• Columbus, United States
  • |
  • ٣٠ اگست، ٢٠٢٥

شِنہوا پاکستان سروس | بیلٹ-اینڈ-روڈ-پہل

چینی صدر کا عالمی انسانی حقوق حکمرانی فورم ک...

بیجنگ (شِنہوا) چین کے صدر شی جن پھنگ نے عالمی انسانی حقوق حکمرانی کے فورم  کو مبارکباد کا خط بھیجا ہے۔

چینی صدر شی نے خط میں کہا کہ عالمی انسانی حقوق حکمرانی کو درپیش سنگین چیلنجز کے سبب چین تمام ممالک پر زور دیتا ہے کہ وہ سلامتی کے ساتھ انسانی حقوق کے تحفظ، تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں۔ اس کے علاوہ پرامن ترقی کے راستے پر چلیں اور گلوبل سیکیورٹی انیشی ایٹو کو عملی جامہ پہنائیں۔

انہوں نے کہا کہ چین ترقی کے ساتھ انسانی حقوق کو فروغ دینے، گلوبل ڈیویلپمنٹ انیشی ایٹو کو عملی جامہ پہنانے اور تمام ممالک کے عوام کو ان کی اپنی خصوصیات کے مطابق جدید خطوط پر انسانی حقوق کے منصفانہ حق دینے کا حامی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین باہمی احترام اور مساوات کے جذبے سے تعاون کے ساتھ انسانی حقوق کو فروغ دینے، عالمی تہذیبی اقدام کو عملی جامہ پہنانے اور تہذیبوں کے درمیان تبادلوں اور باہمی سیکھنے کو گہرا کرنے کا حامی ہے۔

شی نے زور دیا کہ عوام کو سب سے مقدم رکھتے ہوئے چین نے انسانی حقوق کی ترقی کا ایک ایسا راستہ چنا جو وقت کے رجحان کی پیروی کرتا اور اس کے قومی حالات کے مطابق ہے۔ یہ چینی جدیدیت کو آگے بڑھانے میں انسانی حقوق کے تحفظ کو مستحکم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین ویانا اعلامیہ اور پروگرام آف ایکشن میں درج اصولوں پر عمل کرنے، عالمی انسانی حقوق حکمرانی میں زیادہ سے زیادہ شفافیت، انصاف، منطق اور شمولیت پر زور دینے اور مشترکہ مستقبل کے ساتھ انسانی معاشرے کے فروغ کے لئے باقی دنیا کے ساتھ ملکر کام کرنے کو تیار ہے۔

فورم بدھ سے بیجنگ میں شروع ہوا ہے۔ جس کا موضوع "مساوات، تعاون اور ترقی، ویانا اعلامیہ کی 30 ویں سالگرہ اور عملدرآمد پروگرام وعالمی انسانی حقوق کی حکمرانی" ہے۔ ریاستی کونسل کا اطلاعات دفتر ، وزارت خارجہ اور چائنہ بین الاقوامی ترقی تعاون ایجنسی فورم کی مشترکہ میزبانی کررہی ہے۔

 
۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

" ڈی رسکنگ" حقیقی مغربی خطرات کو اہداف بنائے

بیجنگ (شِنہوا) امریکی قیادت میں چند ترقی یافتہ ممالک نے چین کو نشانہ بنانے کے لیے "ڈی کپلنگ" کی جگہ "ڈی رسکنگ" کا استعمال کیا۔ وہ جو کچھ کرنا چاہتے ہیں اس سے بہت کم فرق پڑا ہے۔

ایک معروضی تجزیہ یہ ثابت کرتا ہے ان کی نام نہاد "ڈی رسکنگ" تجویز غیر منطقی اور ناقابل عمل ہے۔

جب "ڈی رسکنگ" کی بات آتی ہے تو سب سے پہلے خطرات کا پتہ لگانا چاہئے۔ امن، خوشحالی اور انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے بہت سے حقیقت پسندانہ اور فوری خطرات ان ممالک سے پیدا ہوتے ہیں جو چین مخالف بیانیے کی ترویج کرتے ہیں اور یہ حقیقی خطرات ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔

عراق جیسے ممالک پر مغربی فوجی حملوں کے ہولناک نتائج کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور گزشتہ دہائیوں میں بعض طاقتوں نے دوسروں کی دہلیز پر بار بار اشتعال انگیز فوجی قوت کا مظاہرہ کیا جس سے ان کی سرزمین سے ہزاروں میل دور دنیا کے لئے سنگین خطرات پیدا ہوئے۔

صرف گزشتہ برس ہی امریکہ نے بحیرہ جنوبی چین اور اس کے اطراف میں متعدد بار طیارہ بردار بحری جہاز بھیجے اور اس کے بڑے جاسوس طیاروں نے چین کی جاسوسی کے لیے 800 سے زائد پروازیں کیں۔

امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا سہ فریقی جنوبی سلامتی شراکت داری اور اس سے متعلقہ جوہری آبدوزوں میں تعاون سے جوہری پھیلاؤ کے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں اور یہ خطہ ہتھیاروں کی دوڑ کا میدان بن سکتا ہے۔

اس طرح کے خطرناک اقدام نے علاقائی ممالک میں شدید تشویش پیدا کردی ہے۔ "تائیوان کی آزادی" کے علیحدگی پسندوں کے لئے غیر ملکی افواج کا تعاون اور ملی بھگت آبنائے تائیوان میں امن اور استحکام کو خطرے میں ڈالتی ہے۔

مغربی سیاست دان خود پر غور کریں اور علاقائی اور عالمی امن کے لئے خطرہ بننے والے اپنے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کی روک تھام کریں۔

معاشی نقطہ نگاہ سے نام نہاد "ڈی رسکنگ" کا مطلب گلوبلائزیشن سے انکار ہے۔ بعض ممالک کا دعویٰ ہے کہ وہ چین کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کو محدود کریں گے۔

2001 میں عالمی تجارتی تنظیم میں شمولیت کے بعد سے چینی معیشت نے بڑے پیمانے پر خود کو عالمی معیشت سے مربوط کیا ہے۔ بین الاقوامی صنعتی ڈویژن کی ترقی کے ساتھ  کوئی بھی ملک تمام شعبوں میں بالادستی قائم نہیں رکھ سکتا اور تمام سامان اکیلے پیدا نہیں کرسکتا ہے۔

امریکہ نے ہواوے اور دیگر چینی ٹیکنالوجیز اداروں  کو دبانے کے لیے بار بار سرکاری طاقت  کا استعمال کیا۔

تجارت و سائنس ٹیکنالوجی مسائل کو سیاسی رنگ دینے اور دوسرے ممالک کے اداروں کو دبانے کے لئے قومی سلامتی کے تصور کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے اقدامات عالمی صنعتی اور سپلائی چین کو غیر مستحکم کرتے ہیں۔

 
۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

فلسطینی صدر کی چین آمد دونوں ممالک کے مابین...

بیجنگ (شِنہوا) چین کے وزیر خارجہ چھن گانگ نے بیجنگ میں فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی سے ملاقات کی ہے۔ المالکی فلسطینی صدر محمود عباس کے ہمراہ 13 سے 16 جون تک چین کے سرکاری دورے پر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صدر عباس پہلے عرب سربراہ مملکت ہیں جن کی رواں سال  چین میں میزبانی کی گئی  جو دونوں ممالک کے درمیان خصوصی دوستی اور فلسطین کے منصفانہ مقصد کے لیے چین کی حمایت کا وا ضح ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ دونوں سربراہان مملکت مستقبل میں دوطرفہ تعلقات کی ترقی کی منصوبہ بندی کریں گے اور روایتی دوستی کو اعلیٰ سطح پر لے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ چین نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے جائز قومی حقوق کی بحالی کے منصفانہ مقصد کی بھرپور حمایت کی ہے اور فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات کی حمایت جاری رکھے گا اور مسئلہ فلسطین کے حل میں دانشمندی کا کردار ادا کرتا رہے گا۔

المالکی نے کہا کہ چین ایک قابل اعتماد اور پائیدار دوست ہے اور فلسطین مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے چین کے سربراہ مملکت کی طرف سے پیش کردہ تجاویز کو سراہتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین ون چائنہ پالیسی پر عمل پیرا ہے اور چین کے بنیادی مفادات سے متعلق امور پر چین کی حمایت جاری رکھے گا۔

 
۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

فلسطینی صدر کی چین آمد دونوں ممالک کے مابین...

بیجنگ (شِنہوا) چین کے وزیر خارجہ چھن گانگ نے بیجنگ میں فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی سے ملاقات کی ہے۔ المالکی فلسطینی صدر محمود عباس کے ہمراہ 13 سے 16 جون تک چین کے سرکاری دورے پر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صدر عباس پہلے عرب سربراہ مملکت ہیں جن کی رواں سال  چین میں میزبانی کی گئی  جو دونوں ممالک کے درمیان خصوصی دوستی اور فلسطین کے منصفانہ مقصد کے لیے چین کی حمایت کا وا ضح ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ دونوں سربراہان مملکت مستقبل میں دوطرفہ تعلقات کی ترقی کی منصوبہ بندی کریں گے اور روایتی دوستی کو اعلیٰ سطح پر لے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ چین نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے جائز قومی حقوق کی بحالی کے منصفانہ مقصد کی بھرپور حمایت کی ہے اور فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات کی حمایت جاری رکھے گا اور مسئلہ فلسطین کے حل میں دانشمندی کا کردار ادا کرتا رہے گا۔

المالکی نے کہا کہ چین ایک قابل اعتماد اور پائیدار دوست ہے اور فلسطین مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے چین کے سربراہ مملکت کی طرف سے پیش کردہ تجاویز کو سراہتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین ون چائنہ پالیسی پر عمل پیرا ہے اور چین کے بنیادی مفادات سے متعلق امور پر چین کی حمایت جاری رکھے گا۔

 
۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

چینی و فلسطینی صدور کی ملاقات،دوطرفہ تعلقات...

بیجنگ(شِنہوا)چین کے صدر شی جن پھنگ نے بدھ کو بیجنگ میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کی۔

صدر شی نے محمودعباس کے دورہ چین کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے گزشتہ سال کے آخر میں سعودی عرب کے شہر ریاض میں پہلی چین-عرب ریاستوں کے سربراہ اجلاس میں ان کی مشترکہ شرکت اور دو طرفہ ملاقات کا ذکر کیا جس کے دوران کئی اہم مشترکہ مفاہمتیں طے پائی تھیں۔

چینی صدر شی نے مارچ میں چینی صدر کے طور پر دوبارہ منتخب ہونے پر تہنیتی خط بھیجنے پر محمودعباس کا شکریہ ادا کیا۔ شی جن پھنگ نے کہا کہ محمودعباس اس سال چین کے پہلے  مہمان عرب سربراہ مملکت ہیں اور یہ دورہ چین-فلسطین تعلقات کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔

شی جن پھنگ نے زور دے کر کہا کہ چین اور فلسطین اچھے دوست اور اچھے شراکت دار ہیں جو ایک دوسرے پر بھروسہ اور حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین فلسطین لبریشن آرگنائزیشن اور ریاست فلسطین کو تسلیم کرنے والے اولین ممالک میں سے ایک ہے اور اس نے فلسطینی عوام کے جائز قومی حقوق کی بحالی کے لیے بھرپور حمایت کی ہے۔

صدر شی نے کہا کہ دنیا میں بے مثال تبدیلیوں اور مشرق وسطیٰ میں ہونے والی نئی پیش رفتوں کا سامنا کرتے ہوئے چین فلسطین کے ساتھ ہم آہنگی اور تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے اور وہ جلد از جلد فلسطین کے مسئلے کے جامع، منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے کام کرے گا۔

دونوں صدور نے مشترکہ طور پر چین اور فلسطین کے درمیان سٹرٹیجک شراکت داری کے قیام کا اعلان کیا۔

چینی صدرشی نے کہا کہ سٹرٹیجک شراکت داری کا قیام دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ہے جو ماضی کی کامیابیوں پر استوار ہے اور ایک روشن مستقبل کی نوید دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین فلسطین کے ساتھ تمام شعبوں میں دوطرفہ دوستی اور تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے کام کرنے کے اس موقع سے استفادہ  کرے گا۔

 
۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

چینی و فلسطینی صدور کی ملاقات،دوطرفہ تعلقات...

بیجنگ(شِنہوا)چین کے صدر شی جن پھنگ نے بدھ کو بیجنگ میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کی۔

صدر شی نے محمودعباس کے دورہ چین کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے گزشتہ سال کے آخر میں سعودی عرب کے شہر ریاض میں پہلی چین-عرب ریاستوں کے سربراہ اجلاس میں ان کی مشترکہ شرکت اور دو طرفہ ملاقات کا ذکر کیا جس کے دوران کئی اہم مشترکہ مفاہمتیں طے پائی تھیں۔

چینی صدر شی نے مارچ میں چینی صدر کے طور پر دوبارہ منتخب ہونے پر تہنیتی خط بھیجنے پر محمودعباس کا شکریہ ادا کیا۔ شی جن پھنگ نے کہا کہ محمودعباس اس سال چین کے پہلے  مہمان عرب سربراہ مملکت ہیں اور یہ دورہ چین-فلسطین تعلقات کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔

شی جن پھنگ نے زور دے کر کہا کہ چین اور فلسطین اچھے دوست اور اچھے شراکت دار ہیں جو ایک دوسرے پر بھروسہ اور حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین فلسطین لبریشن آرگنائزیشن اور ریاست فلسطین کو تسلیم کرنے والے اولین ممالک میں سے ایک ہے اور اس نے فلسطینی عوام کے جائز قومی حقوق کی بحالی کے لیے بھرپور حمایت کی ہے۔

صدر شی نے کہا کہ دنیا میں بے مثال تبدیلیوں اور مشرق وسطیٰ میں ہونے والی نئی پیش رفتوں کا سامنا کرتے ہوئے چین فلسطین کے ساتھ ہم آہنگی اور تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے اور وہ جلد از جلد فلسطین کے مسئلے کے جامع، منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے کام کرے گا۔

دونوں صدور نے مشترکہ طور پر چین اور فلسطین کے درمیان سٹرٹیجک شراکت داری کے قیام کا اعلان کیا۔

چینی صدرشی نے کہا کہ سٹرٹیجک شراکت داری کا قیام دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ہے جو ماضی کی کامیابیوں پر استوار ہے اور ایک روشن مستقبل کی نوید دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین فلسطین کے ساتھ تمام شعبوں میں دوطرفہ دوستی اور تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے کام کرنے کے اس موقع سے استفادہ  کرے گا۔

 
۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

چینی نائب وزیراعظم کا سیلاب سے بچا اور پیداو...

