) بعد مرور 80 عامًا على مؤتمر “بريتون وودز”.
وقد تتمخض القمة العالمية -بحسب مصادر فرنسية- عن إبرام اتفاقات للتصدي لعبء الديون المفرطة، وإتاحة الاستفادة من التمويلات الضرورية للمزيد من البلدان؛ بهدف الاستثمار في التنمية المستدامة، وحفظ الطبيعة بصورة أفضل، وخفض الانبعاثات الكربونية، وحماية السكان من الأزمات البيئية، وهي أهداف تدعمها المملكة وعكستها رؤية 2030، ومبادرتا “السعودية الخضراء” و”الشرق الأوسط الأخضر”.
وتقدّر المملكة تأييد فرنسا ترشح مدينة الرياض لاستضافة المعرض الدولي إكسبو 2030، ومن المقرر أن يشارك الأمير محمد بن سلمان في حفل استقبال المملكة الرسمي غدًا لترشح الرياض لاستضافة “إكسبو” المقرر عقده في العاصمة الفرنسية.
ويعكس هذا الدعم تنامي وتطور العلاقات والتعاون بين البلدين على جميع المستويات وفي مختلف المجالات.
ويتضح من برنامج زيارة الأيام العشرة للأمير محمد بن سلمان لفرنسا أن التعاون متعدد الأبعاد يضرب جذوره عميقًا بعلاقة تتجدد وصمدت على محك العواصف والتحولات.
وتعود العلاقات بين المملكة العربية السعودية وفرنسا إلى ما يقارب قرن كامل؛ حيث بدأت بوادرها عام 1926 عندما أرسلت باريس قنصلًا لدى السعودية، ثم إنشاء بعثة دبلوماسية في جدة عام 1932.
وتعتبر زيارة ولي العهد الحافلة إلى العاصمة الفرنسية هي الثالثة له منذ توليه مهامه، ويدلل ذلك على حيوية و”دينامية” العلاقات الاستراتيجية.
تم الإعلان في عام ٢٠٢٢ عن تأسيس “مجلس شراكة استراتيجية فرنسي- سعودي” لتعزيز أوجه التعاون في مجالات الطاقة وبناء السفن والفرقاطات في المملكة العربية السعودية.
وعكست زيارة سمو ولي العهد لفرنسا، ومشاركته في القمة الفرنسية للتحالف المالي والعالم الجديد، الدور القيادي للمملكة ومكانتها وتأثيرها العالمي، وحرصها على التعاون مع فرنسا في التصدي للتحديات المشتركة لأمن واستقرار المنطقة والعالم.
وتشترك المملكة وفرنسا في مواقفها وتوجهاتها حيال العديد من الملفات الإقليمية والدولية؛ ومنها: الملف اللبناني والملف السوداني.
ويتطلع البلدان إلى تعزيز الاستفادة من الفرص التي تتيحها رؤية المملكة 2030، والخطة الاقتصادية لفرنسا 2030؛ لتطوير وتعزيز الشراكة الاقتصادية بين البلدين في مجالات: الاستثمار المشترك، الصناعة، الطاقة، الثقافة والتراث، السياحة، التعليم، التقنية، الفضاء، الدفاع والأمن.. وغيرها من المجالات.
وتتوافق أهداف القمة الفرنسية للتحالف المالي والعالم الجديد مع جهود المملكة في مواجهة ظاهرة التغير المناخي؛ من خلال مبادراتها المتنوعة وفي مقدمتها: مبادرتا الشرق الأوسط الأخضر
والسعودية الخضراء، وتبنيها للاقتصاد الدائري للكربون، إضافة إلى التزامها بالعمل مع شركائها لإنجاح اتفاقية باريس للمن
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
اقوام متحدہ(شِنہوا)اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے یوگنڈا کے مغرب میں واقع ایک سیکنڈری اسکول پر مبینہ طور پر الائیڈ ڈیموکریٹک فورسز گروپ کی جانب سے کئے جانے والے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ یوگنڈا کے حکام نے کہا ہے کہ اے ڈی ایف کے باغیوں نے جمعہ کی رات ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (ڈی آر سی) کی سرحد پر واقع مپونڈوے میں لوبیریرا سیکنڈری اسکول پر حملہ کیا جس میں کم از کم 37 طالب علم ہلاک ہو گئیجبکہ کم از کم 8 طالب علموں کی حالت نازک ہے جبکہ 6 طالب علموں کو باغیوں نے یرغمال بنا لیا۔ یو این سیکر ٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق نے ایک بیان میں کہا کہ اس خوفناک حملے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکرٹری جنرل نے متاثرین کے اہل خانہ اور یوگنڈا کی حکومت اور عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور مغوی افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ انتونیو گوتریس نے ڈی آر سی اور یوگنڈا کے درمیان سرحد پار عدم تحفظ سے نمٹنے اور علاقے میں پائیدار امن کی بحالی کے لیے علاقائی شراکت داری سمیت مشترکہ کوششوں کی اہمیت کا اعادہ کیا۔
شی جیا ژوانگ(شِنہوا) چین کی سرحد پار ای کامرس درآمدات و برآمدات کی مالیت 2022 میں پہلی بار 20 کھرب یوآن (تقریبا280.55 ارب امریکی ڈالرز) سے تجاوز کرکے 21 کھرب یوآن تک پہنچ گئی جو 2021 کے مقابلے میں 7.1 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ رپورٹ چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمزنے چین کے شمالی صوبہ ہیبے کے شہر شی جیا ژوانگ میں 2023 چائنہ(لانگ فانگ) بین الاقوامی اقتصادی و تجارتی میلے کے دوران ایک فورم میں جاری کی۔ 2022 میں چین کی سرحد پار ای کامرس میں برآمدی مقامات میں امریکہ کا مارکیٹ میں حصہ 34.3 فیصد اور برطانیہ کا 6.5 فیصد تھا۔ اہم برآمدی اشیا میں کپڑے، جوتے، بیگ اور برقی مصنوعات شامل تھیں۔ 2022 میں چین کی مجموعی سرحد پار ای کامرس درآمدات میں جاپانی مصنوعات کا حصہ 21.7 فیصد تھا جبکہ امریکی مصنوعات کا حصہ 17.9 فیصد تھا۔ رپورٹ کے مطابق برآمدات میں اشیائے صرف 92.8 فیصد اور درآمدات میں 98.3 فیصد رہیں۔ جی اے سی کے ایک عہدیدار لیو ڈالیانگ نے کہا کہ اس سال کے آغاز سے چین کی سرحد پار ای کامرس نے اپنی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھا ہے۔ لیو نے کہاکہ جی اے سی کے ایک سرویکے مطابق 70 فیصد سے زیادہ کاروباری اداروں کو 2023 میں مستحکم یا بڑھتی ہوئی سرحد پار ای کامرس کی توقع ہے۔