چائنہ مِن میٹلز کارپوریشن کے نمائندوں نے پولینڈ کی تانبے کی کان کنی اور میٹالرجیکل کمپنی کے جی ایچ ایم کے ساتھ 2024-2028 کے لیے الیکٹرولائٹک تانبے کی خریداری کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اسی دن چین کے قومی زرعی ترقیاتی گروپ کمپنی لمیٹڈ نے پولینڈ کی کسکٹ ڈیری کے ساتھ تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے جو دودھ کی مصنوعات کا ایک سپلائر ہے۔ دورہ کرنے والے چینی کمپنی کے نمائندے چین کی وزارت تجارت کے ایک وفد کے ارکان تھے۔ چینی وزارت خارجہ کے فارن ٹریڈ ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل لی شنگ چھیان نے کہا کہ چینی حکومت دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعلقات کو بہت اہمیت دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کی بڑی، پھیلی ہوئی اور تیزی سے بڑھتی مارکیٹ ایک بہت بڑی صلاحیت پیش کرتی ہے۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ یہ تجارت کو فروغ دینے والا وفد چینی مارکیٹ میں اعلی معیار اور فائدہ مند پولینڈ کی مصنوعات لائے گا اور چین ۔پولینڈ تجارتی واقتصادی تعلقات کی ترقی میں نئے محرک کا اضافہ کرے گا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی

۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

چین اور پولینڈ کی کمپنیوں کے درمیان تجارتی م...

چائنہ مِن میٹلز کارپوریشن کے نمائندوں نے پولینڈ کی تانبے کی کان کنی اور میٹالرجیکل کمپنی کے جی ایچ ایم کے ساتھ 2024-2028 کے لیے الیکٹرولائٹک تانبے کی خریداری کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اسی دن چین کے قومی زرعی ترقیاتی گروپ کمپنی لمیٹڈ نے پولینڈ کی کسکٹ ڈیری کے ساتھ تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے جو دودھ کی مصنوعات کا ایک سپلائر ہے۔ دورہ کرنے والے چینی کمپنی کے نمائندے چین کی وزارت تجارت کے ایک وفد کے ارکان تھے۔ چینی وزارت خارجہ کے فارن ٹریڈ ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل لی شنگ چھیان نے کہا کہ چینی حکومت دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعلقات کو بہت اہمیت دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کی بڑی، پھیلی ہوئی اور تیزی سے بڑھتی مارکیٹ ایک بہت بڑی صلاحیت پیش کرتی ہے۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ یہ تجارت کو فروغ دینے والا وفد چینی مارکیٹ میں اعلی معیار اور فائدہ مند پولینڈ کی مصنوعات لائے گا اور چین ۔پولینڈ تجارتی واقتصادی تعلقات کی ترقی میں نئے محرک کا اضافہ کرے گا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی

۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

سربیا کے وزیر چین اور سربیا کے درمیان تعاون...

سربیا کے وزیر برائے ملکی و غیر ملکی تجارت تومیسلاو مومیرووک نے کہا ہے کہ حالیہ برسوں میں سربیا اور چین کے درمیان تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور بنیادی ڈھانچے کے متعدد کامیاب منصوبوں پر عمل درآمد کیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلغراد میں منعقدہ کمیونیکیشن انٹیگریشن ایکو سسٹم کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں سربیا میں چین کے سفیر چھن بو کے علاوہ دونوں ممالک کے دیگر عہدیداروں اور کاروباری نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ مومیرووک نے کہا کہ گزشتہ دس سالوں میں چین ،سربیا میں دوسرا سب سے بڑا سرمایہ کار رہا ہے اور چائنہ روڈ اینڈ برج کارپوریشن جیسے چین کے دوستوں کے ساتھ مل کر ہم نے ملک میں کچھ اہم ترین بنیادی ڈھانچے کے منصوبے تعمیر کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین اور سربیا نے گزشتہ ہفتے آزاد تجارتی معاہدے کے لیے مذاکرات کا پہلا دور مکمل کیا ہے اور یہ معاہدہ دوطرفہ تجارت کو وسعت دینے میں مزید کردار ادا کرے گا۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ بلغراد میں چینی تعمیر کردہ پیوپن پل دونوں ممالک کے درمیان روایتی دوستی کی علامت بن گیا ہے۔ چھن نے کہا کہ رواں سال بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کی 10 ویں سالگرہ ہے جس کی بدولت چین اور سربیا کے تعاون نے خاص طور پر بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے ای-763 ہائی وے کے نو تعمیر شدہ حصے اور بلغراد-نووی ساد تیز رفتار ریلوے پر بھی روشنی ڈالی۔ سربیا کی مارکیٹ میں داخل ہونے والی پہلی چینی تعمیراتی کمپنیز چائنہ روڈ اینڈ برج کارپوریشن اور چائنہ کمیونیکیشنز کنسٹرکشن کمپنی نے کانفرنس کا انعقاد کیا۔ دونوں کمپنیز نے نئے ماحولیات، سماجی اور گورننس (ای ایس جی) بارے رپورٹ بھی پیش کی۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی

۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

افغانستان، سیکیورٹی فورسز نے اسلحہ و گولہ با...

افغان سیکیورٹی فورسز نے گزشتہ 2 ہفتے کے دوران افغانستان کے شمالی صوبے تخار میں بھاری تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرلیا۔ صوبائی پولیس ہیڈکوارٹرز کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق صوبہ تخار میں کارروائیوں کے دوران ضبط شدہ ہتھیاروں اور گولہ بارود میں 3 کلاشنکوف، ایک پی کے مشین گن، ایک ایم 16، تین دستی بم، ایک راکٹ لانچر، تین پستول، چار اینٹی پرسنل بارودی سرنگیں، ہزاروں گولیاں اور دھماکہ خیز اشیا شامل ہیں۔ بیان میں کسی کی گرفتاری کا تذکرہ نہیں کیا گیا ہے۔ اسی طرح کی ایک کارروائی میں افغان سیکیورٹی فورسز نے پیر کو شمالی صوبہ بغلان میں ہتھیاروں کا ایک ذخیرہ قبصے میں لے لیا تھا۔ افغانستان کی نگران حکومت نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ سیکیورٹی اداروں کے علاوہ ہر شخص سے اسلحہ اور گولہ بارود اکٹھا کرے گی۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی

۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

چینی کسٹم حکام کے کاروباری ماحول بہتر بنانے...

چینی کسٹم حکام نے بتایا ہے کہ انہوں نے ملک میں کاروباری ماحول بہتر بنانے کے لئے 16 اقدامات اٹھائے ہیں۔ جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمزنے ایک پریس بریفنگ میں بتایا کہ ان اقدامات سے سماجی توقعات کو مزید مستحکم کرنے اور بیرونی تجارت میں اعتماد بڑھانے میں مدد ملے گی۔ جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے مطابق سرحد پار لاجسٹکس کارکردگی بہتر بنانے، جدید ٹیکنالوجی آلات اور خصوصی اشیا کی درآمد میں تعاون، اہم زرعی اور غذائی مصنوعات کی درآمد وبرآمد کو فروغ دینے، برآمدی ٹیکس چھوٹ کی سہولت، تجارتی پروسیسنگ کی اپ گریڈیشن میں اضافے اور سرحدی تجارت کی نگرانی بہتر بنانے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے عہدیدار وو ہائی پھنگ کے مطابق 2022 میں ادارے نے بیرونی تجارت میں استحکام کے لیے 23 اقدامات متعارف کرائے تھے جس نے چین کی بیرونی تجارت کی مالیت کو بلند سطح پر لانے میں ٹھوس تعاون کیا۔ وو نے بتایا کہ اب اگلے مرحلے میں جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز 16 نئے اقدامات کے نفاذ پر توجہ مرکوز کرے گا۔ مقامی کسٹم دفاتر پر زور دیا جائے گا کہ وہ معاون اقدامات متعارف کریں ، کاروباری اداروں کو درپیش مشکلات دور کرنے کے لئے اہداف پر مبنی حل تیار کریں اور پالیسیوں کے نفاذ اور رائے کو مستحکم کریں۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی

۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

چین، آئندہ تعطیلات کے دوران بیرون ملک سفر می...

چین کی بیرون ملک سیاحت بحال ہو رہی ہے اور 22 سے 24 جون تک جاری رہنے والے ڈریگن بوٹ فیسٹیول کی تعطیلات کے دوران اس میں تیزی ہو گی۔ آن لائن ٹریول ایجنسی (Trip.com) گروپ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ان تعطیلات کے لیے بیرون ملک سفر کی بکنگ میں گزشتہ سال کی نسبت 12 گنا اضافہ ہوا ہے اور مشہور مقامات میں اوساکا، ٹوکیو، سیئول اور تفریحی جزیرہ جیجو شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بیرون ملک سفر کی لاگت کم ہو رہی ہے۔ تین روزہ تعطیلات کے دوران بیرون ملک جانے والے ایک طرفہ ٹکٹ (بشمول ٹیکس) کی اوسط قیمت میں مئی کی تعطیلات کے مقابلے میں 6 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ اندرون ملک سفر کی طلب بھی بڑھ رہی ہے اور موسم گرما کے تفریحی مقامات اور دیہی تفریحی سرگرمیاں زیادہ سیاحوں کو اپنی طرف راغب کر رہی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیجنگ، شنگھائی، ہانگ ژو، گوانگ ژو ، چھنگڈو اور چھنگ ڈا اندرون ملک سیاحت کے لیے سب سے زیادہ مقبول مقامات میں شامل ہیں۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی

۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

زمبابوے میں چینی عطیے نے غریب اور یتیم بچوں...

زمبابوے میں چینی سفارت خانہ نے ملک کے یتیم بچوں اور دیگر کمزور بچوں کی حوصلہ افزائی کے لئے زمبابوے کے دارالحکومت ہرارے میں عطیات کی ایک تقریب کا انعقاد کیا۔ ہرارے کے مضافاتی علاقے ہائی فیلڈ میں واقع ہوپینیو ہٹسوا چلڈرن ہوم کے بچوں کو کمبل، اشیائے خوردونوش اور اسٹیشنری سمیت پیکج د ئیے گئے۔ یہ عطیہ افریقی بچوں کے لیے صحت کی دیکھ بھال کی ایک مہم کا حصہ تھا جس کا عنوان " بچوں کی گر مجوشی: ایک چین۔افریقہ مشترکہ کارروائی" تھا جسے چینی صدر شی جن پھنگ کی اہلیہ پھنگ لی یوآن اور افریقی فرسٹ لیڈیز فار ڈیویلپمنٹ کی تنظیم نے مشترکہ طور پر شروع کیا تھا۔ زمبابوے میں چینی میڈیکل ٹیم نے تقریب کے بعد تقریبا 100 بچوں کے مفت طبی معائنے بھی کیے۔ مقامی حکومت اور پبلک ورکس کی نائب وزیر ماریان چومبو نے زمبابوے کی خاتون اول آکسیلیا منانگاگوا کی جگہ پڑھی تقریر میں عطیہ دینے پر پھنگ کا شکریہ ادا کیا۔ آکسیلیا منانگاگوا نے کہا کہ روزمرہ کی ضروریات اور اسٹیشنری یتیموں کو ان کی تعلیمی کوششوں اور ان کی فلاح و بہبود میں بااختیار بنانے میں ایک طویل سفر طے کرے گی۔ یہ قیمتی تحفہ اس بات کو یقینی بنانے کی میری کوششوں کی حمایت کرنے کے لئے ایک اہم ستون کے طور پر آیا ہے کہ ہمارے معاشرے کے ہر کم مراعات یافتہ طبقے کو بہتر اور پائیدار معیار زندگی کے لئے معاونت اور مناسب مدد ملے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے زمبابوے میں چین کے سفیر ژو ڈنگ نے کہا کہ چین ، زمبابوے میں بچوں کی فلاح و بہبود کی حمایت جاری رکھے گا تاکہ ملک میں کمزور گروہوں کی فلاح و بہبود کو بہتر بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ چین اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہے کہ گزر بسر اور ترقی کا حق بنیادی اہمیت کے بنیادی انسانی حقوق ہیں جو یقینی طور پر خواتین اور بچوں کے لئے بہتر ترقی کے حالات کا مطالبہ کرتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ محبت اور دیکھ بھال کے ساتھ یہاں ہمارے بچے صحت مند طور پر بڑے ہوں گے اور ایک بہتر زمبابوے کی تعمیر کے قابل بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ یہاں ہمارے بچے چین اور زمبابوے کی دوستی کو اپنے ذہنوں میں رکھ سکتے ہیں اور اس دوستی کے وارث اور اسے فرو غ دینے والے بن سکتے ہیں۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی

۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

فلسطینی صدر کی چین آمد دونوں ممالک کے مابین...

چین کے وزیر خارجہ چھن گانگ نے بیجنگ میں فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی سے ملاقات کی ہے۔ المالکی فلسطینی صدر محمود عباس کے ہمراہ 13 سے 16 جون تک چین کے سرکاری دورے پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر عباس پہلے عرب سربراہ مملکت ہیں جن کی رواں سال چین میں میزبانی کی گئی جو دونوں ممالک کے درمیان خصوصی دوستی اور فلسطین کے منصفانہ مقصد کے لیے چین کی حمایت کا وا ضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ دونوں سربراہان مملکت مستقبل میں دوطرفہ تعلقات کی ترقی کی منصوبہ بندی کریں گے اور روایتی دوستی کو اعلی سطح پر لے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے جائز قومی حقوق کی بحالی کے منصفانہ مقصد کی بھرپور حمایت کی ہے اور فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات کی حمایت جاری رکھے گا اور مسئلہ فلسطین کے حل میں دانشمندی کا کردار ادا کرتا رہے گا۔ المالکی نے کہا کہ چین ایک قابل اعتماد اور پائیدار دوست ہے اور فلسطین مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے چین کے سربراہ مملکت کی طرف سے پیش کردہ تجاویز کو سراہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین ون چائنہ پالیسی پر عمل پیرا ہے اور چین کے بنیادی مفادات سے متعلق امور پر چین کی حمایت جاری رکھے گا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی

۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

ڈی رسکنگ" حقیقی مغربی خطرات کو اہداف بنائے

امریکی قیادت میں چند ترقی یافتہ ممالک نے چین کو نشانہ بنانے کے لیے "ڈی کپلنگ" کی جگہ "ڈی رسکنگ" کا استعمال کیا۔ وہ جو کچھ کرنا چاہتے ہیں اس سے بہت کم فرق پڑا ہے۔ ایک معروضی تجزیہ یہ ثابت کرتا ہے ان کی نام نہاد "ڈی رسکنگ" تجویز غیر منطقی اور ناقابل عمل ہے۔ جب "ڈی رسکنگ" کی بات آتی ہے تو سب سے پہلے خطرات کا پتہ لگانا چاہئے۔ امن، خوشحالی اور انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے بہت سے حقیقت پسندانہ اور فوری خطرات ان ممالک سے پیدا ہوتے ہیں جو چین مخالف بیانیے کی ترویج کرتے ہیں اور یہ حقیقی خطرات ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ عراق جیسے ممالک پر مغربی فوجی حملوں کے ہولناک نتائج کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور گزشتہ دہائیوں میں بعض طاقتوں نے دوسروں کی دہلیز پر بار بار اشتعال انگیز فوجی قوت کا مظاہرہ کیا جس سے ان کی سرزمین سے ہزاروں میل دور دنیا کے لئے سنگین خطرات پیدا ہوئے۔ صرف گزشتہ برس ہی امریکہ نے بحیرہ جنوبی چین اور اس کے اطراف میں متعدد بار طیارہ بردار بحری جہاز بھیجے اور اس کے بڑے جاسوس طیاروں نے چین کی جاسوسی کے لیے 800 سے زائد پروازیں کیں۔ امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا سہ فریقی جنوبی سلامتی شراکت داری اور اس سے متعلقہ جوہری آبدوزوں میں تعاون سے جوہری پھیلا کے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں اور یہ خطہ ہتھیاروں کی دوڑ کا میدان بن سکتا ہے۔ اس طرح کے خطرناک اقدام نے علاقائی ممالک میں شدید تشویش پیدا کردی ہے۔ "