شی جیا ژوانگ(شِنہوا) چین کی سرحد پار ای کامرس درآمدات و برآمدات کی مالیت 2022 میں پہلی بار 20 کھرب یوآن (تقریبا280.55 ارب امریکی ڈالرز) سے تجاوز کرکے 21 کھرب یوآن تک پہنچ گئی جو 2021 کے مقابلے میں 7.1 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ رپورٹ چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمزنے چین کے شمالی صوبہ ہیبے کے شہر شی جیا ژوانگ میں 2023 چائنہ(لانگ فانگ) بین الاقوامی اقتصادی و تجارتی میلے کے دوران ایک فورم میں جاری کی۔ 2022 میں چین کی سرحد پار ای کامرس میں برآمدی مقامات میں امریکہ کا مارکیٹ میں حصہ 34.3 فیصد اور برطانیہ کا 6.5 فیصد تھا۔ اہم برآمدی اشیا میں کپڑے، جوتے، بیگ اور برقی مصنوعات شامل تھیں۔ 2022 میں چین کی مجموعی سرحد پار ای کامرس درآمدات میں جاپانی مصنوعات کا حصہ 21.7 فیصد تھا جبکہ امریکی مصنوعات کا حصہ 17.9 فیصد تھا۔ رپورٹ کے مطابق برآمدات میں اشیائے صرف 92.8 فیصد اور درآمدات میں 98.3 فیصد رہیں۔ جی اے سی کے ایک عہدیدار لیو ڈالیانگ نے کہا کہ اس سال کے آغاز سے چین کی سرحد پار ای کامرس نے اپنی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھا ہے۔ لیو نے کہاکہ جی اے سی کے ایک سرویکے مطابق 70 فیصد سے زیادہ کاروباری اداروں کو 2023 میں مستحکم یا بڑھتی ہوئی سرحد پار ای کامرس کی توقع ہے۔
اسلام آباد(شِنہوا) انجیئنرعلی عدنان ضلع مانسہرہ میں واقع سکی کناری میں پن بجلی گھر منصوبے کا تقریبا ہر روز معائنہ کرتے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بناسکیں کہ صحت، حفاظت اور ماحولیاتی تحفظ کے ضابطوں پر مناسب طریقے سے عمل کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ بے شمار رکاوٹوں کے باوجود کام مقررہ وقت سے زیادہ تیز رفتاری سے مکمل ہوا ہے۔ 36 سالہ عدنان سکی کناری میں صحت، تحفظ اور ماحولیات انجینئر کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔ وہ 2017 میں تعمیر کے آغاز سے چین پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک) فریم ورک کے تحت اس سب سے بڑے پن بجلی گھر منصوبہ کا حصہ رہے ہیں۔ سکی کناری ایک ڈائیورژن قسم کا پن بجلی گھر منصوبہ ہے جس میں اوپری اونچائی اور طویل سرنگ ہے۔اس منصوبے کے اہم ڈھانچوں میں ڈیم، اسپل وے، بجلی کی کھپت، اوپری سرنگ، اضافی شافٹ ، پین اسٹاک، زیر زمین بجلی گھر ، نچلی سرنگ اور رسائی سرنگ شامل ہیں۔ یہ منصوبہ 4 پیلٹن ٹربائن جنریٹر یونٹس سے لیس ہے جس میں ہرایک کی صلاحیت 221 میگاواٹ جبکہ مجموعی تنصیب شدہ صلاحیت 873.5 میگاواٹ ہے۔ جدید ترین بنیادی ڈھانچے کو زیادہ سے زیادہ حفاظت، کم لاگت اور صاف سبز توانائی کی پیداوار یقینی بنانے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ڈیم کے سائٹ انجینئر جعفر کاظمی نے بتایا کہ پاکستان میں پہلی بار مقامی پتھروں اور مٹی کا استعمال کرتے ہوئے "راک فل" ڈیم تعمیر کیا گیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی نے حفاظت کو بہتر بنانے کے ساتھ مجموعی لاگت کو بھی کم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کنکریٹ ڈیم میں پانی کے لئے رکاوٹیں لگانی پڑتی ہیں جو عام طور پر رسا کا سبب بنتی ہیں تاہم نشیبی علاقے میں ایک "راک فل" ڈیم میں نکاسی آب کا نظام حفاظتی دیوار کا کام کرتا ہے۔ اگر کوئی رسا یا دراڑ ظاہر ہوتی ہیتو وہ کنٹرول سیکشن اور اسفالٹ میں آسکتی ہے۔ اس سے ڈیم پر کوئی اثر نہیں پڑیگا کیونکہ اگر ان سے کو ئی پانی بہتا ہے تو یہ نکاسی آب کے نظام میں چلاجاتا ہے۔ اس منصوبے سے سالانہ 3.212 ارب کلو واٹ آور بجلی پیدا ہونے کی توقع ہے۔ ایک بار پیداوار شروع ہونے کے بعد اس سے سالانہ 12 لاکھ 80 ہزار ٹن معیاری کوئلے کی بچت ہو گی اور 32 لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج کم ہوگا ۔ صاف اور سبز توانائی والے ہائیڈرو پاور پلانٹ کو مزید ماحول دوست بنانے کیلئے چینی کمپنی ارد گرد کے علاقے میں بہت زیادہ درخت لگانے کے خصوصی اقدامات کر رہی ہے اور اسکے ساتھ ساتھ دریا کے پانی کو آلودگی سے پاک اور صاف و شفاف رکھنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہی ہے۔
اسلام آباد(شِنہوا) انجیئنرعلی عدنان ضلع مانسہرہ میں واقع سکی کناری میں پن بجلی گھر منصوبے کا تقریبا ہر روز معائنہ کرتے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بناسکیں کہ صحت، حفاظت اور ماحولیاتی تحفظ کے ضابطوں پر مناسب طریقے سے عمل کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ بے شمار رکاوٹوں کے باوجود کام مقررہ وقت سے زیادہ تیز رفتاری سے مکمل ہوا ہے۔ 36 سالہ عدنان سکی کناری میں صحت، تحفظ اور ماحولیات انجینئر کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔ وہ 2017 میں تعمیر کے آغاز سے چین پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک) فریم ورک کے تحت اس سب سے بڑے پن بجلی گھر منصوبہ کا حصہ رہے ہیں۔ سکی کناری ایک ڈائیورژن قسم کا پن بجلی گھر منصوبہ ہے جس میں اوپری اونچائی اور طویل سرنگ ہے۔اس منصوبے کے اہم ڈھانچوں میں ڈیم، اسپل وے، بجلی کی کھپت، اوپری سرنگ، اضافی شافٹ ، پین اسٹاک، زیر زمین بجلی گھر ، نچلی سرنگ اور رسائی سرنگ شامل ہیں۔ یہ منصوبہ 4 پیلٹن ٹربائن جنریٹر یونٹس سے لیس ہے جس میں ہرایک کی صلاحیت 221 میگاواٹ جبکہ مجموعی تنصیب شدہ صلاحیت 873.5 میگاواٹ ہے۔ جدید ترین بنیادی ڈھانچے کو زیادہ سے زیادہ حفاظت، کم لاگت اور صاف سبز توانائی کی پیداوار یقینی بنانے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ڈیم کے سائٹ انجینئر جعفر کاظمی نے بتایا کہ پاکستان میں پہلی بار مقامی پتھروں اور مٹی کا استعمال کرتے ہوئے "راک فل" ڈیم تعمیر کیا گیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی نے حفاظت کو بہتر بنانے کے ساتھ مجموعی لاگت کو بھی کم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کنکریٹ ڈیم میں پانی کے لئے رکاوٹیں لگانی پڑتی ہیں جو عام طور پر رسا کا سبب بنتی ہیں تاہم نشیبی علاقے میں ایک "راک فل" ڈیم میں نکاسی آب کا نظام حفاظتی دیوار کا کام کرتا ہے۔ اگر کوئی رسا یا دراڑ ظاہر ہوتی ہیتو وہ کنٹرول سیکشن اور اسفالٹ میں آسکتی ہے۔ اس سے ڈیم پر کوئی اثر نہیں پڑیگا کیونکہ اگر ان سے کو ئی پانی بہتا ہے تو یہ نکاسی آب کے نظام میں چلاجاتا ہے۔ اس منصوبے سے سالانہ 3.212 ارب کلو واٹ آور بجلی پیدا ہونے کی توقع ہے۔ ایک بار پیداوار شروع ہونے کے بعد اس سے سالانہ 12 لاکھ 80 ہزار ٹن معیاری کوئلے کی بچت ہو گی اور 32 لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج کم ہوگا ۔ صاف اور سبز توانائی والے ہائیڈرو پاور پلانٹ کو مزید ماحول دوست بنانے کیلئے چینی کمپنی ارد گرد کے علاقے میں بہت زیادہ درخت لگانے کے خصوصی اقدامات کر رہی ہے اور اسکے ساتھ ساتھ دریا کے پانی کو آلودگی سے پاک اور صاف و شفاف رکھنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہی ہے۔
اسلام آباد(شِنہوا) انجیئنرعلی عدنان ضلع مانسہرہ میں واقع سکی کناری میں پن بجلی گھر منصوبے کا تقریبا ہر روز معائنہ کرتے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بناسکیں کہ صحت، حفاظت اور ماحولیاتی تحفظ کے ضابطوں پر مناسب طریقے سے عمل کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ بے شمار رکاوٹوں کے باوجود کام مقررہ وقت سے زیادہ تیز رفتاری سے مکمل ہوا ہے۔ 36 سالہ عدنان سکی کناری میں صحت، تحفظ اور ماحولیات انجینئر کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔ وہ 2017 میں تعمیر کے آغاز سے چین پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک) فریم ورک کے تحت اس سب سے بڑے پن بجلی گھر منصوبہ کا حصہ رہے ہیں۔ سکی کناری ایک ڈائیورژن قسم کا پن بجلی گھر منصوبہ ہے جس میں اوپری اونچائی اور طویل سرنگ ہے۔اس منصوبے کے اہم ڈھانچوں میں ڈیم، اسپل وے، بجلی کی کھپت، اوپری سرنگ، اضافی شافٹ ، پین اسٹاک، زیر زمین بجلی گھر ، نچلی سرنگ اور رسائی سرنگ شامل ہیں۔ یہ منصوبہ 4 پیلٹن ٹربائن جنریٹر یونٹس سے لیس ہے جس میں ہرایک کی صلاحیت 221 میگاواٹ جبکہ مجموعی تنصیب شدہ صلاحیت 873.5 میگاواٹ ہے۔ جدید ترین بنیادی ڈھانچے کو زیادہ سے زیادہ حفاظت، کم لاگت اور صاف سبز توانائی کی پیداوار یقینی بنانے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ڈیم کے سائٹ انجینئر جعفر کاظمی نے بتایا کہ پاکستان میں پہلی بار مقامی پتھروں اور مٹی کا استعمال کرتے ہوئے "راک فل" ڈیم تعمیر کیا گیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی نے حفاظت کو بہتر بنانے کے ساتھ مجموعی لاگت کو بھی کم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کنکریٹ ڈیم میں پانی کے لئے رکاوٹیں لگانی پڑتی ہیں جو عام طور پر رسا کا سبب بنتی ہیں تاہم نشیبی علاقے میں ایک "راک فل" ڈیم میں نکاسی آب کا نظام حفاظتی دیوار کا کام کرتا ہے۔ اگر کوئی رسا یا دراڑ ظاہر ہوتی ہیتو وہ کنٹرول سیکشن اور اسفالٹ میں آسکتی ہے۔ اس سے ڈیم پر کوئی اثر نہیں پڑیگا کیونکہ اگر ان سے کو ئی پانی بہتا ہے تو یہ نکاسی آب کے نظام میں چلاجاتا ہے۔ اس منصوبے سے سالانہ 3.212 ارب کلو واٹ آور بجلی پیدا ہونے کی توقع ہے۔ ایک بار پیداوار شروع ہونے کے بعد اس سے سالانہ 12 لاکھ 80 ہزار ٹن معیاری کوئلے کی بچت ہو گی اور 32 لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج کم ہوگا ۔ صاف اور سبز توانائی والے ہائیڈرو پاور پلانٹ کو مزید ماحول دوست بنانے کیلئے چینی کمپنی ارد گرد کے علاقے میں بہت زیادہ درخت لگانے کے خصوصی اقدامات کر رہی ہے اور اسکے ساتھ ساتھ دریا کے پانی کو آلودگی سے پاک اور صاف و شفاف رکھنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہی ہے۔
بیجنگ(شِنہوا)ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف چائنہ نے رواں سال کے ابتدائی 5 ماہ کے دوران غیر ملکی تجارت میں تعاون کے لئے 730 ارب یوآن (102.4 ارب امریکی ڈالر) سے زائد کا قرض جاری کیا۔ بینک نے بتایا کہ یہ قرض گزشتہ برس کی اسی مدت کی نسبت 15.8 فیصد زائد ہے۔ مئی کے اختتام تک بینک کے غیر ملکی تجارتی اداروں پر واجب الادا قرضے تقریبا 30 کھرب یوآن تک پہنچ گئے تھے جو گزشتہ برس کی نسبت 16.36 فیصد اور 2023 کے آغاز کے مقابلے میں 130 ارب یوآن زائد ہے۔ بینک نے گزشتہ دو برس کے دوران غیر ملکی تجارتی کمپنیوں اور متعلقہ صنعتی و سپلائی چین خاص طور پر چھوٹے اور مائیکرو تجارتی اداروں کے لئے مالی تعاون میں اضافہ کیا ہے۔ گزشتہ ماہ کے اختتام تک اس کا بیلٹ اینڈ روڈ بارے واجب الادا قرض بھی 22 کھرب یوآن سے زائد ہوچکا ہے۔ چائنہ ایگزم بینک ایک ریاستی مالی اعانت اور ریاستی ملکیتی پالیسی بینک ہے جو چین کی غیر ملکی تجارت، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون میں تعاون کرتا ہے۔
کن منگ (شِنہوا) فرانسیسی سفارت کار آگسٹے فرانسوا 1899 میں چین کے جنوب مغربی صوبہ یون نان کے شہر کن منگ آئے تھے۔ شہر میں 5 برس قیام کے دوران انہوں نے اپنے 7 کیمروں سے ہزاروں تصاویر بنائیں۔ تقریبا ایک صدی بعد، چینی فوٹوگرافر ین شیا جون کی کوششوں سے ان میں سے کچھ تصاویر، 1896 سے 1925 تک بنائی گئی تصاویر کے ساتھ 2017 میں چین میں شائع ہوئی تھیں۔ کن منگ کے تاریخی مقامات کی ان 12 پرانی تصاویر اور شِنہوا فوٹوگرافرز کی بنائی گئی تصاویر کے درمیان فرق سے اب لوگوں کو گزشتہ صدی کے دوران شہر میں ہونے والی تبدیلیوں کی ایک جھلک دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔
بیجنگ(شِنہوا)چین کے اعلی اقتصادی منصوبہ ساز نے رواں سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران 70 مقرر کردہ اثاثہ جات سرمایہ کاری (ایف اے آئی) منصوبوں کی منظوری دی جس میں مجموعی طور پر 667.2 ارب یوآن(تقریبا93.59 ارب امریکی ڈالرز) کی سرمایہ کاری کی گئی۔ نیشنل ڈیویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن کے مطابق یہ منصوبے بنیادی طور پر ہائی ٹیک، توانائی اور نقل و حمل کی صنعتوں میں تھے۔ اعداد و شمار کے مطابق صرف مئی میں 288.8 ارب یوآن مالیت کے 14 ایف اے آئی منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ قومی ادارہ برائے شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق چین کی معیشت کے محرک میں سے ایک مقرر کردہ اثاثوں کی سرمایہ کاری میں جنوری سے مئی کے عرصے کے دوران 4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
بیجنگ(شِنہوا) سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مئی کے مہینے کے دوران چین کی بجلی کی پیداوار میں گزشتہ سال کی نسبت 5.6 فیصد اضافہ ہوا۔ قومی ادارہ برائے شماریات(این بی ایس) کے مطابق گزشتہ ماہ بجلی کی مجموعی پیداوار 688.6 ارب کلو واٹ گھنٹے تک پہنچ گئی۔ مئی میں تھرمل پاور کی پیداوار میں گزشتہ سال کی نسبت 15.9 فیصد اضافہ ہوا جبکہ نیوکلیئر پاور کی پیداوار میں ایک سال قبل کے مقابلے میں 6.3 فیصد اضافہ ہوا۔ این بی ایس کے اعداد و شمار کے مطابق ہوا سے بجلی کی پیداوار میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 15.3 فیصد اضافہ ہوا جبکہ شمسی توانائی کی پیداوار میں 0.1 فیصد اضافہ ہوا۔ این بی ایس کے مطابق 2023 کے پہلے پانچ ماہ کیدوران بجلی کی مجموعی پیداوار گزشتہ سال کی نسبت 3.9 فیصد اضافے کے ساتھ 34.2 کھرب کلو واٹ گھنٹے رہی۔
گوانگ ژو (شِنہوا) گوانگ ژو کی تاریخ 2 ہزار سال سے زائد پرانی ہے۔ یہ شہر قدیم زمانے سے چینی اور غیر ملکی ثقافتوں کے درمیان ثقافتی انضمام کا مرکز رہا ہے۔ اس نے چینی ثقافت کے ساتھ کھلے پن کی جا معیت کو ظاہر ہے۔
ہوہوٹ(شِنہوا) چین کے شمالی اندرون منگولیا خود اختیار خطے میں ریگستانی اور ریت کی چھٹی سرکاری نگرانی کے نئے جاری کردہ نتائج کے مطابق اس خطے میں صحرائی اور ریتلے رقبے میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔ خطے کا چھٹا نگرانی کا عمل جولائی 2019 میں شروع ہوا اور 2021 کے آخر میں مکمل ہوا۔ شعبہ علاقائی جنگلات اور سبزہ زار کے ڈپٹی ڈائریکٹر ما چھیانگ نے کہا کہ پانچویں نگرانی کے نتائج کے مقابلے میں اندرون منگولیا میں صحرائی اور ریتلے رقبے میں بالترتیب 2 کروڑ 41 لاکھ 50 ہزار مو(تقریبا 16 لاکھ 10 ہزار ہیکٹر) اور 1 کروڑ 45 لاکھ 90 ہزار مو کی کمی ہوئی ہے جو اوسطا سالانہ 48 لاکھ 30 ہزار مو اور 29 لاکھ 20 ہزار مو کمی ہے۔ اسی دوران انتہائی ریتلی زمین کے رقبے میں 1 کروڑ 59 لاکھ 10 ہزار مو کی کمی ہوئی اور شدید ترین ریتلی زمین میں 1 کروڑ 85 لاکھ 10 ہزار مو کی کمی ہوئی۔ ما نے کہا کہ انتہائی ریتلی زمین کی کا 2 کروڑ 19 لاکھ 90 ہزار مو اور شدید ریتلی زمین کا 3 کروڑ 23 لاکھ 1 ہزار مو کم ہوا۔ چین کے اندرون منگولیا میں 4 بڑے ریگستان اور چار بڑے ریتلے علاقے واقع ہیں۔ علاقے میں طویل عرصے سے ریگستان اور ریتلے رقبے میں اضافے کا سلسلہ جاری تھا جس کے سبب حالیہ برسوں میں اس میں خطے میں شجرکاری کی کوششیں تیز کی گئی ہیں۔ اس وقت خطے کی ریتلی زمینوں میں کاشتکاری بہتر ہوئی ہے جبکہ علاقے کے 4 بڑے ریگستان اور 4 ریتلی زمینوں میں صورتحال قابو میں ہے۔