تائیوان کی آزادی" کے علیحدگی پسندوں کے لئے غیر ملکی افواج کا تعاون اور ملی بھگت آبنائے تائیوان میں امن اور استحکام کو خطرے میں ڈالتی ہے۔ مغربی سیاست دان خود پر غور کریں اور علاقائی اور عالمی امن کے لئے خطرہ بننے والے اپنے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کی روک تھام کریں۔ معاشی نقطہ نگاہ سے نام نہاد "ڈی رسکنگ" کا مطلب گلوبلائزیشن سے انکار ہے۔ بعض ممالک کا دعوی ہے کہ وہ چین کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کو محدود کریں گے۔ 2001 میں عالمی تجارتی تنظیم میں شمولیت کے بعد سے چینی معیشت نے بڑے پیمانے پر خود کو عالمی معیشت سے مربوط کیا ہے۔ بین الاقوامی صنعتی ڈویژن کی ترقی کے ساتھ کوئی بھی ملک تمام شعبوں میں بالادستی قائم نہیں رکھ سکتا اور تمام سامان اکیلے پیدا نہیں کرسکتا ہے۔ امریکہ نے ہواوے اور دیگر چینی ٹیکنالوجیز اداروں کو دبانے کے لیے بار بار سرکاری طاقت کا استعمال کیا۔ تجارت و سائنس ٹیکنالوجی مسائل کو سیاسی رنگ دینے اور دوسرے ممالک کے اداروں کو دبانے کے لئے قومی سلامتی کے تصور کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے اقدامات عالمی صنعتی اور سپلائی چین کو غیر مستحکم کرتے ہیں۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی

 

۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

نائجیریا ، کشتی حادثے میں کم از کم 103 افراد...

نائجیریا کی وسطی ریاست کوارا میں ایک کشتی الٹنے سے کم از کم 103 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ 100 کے قریب دیگر افراد کو بچالیا گیا۔ کوارا میں پولیس ترجمان اجائی اوکاسنمی نے فون پر شِنہواا کو بتایا کہ یہ حادثہ ریاست کے پاٹیگی بلدیاتی حکومتی علاقے میں ایک دریا میں پیش آیا۔ حادثہ کا شکار ہونے والے مسافر وسطی علاقے میں پڑوسی ریاست نائجر سے گھر لوٹ رہے تھے۔ اوکاسنمی نے کہا کہ کچھ افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ پاٹیگی بلدیاتی حکومتی علاقے کی کپاڈا کمیونٹی میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ پولیس افسر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کشتی میں 200 سے زائد افراد سوار تھے۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر متاثرین کو بچانے اور لاشوں کی تلاش کے لئے امدادی کارکنوں اور حکومت کے دیگر اداروں کے ساتھ تعاون جاری رکھا ہوا ہے۔ قبل ازیں ایک بیان میں ریاست کوارا کے گورنرعبدالرحمن عبدالرزاق نے کہا تھا کہ حادثے کا شکار ہونے والے مسافر ہمسایہ ریاست نا ئجر میں ایک شادی میں شرکت کے بعد واپس لوٹ رہے تھے۔ مغربی افریقی ملک میں کشتیوں کے حادثات اکثر گنجائش سے زائد سواریوں ، خراب موسم اور ناقص آپریشنز کی وجہ سے ہوتے ہیں۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی

 

۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

چینی صدر کا عالمی انسانی حقوق حکمرانی فورم ک...

چین کے صدر شی جن پھنگ نے عالمی انسانی حقوق حکمرانی کے فورم کو مبارکباد کا خط بھیجا ہے۔ چینی صدر شی نے خط میں کہا کہ عالمی انسانی حقوق حکمرانی کو درپیش سنگین چیلنجز کے سبب چین تمام ممالک پر زور دیتا ہے کہ وہ سلامتی کے ساتھ انسانی حقوق کے تحفظ، تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں۔ اس کے علاوہ پرامن ترقی کے راستے پر چلیں اور گلوبل سیکیورٹی انیشی ایٹو کو عملی جامہ پہنائیں۔ انہوں نے کہا کہ چین ترقی کے ساتھ انسانی حقوق کو فروغ دینے، گلوبل ڈیویلپمنٹ انیشی ایٹو کو عملی جامہ پہنانے اور تمام ممالک کے عوام کو ان کی اپنی خصوصیات کے مطابق جدید خطوط پر انسانی حقوق کے منصفانہ حق دینے کا حامی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین باہمی احترام اور مساوات کے جذبے سے تعاون کے ساتھ انسانی حقوق کو فروغ دینے، عالمی تہذیبی اقدام کو عملی جامہ پہنانے اور تہذیبوں کے درمیان تبادلوں اور باہمی سیکھنے کو گہرا کرنے کا حامی ہے۔ شی نے زور دیا کہ عوام کو سب سے مقدم رکھتے ہوئے چین نے انسانی حقوق کی ترقی کا ایک ایسا راستہ چنا جو وقت کے رجحان کی پیروی کرتا اور اس کے قومی حالات کے مطابق ہے۔ یہ چینی جدیدیت کو آگے بڑھانے میں انسانی حقوق کے تحفظ کو مستحکم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین ویانا اعلامیہ اور پروگرام آف ایکشن میں درج اصولوں پر عمل کرنے، عالمی انسانی حقوق حکمرانی میں زیادہ سے زیادہ شفافیت، انصاف، منطق اور شمولیت پر زور دینے اور مشترکہ مستقبل کے ساتھ انسانی معاشرے کے فروغ کے لئے باقی دنیا کے ساتھ ملکر کام کرنے کو تیار ہے۔ فورم بدھ سے بیجنگ میں شروع ہوا ہے۔ جس کا موضوع "مساوات، تعاون اور ترقی، ویانا اعلامیہ کی 30 ویں سالگرہ اور عملدرآمد پروگرام وعالمی انسانی حقوق کی حکمرانی" ہے۔ ریاستی کونسل کا اطلاعات دفتر ، وزارت خارجہ اور چائنہ بین الاقوامی ترقی تعاون ایجنسی فورم کی مشترکہ میزبانی کررہی ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی

۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

سوارمحمد حسین شہید کا74واں یوم پیدائش18جون ک...

نشان حیدر اعزاز حاصل کرنے والے پاک فوج کے جوان سوار محمد حسین شہید کا74واں یوم پیدائش18جون کو منایا جائے گا اس سلسلے میں فیصل آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں منعقدہ تقریبات میں سوار محمد حسین شہید کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔سوار محمد حسین شہید18جون1949ء کو ڈھوک پیر بخش (ضلع راولپنڈی) میں پیدا ہوئے۔وہ3ستمبر1966ء کو پاک فوج میں بطور ڈرائیور بھرتی ہوئے۔71ء کی پاک بھارت جنگ میں وہ اپنی یونٹ کے ساتھ خدمات سرانجام دے رہے تھے فوج میں اگرچہ وہ ڈرائیور تھے لیکن انہوں نے یونٹ کے ہر کام کو خوش اسلوبی سے انجام دیا۔ سوار محمد حسین شہید5دسمبر 1971ء کو ظفر وال(شکر گڑھ) کے محاذ پر دشمن کی گولہ باری کی پرواہ کیے بغیر خندق میں موجود اپنے ساتھیوں کو گولہ بارود پہنچاتے رہے وہ خود بھی ٹینک شکن توپوں کے پاس جا کر دشمن کے ٹھکانوں کی نشاندہی کرتے تھے جس سے دشمن کے بہت بڑی تعداد میں ٹینک تباہ ہو گئے تھے۔10دسمبر1971ء کو سوار محمد حسین دشمن کی مشین گن کی گولیوں کا نشانہ بن گئے اور جام شہادت نوش کیا۔ سوار محمد حسین کی اعلیٰ خدمات کے اعتراف کے طور پر حکومت پاکستان نے انہیں نشان حیدر کا اعزاز عطا کیا۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پاک فوج کے پہلے''جوان'' تھے-

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی

۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

عظیم شاعر و مزاح نگار ابن انشاء کا96واں یوم...

اردو ادب کے عظیم شاعر و مزاح نگار ابن انشاء کا96واں یوم پیدائش 15جون جمعرات کو منایا جائے گا اس سلسلے میں فیصل آباد سمیت ملک بھر کے ادبی حلقوں میں ابن انشاء کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔ابن انشاء جن کا اصل نام شیر محمد خان تھا 15جون 1927ء کو جالندھر میں پیدا ہوئے وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے وہ بیک وقت صحافی،شاعر،افسانہ نگار،کالم نگار اور سفر نامہ نگارتھے انہیں ان کی معروف غزل ''انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو'' نے شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ابن انشاء ملک کے معروف اخبارات و جرائد میںکالم لکھتے رہے ہیں بطور شاعر ان کے متعدد مجموعے ''دل وحشی'' ''چاند نگر'' اور ''اس بستی کے کوچے میں'' شائع ہو چکے ہیں ابن انشاء نے یونیسکو کے مشیر کی حیثیت سے مختلف یورپی و ایشیائی ممالک کے تفصیلی دورے کیے جن کے احوال انہوں نے اپنے سفرناموں ''ابن بطوطہ کے تعاقب میں''چلتے ہو تو چین کو چلیے'' ''دنیا گول ہے'' ''نگری نگری پھرا مسافر'' اور ''آوارہ گرد کی ڈائری'' میں اپنے مخصوص طنزیہ اور مزاحیہ انداز میں تحریر کیا۔ابن انشاء کے کالموں اور خطوط کے مجموعوں پر مشتمل کتب ''خمار گندم'' ''اردو کی آخری کتاب'' اور ''خط انشاء جی کے'' قارئین میں بے پناہ پزیرائی حاصل کر چکی ہیں۔ابن انشاء 11 جنوری 1978ء کو لندن میں انتقال کر گئے انہیں کراچی میں دفن کیا گیا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی

 

۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

زمبابوے میں چینی عطیے نے غریب اور یتیم بچوں...

ہرارے (شِنہوا) زمبابوے میں چینی سفارت خانہ نے ملک کے یتیم بچوں اور دیگر کمزور بچوں کی حوصلہ افزائی کے لئے زمبابوے کے دارالحکومت ہرارے میں عطیات کی ایک تقریب کا انعقاد کیا۔

ہرارے کے مضافاتی علاقے ہائی فیلڈ میں واقع ہوپینیو ہٹسوا چلڈرن ہوم کے بچوں کو کمبل، اشیائے خوردونوش اور اسٹیشنری سمیت پیکج د ئیے گئے۔ 

یہ عطیہ افریقی بچوں کے لیے صحت کی دیکھ بھال کی ایک مہم کا حصہ تھا جس کا عنوان " بچوں کی گر مجوشی: ایک چین۔افریقہ مشترکہ کارروائی" تھا جسے چینی صدر شی جن پھنگ کی اہلیہ پھنگ لی یوآن اور افریقی فرسٹ لیڈیز فار ڈیویلپمنٹ کی تنظیم نے مشترکہ طور پر شروع کیا تھا۔

زمبابوے میں چینی میڈیکل ٹیم نے تقریب کے بعد تقریباً 100 بچوں کے مفت طبی معائنے بھی کیے۔

مقامی حکومت اور پبلک ورکس کی نائب وزیر ماریان چومبو  نے زمبابوے کی خاتون اول آکسیلیا منانگاگوا کی جگہ پڑھی تقریر میں عطیہ دینے پر پھنگ کا شکریہ ادا کیا۔

آکسیلیا منانگاگوا نے کہا کہ روزمرہ کی ضروریات اور اسٹیشنری یتیموں کو ان کی تعلیمی کوششوں اور ان کی فلاح و بہبود میں بااختیار بنانے میں ایک طویل سفر طے کرے گی۔ یہ قیمتی تحفہ اس بات کو یقینی بنانے کی میری کوششوں کی حمایت کرنے کے لئے ایک اہم ستون کے طور پر آیا ہے کہ ہمارے معاشرے کے ہر کم مراعات یافتہ طبقے کو بہتر اور پائیدار معیار زندگی کے لئے معاونت اور مناسب مدد ملے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے زمبابوے میں چین کے سفیر ژو ڈنگ نے کہا کہ چین ، زمبابوے میں بچوں کی فلاح و بہبود کی حمایت جاری رکھے گا تاکہ ملک میں کمزور گروہوں کی فلاح و بہبود کو بہتر بنایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ چین اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہے کہ گزر بسر اور ترقی کا حق بنیادی اہمیت کے بنیادی انسانی حقوق ہیں جو یقینی طور پر خواتین اور بچوں کے لئے بہتر ترقی کے حالات کا مطالبہ کرتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ محبت اور دیکھ بھال کے ساتھ یہاں ہمارے بچے صحت مند طور پر بڑے ہوں گے اور ایک بہتر زمبابوے کی تعمیر کے قابل بنیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ یہاں ہمارے بچے چین اور زمبابوے کی دوستی کو اپنے ذہنوں میں رکھ سکتے ہیں اور اس دوستی کے وارث اور اسے فرو غ دینے والے بن سکتے ہیں۔

 
۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

زمبابوے میں چینی عطیے نے غریب اور یتیم بچوں...

ہرارے (شِنہوا) زمبابوے میں چینی سفارت خانہ نے ملک کے یتیم بچوں اور دیگر کمزور بچوں کی حوصلہ افزائی کے لئے زمبابوے کے دارالحکومت ہرارے میں عطیات کی ایک تقریب کا انعقاد کیا۔

ہرارے کے مضافاتی علاقے ہائی فیلڈ میں واقع ہوپینیو ہٹسوا چلڈرن ہوم کے بچوں کو کمبل، اشیائے خوردونوش اور اسٹیشنری سمیت پیکج د ئیے گئے۔ 

یہ عطیہ افریقی بچوں کے لیے صحت کی دیکھ بھال کی ایک مہم کا حصہ تھا جس کا عنوان " بچوں کی گر مجوشی: ایک چین۔افریقہ مشترکہ کارروائی" تھا جسے چینی صدر شی جن پھنگ کی اہلیہ پھنگ لی یوآن اور افریقی فرسٹ لیڈیز فار ڈیویلپمنٹ کی تنظیم نے مشترکہ طور پر شروع کیا تھا۔

زمبابوے میں چینی میڈیکل ٹیم نے تقریب کے بعد تقریباً 100 بچوں کے مفت طبی معائنے بھی کیے۔

مقامی حکومت اور پبلک ورکس کی نائب وزیر ماریان چومبو  نے زمبابوے کی خاتون اول آکسیلیا منانگاگوا کی جگہ پڑھی تقریر میں عطیہ دینے پر پھنگ کا شکریہ ادا کیا۔

آکسیلیا منانگاگوا نے کہا کہ روزمرہ کی ضروریات اور اسٹیشنری یتیموں کو ان کی تعلیمی کوششوں اور ان کی فلاح و بہبود میں بااختیار بنانے میں ایک طویل سفر طے کرے گی۔ یہ قیمتی تحفہ اس بات کو یقینی بنانے کی میری کوششوں کی حمایت کرنے کے لئے ایک اہم ستون کے طور پر آیا ہے کہ ہمارے معاشرے کے ہر کم مراعات یافتہ طبقے کو بہتر اور پائیدار معیار زندگی کے لئے معاونت اور مناسب مدد ملے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے زمبابوے میں چین کے سفیر ژو ڈنگ نے کہا کہ چین ، زمبابوے میں بچوں کی فلاح و بہبود کی حمایت جاری رکھے گا تاکہ ملک میں کمزور گروہوں کی فلاح و بہبود کو بہتر بنایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ چین اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہے کہ گزر بسر اور ترقی کا حق بنیادی اہمیت کے بنیادی انسانی حقوق ہیں جو یقینی طور پر خواتین اور بچوں کے لئے بہتر ترقی کے حالات کا مطالبہ کرتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ محبت اور دیکھ بھال کے ساتھ یہاں ہمارے بچے صحت مند طور پر بڑے ہوں گے اور ایک بہتر زمبابوے کی تعمیر کے قابل بنیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ یہاں ہمارے بچے چین اور زمبابوے کی دوستی کو اپنے ذہنوں میں رکھ سکتے ہیں اور اس دوستی کے وارث اور اسے فرو غ دینے والے بن سکتے ہیں۔

 
۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

چینی کسٹم حکام کے کاروباری ماحول بہتر بنانے...

بیجنگ (شِنہوا) چینی کسٹم حکام نے بتایا ہے کہ انہوں نے ملک میں کاروباری ماحول بہتر بنانے کے لئے 16 اقدامات اٹھائے ہیں۔

جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمزنے ایک پریس بریفنگ میں بتایا کہ ان اقدامات سے سماجی توقعات کو مزید مستحکم کرنے اور بیرونی تجارت میں اعتماد بڑھانے میں مدد ملے گی۔

جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے مطابق سرحد پار لاجسٹکس کارکردگی بہتر بنانے، جدید ٹیکنالوجی آلات اور خصوصی اشیاء کی درآمد میں تعاون، اہم زرعی اور غذائی مصنوعات کی درآمد وبرآمد کو فروغ دینے، برآمدی ٹیکس چھوٹ کی سہولت، تجارتی پروسیسنگ کی اپ گریڈیشن میں اضافے اور سرحدی تجارت کی نگرانی بہتر بنانے کی کوششیں کی گئی ہیں۔

جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے عہدیدار وو ہائی پھنگ کے مطابق 2022 میں ادارے نے بیرونی تجارت میں استحکام کے لیے 23 اقدامات متعارف کرائے تھے جس نے چین کی بیرونی تجارت کی مالیت کو بلند سطح پر لانے میں ٹھوس تعاون کیا۔

وو نے بتایا کہ اب اگلے مرحلے میں جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز 16 نئے اقدامات کے نفاذ پر توجہ مرکوز کرے گا۔ مقامی کسٹم دفاتر پر زور دیا جائے گا کہ وہ معاون اقدامات متعارف کریں ، کاروباری اداروں کو درپیش مشکلات دور کرنے کے لئے اہداف پر مبنی حل تیار کریں اور پالیسیوں کے نفاذ اور رائے کو مستحکم کریں۔

 
۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

سربیا کے وزیر چین اور سربیا کے درمیان تعاون...

بلغراد(شِنہوا) سربیا کے وزیر برائے ملکی و غیر ملکی تجارت تومیسلاو مومیرووک نے کہا ہے کہ حالیہ برسوں میں سربیا اور چین کے درمیان تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور بنیادی ڈھانچے  کے متعدد کامیاب منصوبوں پر عمل درآمد کیا گیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلغراد میں منعقدہ کمیونیکیشن انٹیگریشن ایکو سسٹم کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں سربیا میں چین کے سفیر چھن  بو کے علاوہ دونوں ممالک کے دیگر عہدیداروں اور کاروباری نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

مومیرووک نے کہا کہ گزشتہ دس سالوں میں چین ،سربیا میں دوسرا سب سے بڑا سرمایہ کار رہا ہے اور چائنہ روڈ اینڈ  برج کارپوریشن جیسے چین کے دوستوں کے ساتھ مل کر ہم نے ملک میں کچھ اہم ترین بنیادی ڈھانچے کے منصوبے تعمیر کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین اور سربیا نے گزشتہ ہفتے آزاد تجارتی معاہدے کے لیے مذاکرات کا پہلا دور مکمل کیا ہے اور یہ معاہدہ دوطرفہ تجارت کو وسعت دینے میں مزید کردار ادا کرے گا۔

اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ بلغراد میں چینی تعمیر کردہ پیوپن  پل دونوں ممالک کے درمیان روایتی دوستی کی علامت بن گیا ہے۔ 

چھن نے کہا کہ رواں سال بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کی 10 ویں سالگرہ ہے  جس کی بدولت چین اور سربیا کے تعاون نے خاص طور پر بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں اہم کامیابیاں حاصل کیں۔

انہوں نے ای-763 ہائی وے کے نو تعمیر شدہ حصے اور بلغراد-نووی ساد تیز رفتار ریلوے پر بھی روشنی ڈالی۔

سربیا کی مارکیٹ میں داخل ہونے والی پہلی چینی تعمیراتی کمپنیز چائنہ روڈ اینڈ برج کارپوریشن اور چائنہ کمیونیکیشنز کنسٹرکشن کمپنی نے کانفرنس کا انعقاد کیا۔

دونوں کمپنیز نے نئے ماحولیات، سماجی اور گورننس (ای ایس جی) بارے رپورٹ بھی پیش کی۔

 
۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

سربیا کے وزیر چین اور سربیا کے درمیان تعاون...

بلغراد(شِنہوا) سربیا کے وزیر برائے ملکی و غیر ملکی تجارت تومیسلاو مومیرووک نے کہا ہے کہ حالیہ برسوں میں سربیا اور چین کے درمیان تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور بنیادی ڈھانچے  کے متعدد کامیاب منصوبوں پر عمل درآمد کیا گیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلغراد میں منعقدہ کمیونیکیشن انٹیگریشن ایکو سسٹم کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں سربیا میں چین کے سفیر چھن  بو کے علاوہ دونوں ممالک کے دیگر عہدیداروں اور کاروباری نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

مومیرووک نے کہا کہ گزشتہ دس سالوں میں چین ،سربیا میں دوسرا سب سے بڑا سرمایہ کار رہا ہے اور چائنہ روڈ اینڈ  برج کارپوریشن جیسے چین کے دوستوں کے ساتھ مل کر ہم نے ملک میں کچھ اہم ترین بنیادی ڈھانچے کے منصوبے تعمیر کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین اور سربیا نے گزشتہ ہفتے آزاد تجارتی معاہدے کے لیے مذاکرات کا پہلا دور مکمل کیا ہے اور یہ معاہدہ دوطرفہ تجارت کو وسعت دینے میں مزید کردار ادا کرے گا۔

اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ بلغراد میں چینی تعمیر کردہ پیوپن  پل دونوں ممالک کے درمیان روایتی دوستی کی علامت بن گیا ہے۔ 

چھن نے کہا کہ رواں سال بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کی 10 ویں سالگرہ ہے  جس کی بدولت چین اور سربیا کے تعاون نے خاص طور پر بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں اہم کامیابیاں حاصل کیں۔

انہوں نے ای-763 ہائی وے کے نو تعمیر شدہ حصے اور بلغراد-نووی ساد تیز رفتار ریلوے پر بھی روشنی ڈالی۔

سربیا کی مارکیٹ میں داخل ہونے والی پہلی چینی تعمیراتی کمپنیز چائنہ روڈ اینڈ برج کارپوریشن اور چائنہ کمیونیکیشنز کنسٹرکشن کمپنی نے کانفرنس کا انعقاد کیا۔

دونوں کمپنیز نے نئے ماحولیات، سماجی اور گورننس (ای ایس جی) بارے رپورٹ بھی پیش کی۔

 
۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

چینی نائب وزیراعظم کا سیلاب سے بچاؤ اور پیدا...

شین ژین (شِنہوا) چین کے نائب وزیر اعظم ژانگ گو چھنگ نے سیلاب کے موسم کے دوران حفاظت کو یقینی بنانے اور صنعتی و سپلائی چین کی حفاظت کے لئے پیداوار میں آزادانہ جدت سازی کو فروغ دینے کے لئے کوششوں پر زور دیا ہے۔

کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن ژانگ نے یہ بات چین کے جنوبی صوبہ گوانگ ڈونگ میں ایک تحقیقی دورے کے دوران کہی۔

اتوار سے منگل تک پشتوں  اور فلڈ گیٹس کے دورے کے دوران ژانگ نے پرل ریور بیسن میں سیلاب کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور  پشتوں کی مضبوطی اور تزئین و آرائش اور شہری سیلاب کنٹرول اور نکاسی آب کے لئے ہنگامی ردعمل کا معائنہ کیا۔

انہوں نے موجودہ سیلاب کے موسم کے دوران انتہائی چوکس رہنے، بارشوں اور سیلاب کی نگرانی اور پیش گوئی کرنے، بین العلاقائی معلومات کے تبادلے کو مضبوط بنانے اور ہنگامی حالات میں ہلاکتوں سے بچنے کے لئے فیصلہ کن اقدامات کرنے پر زور دیا۔

ژانگ نے غیر مساوی بارشوں کے حوالے سے سیلاب پر قابو پانے اور خشک سالی سے بچاؤ اور خشک سالی والے علاقوں میں پینے اور صنعتی و زرعی پیداوار کے لیے پانی کو یقینی بنانے کے لیے مربوط کوششوں پر بھی زور دیا۔

گوانگ ژو اور شین زین میں  ژانگ نے انٹیلی جنس ، مواصلاتی وطبی آلات کے مینوفیکچرنگ اداروں کا دورہ کیا تاکہ ان کی آزادانہ جدت سازی کی کوششوں بارے جان سکیں۔

ژانگ نے زور د یتے ہو ئے کہا کہ ایک طاقتور مینوفیکچرنگ ملک کی تعمیر اور اعلٰی معیار کی ترقی کے حصول کے لئے آزاد انہ جدت سازی  ایک فطری ضرورت ہے۔  انہوں نے مزید کہا کہ کاروباری اداروں کو جدت سازی  میں غالب ہونے کی اپنی ذمہ داری کو بہتر طور پر قبول کرنا چاہئے۔

ژانگ نے کہا کہ کاروباری اداروں کو ملک کی بنیادی اسٹریٹجک ضروریات اور جدید صنعتی نظام کی تعمیر پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے ، صنعتی ترقی اور تکنیکی تبدیلیوں کے رجحان پر نظر رکھنی چاہئے ، بنیادی تحقیق کو مضبوط بنانا چاہئے  اور آزاد انہ جدت سازی کے لئے ماحول کو مسلسل بہتر بنانا چاہئے۔

 
۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

چین، سی پی سی سینئر عہدیدار کی برازیل کے وفد...

بیجنگ (شِنہوا) کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کے بین الاقوامی شعبے کے سربراہ لیو جیان چھاؤ نے بیجنگ میں ورکرز پارٹی آف برازیل کے سینئر کارکنوں کے ایک وفد سے ملاقات کی ہے۔

وفد کی قیادت ورکرز پارٹی آف برازیل کے جنرل سیکرٹری ہنرک فونٹانا کررہے تھے۔

فریقین نے کہا کہ وہ دونوں سربراہان مملکت کے درمیان طے شدہ اہم اتفاق رائے پر عمل درآمد کریں گے، بین الجماعتی تبادلے و تعاون مضبوط بنائیں گے، اسٹریٹجک باہمی اعتماد اور بین الاقوامی ہم آہنگی کو فروغ دیکر چین ۔ برازیل تعلقات کے ساتھ ساتھ چین ۔ لاطینی امریکہ تعلقات کو آگے بڑھائیں گے۔

۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

ٹرمپ کا اپنے خلاف فرد جرم میں عائد الزامات...

واشنگٹن(شِنہوا) سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خلاف فرد جرم میں عائد الزمات کو مسترد کردیا ہے، جس میں انہیں خفیہ دستاویزات کو غلط طور پر ہینڈل کرنے کے 37 الزامات کا سامنا ہے۔ فرد جرم میں الزام لگایا گیا ہے کہ ٹرمپ 2021 میں وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے بعد سرکاری راز غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنے میں ملوث اور انہوں نے انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی سازش کی۔ ٹرمپ نے کلاسیفائیڈ دستاویزات کو فلوریڈا میں واقع اپنی رہائش گاہ میں مختلف مقامات پربشمول بال روم، باتھ روم اور شاور، دفتر کی جگہ، اپنے بیڈروم اور ایک اسٹوریج روم میں رکھا،جو ایک فعال سماجی مقام تھا جہاں  دستاویزات کو ذخیرہ کرنے، قبضہ  یا بحث کے لیے رکھنےکی قانونی اجازت نہیں تھی۔ میامی کی  وفاقی عدالت میں، ٹرمپ کے وکیل ٹوڈ بلانچ نے جج کو بتایا کہ ہم یقینی طور پر قصوروار نہ ہونے کی درخواست داخل کرتے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ بے قصور ہیں اور استغاثہ کے ذریعے انہیں غیر منصفانہ طور پر نشانہ بنایا گیا ہے کیونکہ وہ 2024 میں صدارتی  انتخاب لڑ رہے ہیں۔ اس موقع پر سینکڑوں لوگ سابق امریکی صدرکی  حمایت کے لیے عدالت کے باہر موجود تھے۔

 
۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

پاکستان کے زرعی شعبہ میں انقلاب کے لیے چینی...

اسلام آباد(شِنہوا)پاکستان کے شہر ملتان کے ایک کسان حسن رضا اس وقت حیران رہ گئے جب انہوں نے ایم این ایس زرعی یونیورسٹی کے عملے کی طرف سے مقامی کھیتوں میں چین کی جانب سے عطیہ کردہ مشین (کارن کوب)سے مکئی کے بھٹے  چننے کا عملی مظاہرہ دیکھا۔

رضا نے شِنہوا کو بتایا کہ نئی متعارف کرائی گئی مشین کے بارے میں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے میں مدد دے گی کیونکہ یہ بیجوں کی بجائے پورے بھٹے  کو چنتی ہے، جس سے کسانوں کو اپنی فصل کی کٹائی مقررہ وقت سے پہلے کرنے کا موقع ملتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مکئی کی فصل کو تباہی کا سامنا ہے کیونکہ پاکستان میں مقامی مشینیں مکئی کے دانے چنتی ہیں جس کے لیے کسانوں کو اناج کے مکمل خشک ہونے تک انتظار کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے گرمی  یا غیر متوقع موسمی حالات کے نتیجے میں زیادہ بارشوں کی وجہ سے فصل کے نقصان کا خطرہ رہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین کی اس نئی مشین  کے ساتھ، کاشتکار اب پورے بھٹے کو الگ کرسکتے ہیں اور اسے ناموافق موسمی حالات پیدا ہونے سے پہلے گھر کے اندر خشک کر سکتے ہیں۔اس سے فصل کی  بچت کے ساتھ  کام  بھی آسان ہوسکتا ہے۔ 

 شعبہ  زراعت میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک ) تعاون کے تحت چین کے تیانجن ماڈرن ووکیشنل ٹیکنالوجی کالج نے ایم این ایس یونیورسٹی آف ایگریکلچر ملتان کے ساتھ مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کیے جس کا مقصد پاکستان کے زرعی شعبہ  میں ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی لوگوں کو جدید کاشتکاری کی تکنیکوں کو اپنانے میں مہارت فراہم کرنا ہے۔ 

 ایم او یو کے تحت چین سے کارن کوب چننے والے کے پرزہ جات پاکستان کو عطیہ کیے گئے  اور اس مشین کو لبان ورکشاپ ملتان میں اسمبل کیا گیا جو پنجاب ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی اور تیانجن ماڈرن ووکیشنل ٹیکنالوجی کالج کا مشترکہ منصوبہ ہے۔

 ایم این ایس-یونیورسٹی آف ایگریکلچر کے زرعی انجینئر اور اسسٹنٹ پروفیسر سرفراز ہاشم نے شِنہوا کو بتایا کہ مشین کی قیمت 55ہزار ڈالر تھی، لیکن چینی یونیورسٹی نے پاکستان کو زراعت کو جدید بنانے کے لیے اسے مفت فراہم کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ہمارے طلباء اور انجینئرز نے مشین کو چلانے اور اسمبل کرنے کے لیے دو ہفتے کی ورچوئل ٹریننگ لی ۔ کچھ طلباء اور انجینئرز زرعی مشینوں اور کاشتکاری کی تکنیکوں کے بارے میں مزید جاننے کے لیے چین جائیں گے۔ 

ہاشم نے کہا کہ مشین کے عملی مظاہرے کے بعد، اسے کسانوں کو کم قیمت پر دیا جائے گا جو  اسے یونیورسٹی کے تکنیکی ماہرین کی نگرانی میں فصل کی کٹائی کے لیے استعمال کریں گے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ  کھیتوں میں عملی مظاہرے کا ردعمل بہت خوش آئند تھا اور کسان اس مشین سے واقعی متاثر ہوئے، زراعت کے کاروبار سے وابستہ لوگ اگلے مرحلے میں اسے درآمد کر کے ملک کے دیگر حصوں میں بھی اس کے استعمال کو بڑھا سکتے ہیں جس سے مشین کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو جائے گا۔ 

پروفیسرسرفراز ہاشم  نے کہا کہ مشین کے بارے میں سب سے اچھی چیز اس کی کارکردگی ہے کیونکہ یہ ایک ایکڑ زمین سے ایک گھنٹے میں مکئی کے بھٹے چن سکتی ہے، عام طور پر اس کام کو مکمل کرنے میں  ایک مزدور کو 12 گھنٹے لگتے ہیں۔ 

پاکستان کے زرعی شعبے پر چین کی طرف سے ٹیکنالوجی کی منتقلی کے اثرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے، ہاشم نے کہا کہ میکانائزیشن میں، چین کی جدید ٹیکنالوجی عروج پرہے اور اس کی پیداوار پاکستان سے کہیں زیادہ ہے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک کے تحت زرعی تعاون میں پاکستان میں چینی مشینوں کو متعارف کرانا ہماری بنیادی ضرورت ہے، جو پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی اور غذائی تحفظ کے چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد فراہم کرے گی۔ 

ایم این ایس یونیورسٹی آف ایگریکلچر میں زراعت کے طالب علم سکندر رضا نے شِنہوا کو بتایا کہ وہ  جدید زرعی تکنیکس حاصل کرنے  کے لیے چین کا دورہ کرنے کے حوالے سے انتہائی پرجوش ہیں۔ اور وہ مقامی کسانوں کی زندگیوں کو بدلنے اور پاکستان میں زرعی ترقی کو فروغ دینے کے لیے جدید زرعی تکنیکس پر واپس آکر عملدرآمد کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین، جدید زراعت میں عالمی رہنما ہونے کے ناطے، پاکستان کے زرعی شعبے کی ترقی میں مدد کے لیے ضروری مدد اور علم کی منتقلی فراہم کر سکتا ہے۔ 

رضا نے کہا کہ زراعت کے جدید طریقوں جیسے کہ درست زراعت، ہائیڈروپونکس اور میکانائزیشن کو اپنانے سے، پاکستانی کسان پیداواری صلاحیت میں اضافہ  اور فصلوں کے نقصانات کو کم کر سکتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ بہتر منافع کما سکتے ہیں۔

 
۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

پاکستان کے زرعی شعبہ میں انقلاب کے لیے چینی...

اسلام آباد(شِنہوا)پاکستان کے شہر ملتان کے ایک کسان حسن رضا اس وقت حیران رہ گئے جب انہوں نے ایم این ایس زرعی یونیورسٹی کے عملے کی طرف سے مقامی کھیتوں میں چین کی جانب سے عطیہ کردہ مشین (کارن کوب)سے مکئی کے بھٹے  چننے کا عملی مظاہرہ دیکھا۔

رضا نے شِنہوا کو بتایا کہ نئی متعارف کرائی گئی مشین کے بارے میں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے میں مدد دے گی کیونکہ یہ بیجوں کی بجائے پورے بھٹے  کو چنتی ہے، جس سے کسانوں کو اپنی فصل کی کٹائی مقررہ وقت سے پہلے کرنے کا موقع ملتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مکئی کی فصل کو تباہی کا سامنا ہے کیونکہ پاکستان میں مقامی مشینیں مکئی کے دانے چنتی ہیں جس کے لیے کسانوں کو اناج کے مکمل خشک ہونے تک انتظار کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے گرمی  یا غیر متوقع موسمی حالات کے نتیجے میں زیادہ بارشوں کی وجہ سے فصل کے نقصان کا خطرہ رہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین کی اس نئی مشین  کے ساتھ، کاشتکار اب پورے بھٹے کو الگ کرسکتے ہیں اور اسے ناموافق موسمی حالات پیدا ہونے سے پہلے گھر کے اندر خشک کر سکتے ہیں۔اس سے فصل کی  بچت کے ساتھ  کام  بھی آسان ہوسکتا ہے۔ 

 شعبہ  زراعت میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک ) تعاون کے تحت چین کے تیانجن ماڈرن ووکیشنل ٹیکنالوجی کالج نے ایم این ایس یونیورسٹی آف ایگریکلچر ملتان کے ساتھ مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کیے جس کا مقصد پاکستان کے زرعی شعبہ  میں ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی لوگوں کو جدید کاشتکاری کی تکنیکوں کو اپنانے میں مہارت فراہم کرنا ہے۔ 

 ایم او یو کے تحت چین سے کارن کوب چننے والے کے پرزہ جات پاکستان کو عطیہ کیے گئے  اور اس مشین کو لبان ورکشاپ ملتان میں اسمبل کیا گیا جو پنجاب ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی اور تیانجن ماڈرن ووکیشنل ٹیکنالوجی کالج کا مشترکہ منصوبہ ہے۔

 ایم این ایس-یونیورسٹی آف ایگریکلچر کے زرعی انجینئر اور اسسٹنٹ پروفیسر سرفراز ہاشم نے شِنہوا کو بتایا کہ مشین کی قیمت 55ہزار ڈالر تھی، لیکن چینی یونیورسٹی نے پاکستان کو زراعت کو جدید بنانے کے لیے اسے مفت فراہم کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ہمارے طلباء اور انجینئرز نے مشین کو چلانے اور اسمبل کرنے کے لیے دو ہفتے کی ورچوئل ٹریننگ لی ۔ کچھ طلباء اور انجینئرز زرعی مشینوں اور کاشتکاری کی تکنیکوں کے بارے میں مزید جاننے کے لیے چین جائیں گے۔ 

ہاشم نے کہا کہ مشین کے عملی مظاہرے کے بعد، اسے کسانوں کو کم قیمت پر دیا جائے گا جو  اسے یونیورسٹی کے تکنیکی ماہرین کی نگرانی میں فصل کی کٹائی کے لیے استعمال کریں گے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ  کھیتوں میں عملی مظاہرے کا ردعمل بہت خوش آئند تھا اور کسان اس مشین سے واقعی متاثر ہوئے، زراعت کے کاروبار سے وابستہ لوگ اگلے مرحلے میں اسے درآمد کر کے ملک کے دیگر حصوں میں بھی اس کے استعمال کو بڑھا سکتے ہیں جس سے مشین کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو جائے گا۔ 

پروفیسرسرفراز ہاشم  نے کہا کہ مشین کے بارے میں سب سے اچھی چیز اس کی کارکردگی ہے کیونکہ یہ ایک ایکڑ زمین سے ایک گھنٹے میں مکئی کے بھٹے چن سکتی ہے، عام طور پر اس کام کو مکمل کرنے میں  ایک مزدور کو 12 گھنٹے لگتے ہیں۔ 

پاکستان کے زرعی شعبے پر چین کی طرف سے ٹیکنالوجی کی منتقلی کے اثرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے، ہاشم نے کہا کہ میکانائزیشن میں، چین کی جدید ٹیکنالوجی عروج پرہے اور اس کی پیداوار پاکستان سے کہیں زیادہ ہے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک کے تحت زرعی تعاون میں پاکستان میں چینی مشینوں کو متعارف کرانا ہماری بنیادی ضرورت ہے، جو پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی اور غذائی تحفظ کے چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد فراہم کرے گی۔ 

ایم این ایس یونیورسٹی آف ایگریکلچر میں زراعت کے طالب علم سکندر رضا نے شِنہوا کو بتایا کہ وہ  جدید زرعی تکنیکس حاصل کرنے  کے لیے چین کا دورہ کرنے کے حوالے سے انتہائی پرجوش ہیں۔ اور وہ مقامی کسانوں کی زندگیوں کو بدلنے اور پاکستان میں زرعی ترقی کو فروغ دینے کے لیے جدید زرعی تکنیکس پر واپس آکر عملدرآمد کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین، جدید زراعت میں عالمی رہنما ہونے کے ناطے، پاکستان کے زرعی شعبے کی ترقی میں مدد کے لیے ضروری مدد اور علم کی منتقلی فراہم کر سکتا ہے۔ 

رضا نے کہا کہ زراعت کے جدید طریقوں جیسے کہ درست زراعت، ہائیڈروپونکس اور میکانائزیشن کو اپنانے سے، پاکستانی کسان پیداواری صلاحیت میں اضافہ  اور فصلوں کے نقصانات کو کم کر سکتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ بہتر منافع کما سکتے ہیں۔

 
۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

پاکستان کے زرعی شعبہ میں انقلاب کے لیے چینی...

اسلام آباد(شِنہوا)پاکستان کے شہر ملتان کے ایک کسان حسن رضا اس وقت حیران رہ گئے جب انہوں نے ایم این ایس زرعی یونیورسٹی کے عملے کی طرف سے مقامی کھیتوں میں چین کی جانب سے عطیہ کردہ مشین (کارن کوب)سے مکئی کے بھٹے  چننے کا عملی مظاہرہ دیکھا۔

رضا نے شِنہوا کو بتایا کہ نئی متعارف کرائی گئی مشین کے بارے میں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے میں مدد دے گی کیونکہ یہ بیجوں کی بجائے پورے بھٹے  کو چنتی ہے، جس سے کسانوں کو اپنی فصل کی کٹائی مقررہ وقت سے پہلے کرنے کا موقع ملتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مکئی کی فصل کو تباہی کا سامنا ہے کیونکہ پاکستان میں مقامی مشینیں مکئی کے دانے چنتی ہیں جس کے لیے کسانوں کو اناج کے مکمل خشک ہونے تک انتظار کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے گرمی  یا غیر متوقع موسمی حالات کے نتیجے میں زیادہ بارشوں کی وجہ سے فصل کے نقصان کا خطرہ رہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین کی اس نئی مشین  کے ساتھ، کاشتکار اب پورے بھٹے کو الگ کرسکتے ہیں اور اسے ناموافق موسمی حالات پیدا ہونے سے پہلے گھر کے اندر خشک کر سکتے ہیں۔اس سے فصل کی  بچت کے ساتھ  کام  بھی آسان ہوسکتا ہے۔ 

 شعبہ  زراعت میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک ) تعاون کے تحت چین کے تیانجن ماڈرن ووکیشنل ٹیکنالوجی کالج نے ایم این ایس یونیورسٹی آف ایگریکلچر ملتان کے ساتھ مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کیے جس کا مقصد پاکستان کے زرعی شعبہ  میں ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی لوگوں کو جدید کاشتکاری کی تکنیکوں کو اپنانے میں مہارت فراہم کرنا ہے۔ 

 ایم او یو کے تحت چین سے کارن کوب چننے والے کے پرزہ جات پاکستان کو عطیہ کیے گئے  اور اس مشین کو لبان ورکشاپ ملتان میں اسمبل کیا گیا جو پنجاب ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی اور تیانجن ماڈرن ووکیشنل ٹیکنالوجی کالج کا مشترکہ منصوبہ ہے۔

 ایم این ایس-یونیورسٹی آف ایگریکلچر کے زرعی انجینئر اور اسسٹنٹ پروفیسر سرفراز ہاشم نے شِنہوا کو بتایا کہ مشین کی قیمت 55ہزار ڈالر تھی، لیکن چینی یونیورسٹی نے پاکستان کو زراعت کو جدید بنانے کے لیے اسے مفت فراہم کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ہمارے طلباء اور انجینئرز نے مشین کو چلانے اور اسمبل کرنے کے لیے دو ہفتے کی ورچوئل ٹریننگ لی ۔ کچھ طلباء اور انجینئرز زرعی مشینوں اور کاشتکاری کی تکنیکوں کے بارے میں مزید جاننے کے لیے چین جائیں گے۔ 

ہاشم نے کہا کہ مشین کے عملی مظاہرے کے بعد، اسے کسانوں کو کم قیمت پر دیا جائے گا جو  اسے یونیورسٹی کے تکنیکی ماہرین کی نگرانی میں فصل کی کٹائی کے لیے استعمال کریں گے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ  کھیتوں میں عملی مظاہرے کا ردعمل بہت خوش آئند تھا اور کسان اس مشین سے واقعی متاثر ہوئے، زراعت کے کاروبار سے وابستہ لوگ اگلے مرحلے میں اسے درآمد کر کے ملک کے دیگر حصوں میں بھی اس کے استعمال کو بڑھا سکتے ہیں جس سے مشین کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو جائے گا۔ 

پروفیسرسرفراز ہاشم  نے کہا کہ مشین کے بارے میں سب سے اچھی چیز اس کی کارکردگی ہے کیونکہ یہ ایک ایکڑ زمین سے ایک گھنٹے میں مکئی کے بھٹے چن سکتی ہے، عام طور پر اس کام کو مکمل کرنے میں  ایک مزدور کو 12 گھنٹے لگتے ہیں۔ 

پاکستان کے زرعی شعبے پر چین کی طرف سے ٹیکنالوجی کی منتقلی کے اثرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے، ہاشم نے کہا کہ میکانائزیشن میں، چین کی جدید ٹیکنالوجی عروج پرہے اور اس کی پیداوار پاکستان سے کہیں زیادہ ہے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک کے تحت زرعی تعاون میں پاکستان میں چینی مشینوں کو متعارف کرانا ہماری بنیادی ضرورت ہے، جو پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی اور غذائی تحفظ کے چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد فراہم کرے گی۔ 

ایم این ایس یونیورسٹی آف ایگریکلچر میں زراعت کے طالب علم سکندر رضا نے شِنہوا کو بتایا کہ وہ  جدید زرعی تکنیکس حاصل کرنے  کے لیے چین کا دورہ کرنے کے حوالے سے انتہائی پرجوش ہیں۔ اور وہ مقامی کسانوں کی زندگیوں کو بدلنے اور پاکستان میں زرعی ترقی کو فروغ دینے کے لیے جدید زرعی تکنیکس پر واپس آکر عملدرآمد کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین، جدید زراعت میں عالمی رہنما ہونے کے ناطے، پاکستان کے زرعی شعبے کی ترقی میں مدد کے لیے ضروری مدد اور علم کی منتقلی فراہم کر سکتا ہے۔ 

رضا نے کہا کہ زراعت کے جدید طریقوں جیسے کہ درست زراعت، ہائیڈروپونکس اور میکانائزیشن کو اپنانے سے، پاکستانی کسان پیداواری صلاحیت میں اضافہ  اور فصلوں کے نقصانات کو کم کر سکتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ بہتر منافع کما سکتے ہیں۔

 
۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

پاکستان کے زرعی شعبہ میں انقلاب کے لیے چینی...

اسلام آباد(شِنہوا)پاکستان کے شہر ملتان کے ایک کسان حسن رضا اس وقت حیران رہ گئے جب انہوں نے ایم این ایس زرعی یونیورسٹی کے عملے کی طرف سے مقامی کھیتوں میں چین کی جانب سے عطیہ کردہ مشین (کارن کوب)سے مکئی کے بھٹے  چننے کا عملی مظاہرہ دیکھا۔

رضا نے شِنہوا کو بتایا کہ نئی متعارف کرائی گئی مشین کے بارے میں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے میں مدد دے گی کیونکہ یہ بیجوں کی بجائے پورے بھٹے  کو چنتی ہے، جس سے کسانوں کو اپنی فصل کی کٹائی مقررہ وقت سے پہلے کرنے کا موقع ملتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مکئی کی فصل کو تباہی کا سامنا ہے کیونکہ پاکستان میں مقامی مشینیں مکئی کے دانے چنتی ہیں جس کے لیے کسانوں کو اناج کے مکمل خشک ہونے تک انتظار کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے گرمی  یا غیر متوقع موسمی حالات کے نتیجے میں زیادہ بارشوں کی وجہ سے فصل کے نقصان کا خطرہ رہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین کی اس نئی مشین  کے ساتھ، کاشتکار اب پورے بھٹے کو الگ کرسکتے ہیں اور اسے ناموافق موسمی حالات پیدا ہونے سے پہلے گھر کے اندر خشک کر سکتے ہیں۔اس سے فصل کی  بچت کے ساتھ  کام  بھی آسان ہوسکتا ہے۔ 

 شعبہ  زراعت میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک ) تعاون کے تحت چین کے تیانجن ماڈرن ووکیشنل ٹیکنالوجی کالج نے ایم این ایس یونیورسٹی آف ایگریکلچر ملتان کے ساتھ مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کیے جس کا مقصد پاکستان کے زرعی شعبہ  میں ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی لوگوں کو جدید کاشتکاری کی تکنیکوں کو اپنانے میں مہارت فراہم کرنا ہے۔ 

 ایم او یو کے تحت چین سے کارن کوب چننے والے کے پرزہ جات پاکستان کو عطیہ کیے گئے  اور اس مشین کو لبان ورکشاپ ملتان میں اسمبل کیا گیا جو پنجاب ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی اور تیانجن ماڈرن ووکیشنل ٹیکنالوجی کالج کا مشترکہ منصوبہ ہے۔

 ایم این ایس-یونیورسٹی آف ایگریکلچر کے زرعی انجینئر اور اسسٹنٹ پروفیسر سرفراز ہاشم نے شِنہوا کو بتایا کہ مشین کی قیمت 55ہزار ڈالر تھی، لیکن چینی یونیورسٹی نے پاکستان کو زراعت کو جدید بنانے کے لیے اسے مفت فراہم کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ہمارے طلباء اور انجینئرز نے مشین کو چلانے اور اسمبل کرنے کے لیے دو ہفتے کی ورچوئل ٹریننگ لی ۔ کچھ طلباء اور انجینئرز زرعی مشینوں اور کاشتکاری کی تکنیکوں کے بارے میں مزید جاننے کے لیے چین جائیں گے۔ 

ہاشم نے کہا کہ مشین کے عملی مظاہرے کے بعد، اسے کسانوں کو کم قیمت پر دیا جائے گا جو  اسے یونیورسٹی کے تکنیکی ماہرین کی نگرانی میں فصل کی کٹائی کے لیے استعمال کریں گے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ  کھیتوں میں عملی مظاہرے کا ردعمل بہت خوش آئند تھا اور کسان اس مشین سے واقعی متاثر ہوئے، زراعت کے کاروبار سے وابستہ لوگ اگلے مرحلے میں اسے درآمد کر کے ملک کے دیگر حصوں میں بھی اس کے استعمال کو بڑھا سکتے ہیں جس سے مشین کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو جائے گا۔ 

پروفیسرسرفراز ہاشم  نے کہا کہ مشین کے بارے میں سب سے اچھی چیز اس کی کارکردگی ہے کیونکہ یہ ایک ایکڑ زمین سے ایک گھنٹے میں مکئی کے بھٹے چن سکتی ہے، عام طور پر اس کام کو مکمل کرنے میں  ایک مزدور کو 12 گھنٹے لگتے ہیں۔ 

پاکستان کے زرعی شعبے پر چین کی طرف سے ٹیکنالوجی کی منتقلی کے اثرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے، ہاشم نے کہا کہ میکانائزیشن میں، چین کی جدید ٹیکنالوجی عروج پرہے اور اس کی پیداوار پاکستان سے کہیں زیادہ ہے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک کے تحت زرعی تعاون میں پاکستان میں چینی مشینوں کو متعارف کرانا ہماری بنیادی ضرورت ہے، جو پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی اور غذائی تحفظ کے چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد فراہم کرے گی۔ 

ایم این ایس یونیورسٹی آف ایگریکلچر میں زراعت کے طالب علم سکندر رضا نے شِنہوا کو بتایا کہ وہ  جدید زرعی تکنیکس حاصل کرنے  کے لیے چین کا دورہ کرنے کے حوالے سے انتہائی پرجوش ہیں۔ اور وہ مقامی کسانوں کی زندگیوں کو بدلنے اور پاکستان میں زرعی ترقی کو فروغ دینے کے لیے جدید زرعی تکنیکس پر واپس آکر عملدرآمد کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین، جدید زراعت میں عالمی رہنما ہونے کے ناطے، پاکستان کے زرعی شعبے کی ترقی میں مدد کے لیے ضروری مدد اور علم کی منتقلی فراہم کر سکتا ہے۔ 

رضا نے کہا کہ زراعت کے جدید طریقوں جیسے کہ درست زراعت، ہائیڈروپونکس اور میکانائزیشن کو اپنانے سے، پاکستانی کسان پیداواری صلاحیت میں اضافہ  اور فصلوں کے نقصانات کو کم کر سکتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ بہتر منافع کما سکتے ہیں۔

 
۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

چینی مین لینڈ کا ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی سے...

بیجنگ(شِنہوا)  چینی مین لینڈ کی ترجمان نے  ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی (ڈی پی پی) حکام پر زور دیا ہے کہ وہ آبنائے تائیوان میں تبادلوں اور تعاون پر عائد غیر معقول پابندیاں ہٹائیں اور جان بوجھ کر رکاوٹیں پیدا کرنا بند کریں۔

ریاستی کونسل کے تائیوان امور دفتر کی ترجمان ژو فینگ لیان نے یہ بیان  ان رپورٹس پر تبصرہ کرتے ہوئے دیا کہ ڈی پی پی حکام تائیوان میں کام کرنے والی ما ینگ جیو فاؤنڈیشن کی جانب سے وسط جولائی میں مین لینڈ کے 50 کالج طلباء کے دورے اور تائیوانی طلباء کے ساتھ تبادلوں کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے اعلان کردہ منصوبے کی حمایت نہیں کریں گے۔ترجمان نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ڈی پی پی حکام آبنائے پار نوجوانوں کی خواہشات اور مطالبات کو سنجیدگی سے لیں گے اور یہ کہ  ڈی پی پی حکام کو مین لینڈ اور تائیوان کے نوجوانوں کے درمیان ہونے والے تبادلوں سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی طلبہ کو مایوس کرنا چاہیئے۔

 
۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

چینی مین لینڈ کا ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی سے...

بیجنگ(شِنہوا)  چینی مین لینڈ کی ترجمان نے  ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی (ڈی پی پی) حکام پر زور دیا ہے کہ وہ آبنائے تائیوان میں تبادلوں اور تعاون پر عائد غیر معقول پابندیاں ہٹائیں اور جان بوجھ کر رکاوٹیں پیدا کرنا بند کریں۔

ریاستی کونسل کے تائیوان امور دفتر کی ترجمان ژو فینگ لیان نے یہ بیان  ان رپورٹس پر تبصرہ کرتے ہوئے دیا کہ ڈی پی پی حکام تائیوان میں کام کرنے والی ما ینگ جیو فاؤنڈیشن کی جانب سے وسط جولائی میں مین لینڈ کے 50 کالج طلباء کے دورے اور تائیوانی طلباء کے ساتھ تبادلوں کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے اعلان کردہ منصوبے کی حمایت نہیں کریں گے۔ترجمان نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ڈی پی پی حکام آبنائے پار نوجوانوں کی خواہشات اور مطالبات کو سنجیدگی سے لیں گے اور یہ کہ  ڈی پی پی حکام کو مین لینڈ اور تائیوان کے نوجوانوں کے درمیان ہونے والے تبادلوں سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی طلبہ کو مایوس کرنا چاہیئے۔

 
۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

صحت کی ناقص سہولتوں سے سالانہ 80 لاکھ اموات...

اقوام متحدہ(شِنہوا)اقوام متحدہ کی دو ایجنسیوں نے کہا ہے کہ کم اور درمیانی آمدنی والے 137ممالک میں ناقص معیار کی صحت کی سہولتوں سے سالانہ 80 لاکھ افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کی طرف سے جاری کردہ مشترکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی ناقص سہولتوں کی وجہ سے ہر سال خراب صحت اور قبل از وقت اموات کی وجہ سے 60 کھرب  ڈالر کا معاشی نقصان ہوتا ہے۔

تحقیق سے پتا چلا کہ تمام ممالک میں سے صرف 12 فیصد کے پاس صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات میں پانی، صفائی اور حفظان صحت (واش) کے اہداف تک پہنچنے کے لیے درکار فنڈز کا 75 فیصد سے زیادہ موجود ہے۔

 
۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

یونیورسل ہیلتھ انشورنس پروگرام میں انتظامی ب...

نگران وزیراعلی پنجاب محسن نقوی نے کہا ہے کہ یونیورسل ہیلتھ انشورنس پروگرام میں انتظامی بہتری لائی جائے۔ نگران وزیراعلی پنجاب محسن نقوی کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں ہسپتالوں اور ہیلتھ کیئر کی سہولتوں میں بہتری کا جائزہ لیا گیا۔ محسن نقوی نے ہسپتالوں کی سکیورٹی میں بہتری لانے کیلئے فوری اقدامات کی ہدایت کی، اجلاس میں لاہورسمیت 5 شہروں میں اربن ڈسپینسریوں کی بحالی اور تعمیر ومرمت کا فیصلہ کیا گیا۔ محسن نقوی نے ڈسٹرکٹ اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں پرائیویٹ اینتھیزیالوجسٹ کی خدمات حاصل کرنے کی بھی ہدایت کی۔ دوران اجلاس محسن نقوی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پرائمری اورسکینڈری ہیلتھ کیلئے100 ایمبولینسز مہیا کردی گئی ہیں جبکہ 112 مزید دی جائیں گی، ڈیجیٹل سسٹم کے تحت دیہی اورعلاقائی ہسپتالوں میں مریضوں کی آمدورفت اورعلاج کی مانیٹرنگ جاری ہے۔ وزیراعلی کو بریفنگ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 119 رورل ہیلتھ سینٹرز کی سروسز میں بہتری کا ہدف جلد حاصل کر لیا جائے گا، ڈسٹرکٹ اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں تھری کلر بیڈ شیٹس اور ایمرجنسی کیلئے ڈسپوزیبل بیڈ شیٹس مہیا کی گئی ہیں۔ نگران وزیراعلی پنجاب محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں میں اے سی، پنکھے، واٹر کولر فعال ہونے چاہئیں، صفائی کی صورتحال میں بہتری لائی جائے، کم آمدن والے لوگوں کی سہولت کیلئے یونیورسل ہیلتھ انشورنس پروگرام میں انتظامی بہتری لائی جائے۔ صوبائی وزیر سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹر جاوید اکرم، صوبائی وزیر پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ ڈاکٹر جمال ناصر، سیکرٹری صحت، سیکرٹری خزانہ اور دیگر متعلقہ حکام اجلاس میں شریک تھے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی

۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

مراکش اور پاکستان کے اقتصادی تعلقات کو مزید...

پاکستان میں مراکش کے سفیر محمد کارمون نے کہا ہے کہ پاکستان اور مراکش کے مابین دیرینہ تجارتی اور سفارتی تعلقات قائم ہیں اور ان کے ملک کی حکومت اور عوام پاکستانیوں کو بھائی سمجھتے ہیں۔ پاکستانی تاجر برادری مراکش اور افریقہ میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ ہم ان سے بھرپور تعاون کریں گے۔ یہ بات انھوں نے اسلام آباد انڈسٹریل ایسوسی ایشن (IIA) کے ممبران سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر اسلام آباد انڈسٹریل ایسوسی ایشن کے صدر محمد احمد، نائب صدرعثمان شوکت، میاں اکرم فرید، خالد جاوید، طارق صادق، چوہدری وحید الدین، زکریا ضیائ، میاں شوکت مسعود، عمیس خٹک، عاطف اکرام شیخ، نعیم پراچہ، ملک سہیل حسین اور دیگر موجود تھے۔ مراکش کے سفیر محمد کارمون نے کہا کہ دونوں برادر ممالک کے تجارتی تعلقات میںبہتری کی بہت گنجائش ہے اور دونوں طرف کے سرمایہ کاروں کو ان مواقع سے پوری طرح آگاہ ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان سے چاول، آئی ٹی سروسز، ٹیکسٹائل اور فارماسیوٹیکل درآمد کرنے کے منتظر ہیں۔ پاکستانی سرمایہ کار مراکش میں پیٹرو کیمیکل، فاسفیٹ، گاڑیوں چمڑے اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ مراکش میں دنیا کے کل فاسفیٹ ذخائر کا 77 فیصد موجودہے ۔ فاسفیٹ کھاد میں استعمال ہوتا ہے اور ہم عالمی سطح پر بھوک کو کم کرنے میں مدد کر رہے ہیں۔قبل ازیں اسلام آباد انڈسٹریل ایسوسی ایشن کے صدر محمد احمد اور دیگر صنعتکاروںنے سفیر کے اپنی تنظیم کے بارے میں آگاہ کیا اور مراکش میں سرمایہ کاری کے مواقع کے بارے میں متعدد سوالات پوچھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں برادر اسلامی ملک کے ساتھ تجارت کو بڑھانا چاہیے۔ہمیں مراکش کے کردار پر فخر ہے اور ہمارا وفد جلد مراکش کا دورہ کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ افریقی کانٹینینٹل فری ٹریڈ ایریا اس بر اعظم کی معیشت کو ترقی دے گا اور یہ معاہدہ پاکستان کو افریقی ممالک کے ساتھ اپنے تجارتی اور سرمایہ کاری کے روابط بڑھانے کے لیے نئی راہیں فراہم کرے گا۔انھوں نے افریقی ممالک کے ساتھ پاکستان کی گہری سیاسی و اقتصادی وابستگی کو بہت اہم قرار دیا ۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی

۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

نئی ٹیکنالوجیز کو بروئے کار لاکرصنعتوں کی پی...

فیصل آباد چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ڈاکٹر خرم طارق نے کہا کہ نئی فلاسفی اور ٹیکنالوجیز کو بروئے کار لاکرصنعتوں کی پیداوار بڑھائی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ لین کے فلاسفے سے فضول طریقہ کار کو ترک کر کے ویسٹ کو صفر کیا جا سکتا ہے،اس ضمن میں فیصل آباد کی صنعتوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق لانے کے لیے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری تسلسل کے ساتھ نئی پیداواری فلاسفی، ٹیکنالوجیز اور انتظامی اقدامات بارے آگاہی سیمینار منعقد کرارہا ہے تاکہ صنعتکاروں کے لیے پیداوار بڑھانے کی راہ ہموار کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلہ میں ہمیں عالمی سطح پر ان جدید طریقوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے جبکہ آئندہ مرحلے میں ایسے طریقہ کار کو مقامی صنعتوں میں رائج کرنا بھی ایک چیلنج ہوگا جن پر مقامی معاشی اور معاشرتی روایات کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنانے کی راہیں تلاش کرنا ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے اداروں کو منظم طریقے سے چلانے کے لیے ضروری اور غیر ضروری طریقہ کار کی نشاندہی کرنا ہو گی تاکہ فضول کاموں میں وقت ضائع نہ ہو اور صرف ضروری مسائل پر توجہ دی جا سکے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی

۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

پنجاب میں 35لاکھ ٹن سے زائد پیداوار حاصل ہون...

محکمہ زراعت نے فیصل آباد ڈویژن کے چاروں اضلاع فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، چنیوٹ سمیت پنجاب بھر میں 44لاکھ 40ہزار ایکڑسے زائد رقبہ پر دھان کی کاشت کاہدف مقرر کیاہے جہاں سے35لاکھ ٹن سے زائد پیداوار حاصل ہونے کا امکان ہے۔نظامت زرعی اطلاعات محکمہ زراعت کے ترجمان نے بتایاکہ کاشتکار دھان کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار حاصل کرنے کیلئے محکمہ زراعت کی منظور شدہ اقسام کی کاشت فوری شروع کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ دھان کی زیادہ پیداواری صلاحیت کی حامل منظور شدہ اقسام میں سپرباسمتی، باسمتی 370، باسمتی 385، باسمتی پاک(کرنل باسمتی)، باسمتی 2000، باسمتی 515، پی ایس 2، پی کے 386 اور باسمتی 198 وغیرہ(صرف ساہیوال، اوکاڑہ اور ملحقہ علاقوں کیلئے)کی پنیری 20 جون تک کاشت کی جاسکتی ہے جبکہ شاہین باسمتی کی پنیری کاموزوں وقت کاشت 15جون سے 30جون تک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کاشتکار ہائبرڈ اقسام وائی 26، پرائیڈ 1، شہنشاہ 2، پی ایچ بی 71اور آرائز سوئفٹ وغیرہ کی پنیری کی کاشت 15جون تک مکمل کرلیں تاکہ بروقت کاشت سے پیداوار کاہدف حاصل کرنے میں مدد مل سکے-

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی

 

۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

امریکہ نے تائیوان کو کسی بھی وقت چھوڑنے کا م...

بیجنگ (شِنہوا) چینی مین لینڈ کی ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ نے تائیوان کو کسی بھی وقت چھوڑنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ریاستی کونسل کے تائیوان امور دفتر کی ترجمان ژو فینگ لیان نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو پریس کانفرنس کے دوران تائیوان سے اپنے شہریوں کو نکالنے کے امریکی منصوبے کے بارے میں غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے جواب میں کیا۔

ژو نے کہا کہ کافی عرصے سے، کچھ امریکی سیاست دانوں نے آبنائے تائیوان میں امن اور استحکام کو فروغ دینے کے زبانی دعوے کیے ہیں لیکن درحقیقت، وہ تائیوان کو مسلسل اسلحہ بیچ کر اشتعال انگیزی کر رہے ہیں۔ترجمان نے مزید کہا کہ نام نہاد "انخلاء کا منصوبہ" سب پر واضح کرتا ہے کہ امریکہ نے تائیوان کو صرف چین پر قابو پانے کے لیے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا اور وہ اسے کسی بھی وقت  تنہا چھوڑ دے گا۔

ژو نے کہا کہ امریکہ ہمیشہ "امریکہ فرسٹ" کے نظریے پر عمل پیرا رہا ہے جو اپنے مفادات کے لیے دنیا میں تقسیم اور تصادم کو ہوا دے رہا ہے۔عراق ہو، شام ہو یا افغانستان، امریکہ نے صرف وہاں سے نکل کر لوٹ مار کی، ممالک کو انتشار اور لوگوں کو بدحالی کا شکار کیا،ترجمان نے مزید کہا کہ اب امریکہ تائیوان میں اپنی غلطیاں دہرانا چاہتا ہے۔ 

 
۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

امریکہ نے تائیوان کو کسی بھی وقت چھوڑنے کا م...

بیجنگ (شِنہوا) چینی مین لینڈ کی ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ نے تائیوان کو کسی بھی وقت چھوڑنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ریاستی کونسل کے تائیوان امور دفتر کی ترجمان ژو فینگ لیان نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو پریس کانفرنس کے دوران تائیوان سے اپنے شہریوں کو نکالنے کے امریکی منصوبے کے بارے میں غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے جواب میں کیا۔

ژو نے کہا کہ کافی عرصے سے، کچھ امریکی سیاست دانوں نے آبنائے تائیوان میں امن اور استحکام کو فروغ دینے کے زبانی دعوے کیے ہیں لیکن درحقیقت، وہ تائیوان کو مسلسل اسلحہ بیچ کر اشتعال انگیزی کر رہے ہیں۔ترجمان نے مزید کہا کہ نام نہاد "انخلاء کا منصوبہ" سب پر واضح کرتا ہے کہ امریکہ نے تائیوان کو صرف چین پر قابو پانے کے لیے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا اور وہ اسے کسی بھی وقت  تنہا چھوڑ دے گا۔

ژو نے کہا کہ امریکہ ہمیشہ "امریکہ فرسٹ" کے نظریے پر عمل پیرا رہا ہے جو اپنے مفادات کے لیے دنیا میں تقسیم اور تصادم کو ہوا دے رہا ہے۔عراق ہو، شام ہو یا افغانستان، امریکہ نے صرف وہاں سے نکل کر لوٹ مار کی، ممالک کو انتشار اور لوگوں کو بدحالی کا شکار کیا،ترجمان نے مزید کہا کہ اب امریکہ تائیوان میں اپنی غلطیاں دہرانا چاہتا ہے۔ 

 
۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

امریکہ تائیوان کے معاملے میں چینی موقف کا اح...

بیجنگ(شِنہوا) چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ  چھن گانگ نے کہا ہے کہ امریکہ سے تائیوان کے معاملے میں چینی موقف کا احترام کرنے،اندرونی معاملات میں مداخلت بند  اور مسابقت کے نام پر چین کی خودمختاری، سلامتی اور ترقی کے مفادات کو نقصان پہنچانے کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

چینی وزیرخارجہ نے یہ مطالبہ امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن کے ساتھ فون پر بات چیت  کے دوران کیا، جس کے دوران انہوں نے مسئلہ  تائیوان اور دیگر بنیادی خدشات پر اپنے ملک کے پختہ موقف کی وضاحت کی۔ چھن نے کہا کہ رواں سال کے آغاز سے  دوطرفہ تعلقات کو نئی مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے، اور یہ بات واضح ہے کہ  اس کا کون ذمہ دار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ  امریکہ کے ساتھ تعلقات کو چین نے ہمیشہ صدر شی جن پھنگ کی طرف سے تجویز کردہ باہمی احترام، پرامن بقائے باہمی اور یکساں مفاد پر مبنی تعاون کے اصولوں کے مطابق دیکھا اور ہینڈل کیا ہے۔

چینی وزیر خارجہ نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ گروپ آف 20 کے بالی سربراہی اجلاس میں دونوں سربراہان مملکت میں طے پانے والے اہم اتفاق رائے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے اور اس سے کیے گئے متعلقہ وعدوں کا احترام کرے۔

 
۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

آئی ایم ایف پاکستان کو مالیاتی نظم و ضبط پر...

تاجر رہنما اوراسلام آباد چیمبر کے سابق صدر شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے ہر قسم کی سختی پاکستان کو مالیاتی نظم و ضبط پر عمل کرنے پر مجبور نہیں کر سکی ہے جو حیران کن ہے۔ ملک بمشکل دیوالیہ ہونے سے بچ رہا ہے اور افراط زر ناقابل کنٹرول ہے مگر اس کے باوجود شاہ خرچیاں جاری ہیں ۔مسلم اقتصادی اصولوں کی پامالی ، عالمی ادارے سے معاہدے کی کھلی خلاف ورزیوں اور دیگرغیر ذمہ دارانہ اقدامات کی وجہ سے آئی ایم ایف کی ناراضگی بڑھتی جا رہی ہے۔شاہد رشید بٹ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ موجودہ بجٹ ملکی حالات اور زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا اور اسے اربوں ڈالر کے قرضوں کے سہارے ہی زندہ رکھا جا سکتا ہے۔ معاشی زوال کی رفتار کم کرنے کے لئے سال رواں میں ایک یا اس سے زیادہ منی بجٹ بھی لانا پڑیں گے۔موجودہ صورتحال میں آیم ایف پروگرام کی جلد بحالی مشکل جس کے بغیر نئے قرضوں کا حصول اور پرانے قرضوں کی ری شیڈولنگ مشکل ہے۔ایسی صورتحال میں حکومت کواخراجات کے لئے مقامی بینکوں پر انحصار کرنا ہو گا جو مہنگا آپشن ہے جس سے پیداوار میں کمی اور مہنگائی و کاروباری برادری کی بد اعتماد میں اضافہ ہو گا۔ آئی ایم ایف کو مالی غیر ذمہ داری وبد انتظامی، بجٹ کے زریعے خسارہ اور مہنگائی کم کرنے کے بجائے بڑھانے اور ملک کو موجودہ مشکلات سے نکالنے میں ارباب اختیار کی عدم دلچسپی پر شدید تحفظات ہیں جومعاہدے کی بحالی میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ جی ڈی پی گروتھ گزشتہ سال کے 6.1فیصد سے کم ہوکر صرف 0.29فیصد رہ گئی ہے۔ معیشت کے تینوں شعبوں زراعت، صنعت اور سروس سیکٹر کی کارکردگی گزشتہ سال کے مقابلے میں مایوس کن رہی اور کوئی شعبہ اپنے طے کردہ اہداف حاصل نہ کرسکا۔ فی کس آمدنی میں بھی 11فیصد کمی ہوئی ہے۔گزشتہ ایک سال سے عوام کسی اچھی خبر کو ترس گئے ہیں۔ بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ ڈیفالٹ کی علامات پوری ہوچکی ہیںمحض اعلان باقی ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی

۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

پاکستان کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کی مالیت 300 سے...

پاکستان کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کی مالیت 300 سے 400 بلین ڈالر ہے،تعمیراتی شعبہ پاکستان کی کل لیبر فورس کا تقریبا 7.61 فیصد کام کرتا ہے اور 72 سے زائد متعلقہ صنعتوں کو محرک فراہم کرتا ہے،زراعت کے بعد یہ پاکستان کا روزگار کا دوسرا بڑا ذریعہ ہے،مہنگائی کی وجہ سے تعمیراتی منصوبوں کی لاگت 30 فیصد سے 35 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ ویلتھ پاک کی رپورٹ کے مطابق تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی نے پاکستان کی تعمیراتی صنعت کو سست کر دیا ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی قیمتوں نے لاگت میں اضافہ، منصوبوں میں تاخیر اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کو کم کر دیا ہے تاہم فعال مالیاتی منصوبہ بندی، حکومتی تعاون، تعاون اور جدت طرازی شعبے کو ان مشکل وقتوں سے گزرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ویلتھ پاک سے بات کرتے ہوئے ڈاسکون کنسٹرکشن کمپنی کے چیف فنانشل آفیسر میاں اکمل نے کہا کہ مہنگائی کی وجہ سے تعمیراتی منصوبوں کی لاگت 30 فیصد سے 35 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ سٹیل اور سیمنٹ کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے نصف تعمیراتی منصوبوں پر کام روک دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام، روپے کی قدر میں بڑے پیمانے پر کمی، اعلی پالیسی شرح، زیادہ ٹیکس، اور بجلی کی انتہائی بلند قیمتوں نے ہمارے بہت سے برآمدی کاروبار بند کر دیے ہیں۔میاں اکمل نے زور دیا کہ یہ ضروری ہے کہ حکومت ملک کی گرتی ہوئی معیشت کو بحال کرنے کے لیے سخت اقدامات کرے۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے سینئر ریسرچ اکانومسٹ عثمان قادر نے بتایا کہ ملک کی جی ڈی پی میں تعمیراتی شعبے کا حصہ 2.5 فیصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ پالیسی سازوں کو ملک کے جی ڈی پی میں تعمیراتی شعبے کا حصہ بڑھانے کے لیے مناسب مالیاتی پالیسیاں اپنانی چاہئیں۔ایک فروغ پزیر تعمیراتی شعبہ نہ صرف ملک میں متعدد شعبوں کو آگے بڑھائے گا بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کا ایک انتہائی موثر طریقہ بھی ہوگا۔ اقتصادی ترقی میں اس کی اہمیت کے باوجود، اس شعبے میں اپنی ترقی اور ضابطے کے لیے ادارہ جاتی نقطہ نظر کا فقدان ہے۔انہوں نے کہا کہ تعمیراتی صنعت کو فائدہ پہنچانے کے لیے ایک ہمہ گیر مالیاتی پالیسی وضع کی جانی چاہیے کیونکہ یہ جی ڈی پی اور ہر سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مضبوط اقتصادی ترقی حاصل کرنے اور روزگار پیدا کرنے کے لیے، حکومت کو ایسے شعبوں اور صنعتوں کو سہولت فراہم کرنے کی ضرورت ہے جو معیشت کو مستحکم کر سکیں۔پاکستان کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کی مالیت 300 سے 400 بلین ڈالر ہے۔ زراعت کے بعد یہ پاکستان کا روزگار کا دوسرا بڑا ذریعہ ہے۔ یہ ان اہم شعبوں میں سے ایک ہے جو ٹرکل ڈاون اثر کے ساتھ براہ راست متعدد شعبوں کو چلاتا ہے۔پاکستان کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی اور ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز کے مطابق، تعمیراتی شعبہ پاکستان کی کل لیبر فورس کا تقریبا 7.61 فیصد کام کرتا ہے اور 72 سے زائد متعلقہ صنعتوں کو محرک فراہم کرتا ہے۔پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق مئی میں پاکستان کی سالانہ افراط زر کی شرح 37.97 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جو کہ جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی

۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

سیف پاور لمیٹڈ کا خالص خسارہ سال 2023 کی پہل...

سیف پاور لمیٹڈ کا خالص خسارہ 2022 کی اسی مدت میں 29 ملین روپے کے خالص نقصان کے مقابلے میں جاری کیلنڈر سال 2023 کی پہلی سہ ماہی میں بڑھ کر 100 ملین روپے ہو گیا۔ ، ویلتھ پاک کی رپورٹ کے مطابق پاور کمپنی نے اعلی فروخت اور مجموعی منافع میں اضافہ دکھایا۔پاور فرم نے 577 ملین روپے کی فنانس لاگت برداشت کی۔ کمپنی نے 518 ملین روپے کا مجموعی منافع پوسٹ کیا، اس طرح سہ ماہی مجموعی منافع کا تناسب 25.2فیصدہے۔ تاہم کمپنی نے خالص نقصان کا تناسب 4.87فیصد پوسٹ کیا۔ SPWL نے 1QCY23 کو 0.26 روپے فی شیئر نقصان کے ساتھ ختم کیا۔2022 کی اسی مدت کے مقابلے میں اپنی آمدنی 1.15 بلین روپے سے 2.05 بلین روپے تک 78.4 فیصد بڑھائی۔ خالص نقصان کے باوجود، کمپنی نے اپنے مجموعی منافع میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اپنے مجموعی منافع میں 173.5 فیصد کا زبردست اضافہ کیا۔ فی شیئر نقصان بھی 0.08 روپے سے بڑھ کر 0.26 روپے ہو گیا۔یہ فرم پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں درج ہے۔ یہ پاور جنریشن اور ڈسٹری بیوشن سیکٹر میں رجسٹرڈ چھٹی سب سے بڑی فرم ہے جس کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 7 ارب روپے ہے۔کمپنی کے خالص منافع میں پچھلے تین سالوں میں مسلسل کمی واقع ہوئی ہے۔پچھلے چھ سالوں کے دوران 2022 میں سب سے زیادہ 22.87 بلین روپے اور 2020 میں 8 بلین روپے کی سب سے کم فروخت کی۔2017 سے 2022 تک، کمپنی نے 2019 میں سب سے زیادہ 3.6 بلین روپے کا خالص منافع اور 2022 میں سب سے کم 1.9 بلین روپے کا اعلان کیا۔کمپنی اپنی فروخت 2017 میں 12 بلین روپے سے بڑھا کر 2018 میں 16 بلین روپے کرنے میں کامیاب رہی، اس کے بعد 2019 اور 2020 میں کمی آئی۔ 2020 میں کمپنی کی سیلز 8.9 بلین روپے تک گر گئی۔خالص منافع 2017 میں 2.5 بلین روپے سے بڑھ کر 2018 میں 3.03 بلین روپے اور 2019 میں 3.65 بلین روپے ہو گیا۔ تاہم، منافع بعد میں کم ہونا شروع ہو گیا جس کے بعد کمپنی نے 2020 میں 2.3 بلین روپے اور 1.9 بلین روپے کا منافع پوسٹ کیا۔ بالترتیب 2021 اور 2022۔پچھلے چھ سالوں میںکمپنی نے 2019 میں 9.44 روپے فی حصص کی سب سے زیادہ آمدنی پوسٹ کی۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی

۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

سندھ 22.17 فیصد کے تناسب کے ساتھ باقی صوبوں...

پاکستان کا صوبہ سندھ 22.17 فیصد کے تناسب کے ساتھ باقی صوبوں میں انٹرنیٹ کی رسائی میں سرفہرست ہے۔سندھ کے بعد صوبہ پنجاب کا نمبر آتا ہے جہاں انٹرنیٹ کی رسائی 19.7 فیصد ہے۔ اس کے بعد بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے صوبوں میں انٹرنیٹ کی رسائی بالترتیب 14.73 اور 14.30فیصدہے۔ویلتھ پاک کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں مقیم ایک تھنک ٹینک ٹیبڈلیب کے ایک ورکنگ پیپر جس کا عنوان ہے "پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے رہنما،" پاکستان کے ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کی حالت بہترین کوشش کر رہی ہے۔اگرچہ پالیسی اقدامات اور ٹیک انفراسٹرکچر کے حوالے سے کچھ قابل ذکر فوائد حاصل ہوئے ہیں، عالمی سطح پر پاکستان ڈیجیٹل تبدیلی کے حوالے سے ان ممالک میں کم نمبر پر ہے۔سندھ اور بلوچستان میں کوئی خصوصی ٹیکنالوجی زون نہیں ہیں، جب کہ پنجاب میں صرف ایک ہے۔یہ خیبر پختونخواہ ہے جو صرف دو آپریشنل زونز کے ساتھ دوسرے صوبوں سے آگے ہے۔ پنجاب اور کے پی کی بھی اپنی ڈیجیٹل پالیسیاں ہیں۔ پنجاب کے پاس "پنجاب ڈیجیٹل پالیسی ڈرافٹ ہے جب کہ کے پی کے پاس "خیبر پختونخواہ ڈیجیٹل پالیسی 2018-2023" ہے۔جہاں تک بلوچستان اور سندھ صوبوں کا تعلق ہے ان کے پاس پہلے صوبائی ڈیجیٹل پالیسیاں نہیں ہیں جو کہ صوبائی حکام کی جانب سے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی ضرورت اور اہمیت کے حوالے سے تشویش کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔فائبر ڈویلپمنٹ انڈیکس 2020 کے مطابق مجموعی طور پرفائبر کنیکٹیویٹی کی رسائی اور معیار پر پاکستان کا 1 سے 10 کے پیمانے پر 0.9 کا سکور ہے۔فائبر ڈویلپمنٹ انڈیکس پر پاکستان کا سکور نائجیریا کے برابر ہے جو ڈیجیٹل ترقی کے سب سے نچلے درجے پر ہے۔اسی طرح جب انٹرنیٹ کی آزادی کی بات آتی ہے تو پاکستان بھی "مفت نہیں" کے زمرے میں آتا ہے جو بنگلہ دیش کے 43 کے اسکور سے کم ہے جو "جزوی طور پر مفت" کے زمرے میں آتا ہے۔پاکستان کو ڈیجیٹل اپنانے میں سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ نئی ٹکنالوجی کے تیزی سے ظہور کے پیش نظر جو پرانی ٹیکنالوجیز کو بھیڑ کر دیتی ہیںیہ ضروری ہے کہ پاکستان ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے قیام کا ایک جامع پروگرام شروع کرے۔اگرچہ اس شعبے میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، بڑے پیمانے پرپاکستان اب بھی عالمی اوسط سے بہت کم کرایہ پر ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنے بین الاقوامی شراکت داروں جیسے چین کی مدد سے ملک میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی تنصیب کے لیے ہنگامی اقدامات کرے۔اگر پاکستان کو فرنٹیئر ٹیکنالوجیز کے ظہور سے فائدہ اٹھانا ہے تو اس مقصد کے لیے فائبر کیبلز بچھانا، ای پیمنٹ کے نظام کو عالمی زنجیروں کے ساتھ مربوط کرنا، کمپیوٹنگ کے جدید طریقوں کو اپنانا اور بڑے پیمانے پر انسانی سرمائے کی ترقی میں سرمایہ کاری انتہائی ضروری ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی

 

۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

سیالکوٹ عالمی معیار کے سرجیکل آلات کی صنعت ک...

سیالکوٹ جو کہ عالمی معیار کے سرجیکل آلات کی صنعت کے لیے جانا جاتا ہے، ایک سرجیکل سٹی کے قیام کے ساتھ ایک اہم تبدیلی اور تیز رفتار ترقی کا مشاہدہ کرنے والا ہے۔سرجیکل انسٹرومینٹس مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین یوسف حسن باجوہ نے ویلتھ پاک کو بتایا کہ ایک جدید اور سرشار سرجیکل سٹی کے قیام کا مقصد اس صنعت کی برآمدات کو بڑھانا ہے، اور موجودہ 420 ملین ڈالر سے بلین ڈالر کا ہندسہ عبور کرنا ہے۔"2017میں سماپ کی طرف سے سرجیکل سٹی قائم کرنے کی تجویز کو حکومت نے قبول کر لیا ہے اور اب اس پر عمل درآمد ہو رہا ہے۔ویلتھ پاک کی رپورٹ کے مطابق باجوہ نے کہا کہ سیالکوٹ ڈسکہ روڈ پر واقع مختص زمین فی الحال حاصل کی جا رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد بنیادی طور پر تقریبا 4,000 بکھرے ہوئے اور غیر منظم سرجیکل یونٹس کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنا ہے۔ باجوہ نے کہا کہ انہیں ڈپٹی کمشنر کے ویلیوایشن ریٹ پر زمین فراہم کی جائے گی جو تین سے چار سالوں میں قسطوں میں قابل ادائیگی ہوگی۔ہر یونٹ میں موجودہ افرادی قوت یونٹ کے سائز کے لحاظ سے 15 سے 700 تک ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سرجیکل سٹی 5 مرلہ سے چار کنال تک کے مختلف سائز کے پلاٹ پیش کرے گاجس میں چھوٹے اور بڑے دونوں یونٹوں کی گنجائش ہوگی۔تقریبا 4,000 یونٹس کے ساتھ جن میں 2,000 ایکسپورٹ پر مبنی یونٹس شامل ہیں، سیالکوٹ تقریبا 25,000 سرجیکل آلات تیار کرتا ہے جو مختلف شعبوں کو پورا کرتا ہے۔ یہ سرجیکل آلات، ویٹرنری کیئر، اور ذاتی نگہداشت کی ایک مشترکہ صنعت ہے جس میں میڈیکیئر اور پیڈیکیور کے آلات شامل ہیں۔سیالکوٹ میں موجودہ سرجیکل انڈسٹری زیادہ تر چھوٹے یونٹوں پر مشتمل ہے جس میں مناسب تنظیم اور فضلہ کے انتظام کے نظام کا فقدان ہے جس نے ماحولیاتی خدشات کو جنم دیا ہے۔

یوسف باجوہ نے کہا کہ سنٹرلائزڈ ہب بنا کر، ایسوسی ایشن کا مقصد صنعت کی بین الاقوامی معیارات کی تعمیل کو بہتر بنانا ہے تاکہ ترقی اور توسیع کو آسان بنایا جا سکے۔مقصد سے بنایا گیا یہ شہر عالمی منڈی میں سیالکوٹ کی ساکھ اور اعتبار کو بھی بڑھا دے گا، بیچوانوں پر انحصار کم کرے گا اور مینوفیکچررز کو بہتر قیمتیں حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہر کو مینوفیکچرنگ ہب کے طور پر ظاہر کر کے، سیالکوٹ کا مقصد اعتماد پیدا کرنا اور براہ راست تجارتی تعلقات قائم کرنا، بیچوانوں کو نظرانداز کرنا اور مارکیٹ کی بہتر قیمتوں کو حاصل کرنا ہے۔فی الحال، صنعت کی برآمدات بنیادی طور پر یورپی یونین کو جاتی ہیںجہاں سے تعمیل کے سرٹیفکیٹس کی وجہ سے انہیں دوسرے ممالک کو دوبارہ برآمد کیا جاتا ہے۔ لوگ یورپی کمپنیوں پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر پاکستان دنیا کو دکھا سکتا ہے کہ سرجیکل آلات کیسے بنائے جاتے ہیں، تو وہ ہم پر بھی اعتماد کرنا شروع کر دیں گے۔اگرچہ سیالکوٹ کے آلات جراحی دنیا بھر میں برآمد کیے جاتے ہیں، امریکہ اور یورپی یونین بنیادی برآمدی مقامات کے طور پر کام کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سرجیکل سٹی کے قیام سے نئی اور بڑی مارکیٹوں کو تلاش کرنے کے مواقع بھی کھلیں گے۔بتدریج پاکستان اپنی متنوع ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سرجیکل سٹی میں میکانائزڈ پروڈکشن کی طرف بڑھے گا، اس کے علاوہ مناسب روڈ کنیکٹیویٹی کو یقینی بنائے گا اور موثر کاروباری آپریشنز میں سہولت فراہم کرے گا۔کاروباری افراد کو کافی فنڈز تک رسائی دی جانی چاہیے تاکہ وہ تحقیق اور ترقی کے بعد ہائی ٹیک آلات تیار کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ صنعت کی ترقی کو سہارا دینے کے لیے، اسکل ڈیولپمنٹ پروگراموں کو سرجیکل آلات کے شعبے کی مخصوص ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا بہت ضروری ہے۔فی الحال، ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی عام پروگرام پیش کرتی ہے جیسے کہ پلمبنگ اور مشیننگ، جو صنعت کی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام ہیں۔پاکستان کی سرجیکل انڈسٹری اب تک تقریبا 10 سال قبل متعارف کرائے گئے پلاسٹک کے آلات بنانے سے دور رہی ہے۔ سٹینلیس سٹیل پاکستان میں آلات جراحی کی تیاری کے لیے ترجیحی مواد رہا ہے۔ سیالکوٹ جاپان، فرانس، چین، جنوبی کوریا سمیت مختلف ممالک سے سٹین لیس سٹیل درآمد کرتا ہے اور مقامی سٹیل کا استعمال بھی کرتا ہے اس کے باوجود درآمد شدہ سٹیل زیادہ تر اپنے اعلی معیار کے لیے، عالمی معیار کے سرجیکل آلات کی تیاری کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی

 

۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

ملک میں تیل وگیس کی پیداوارمیں ہفتہ واربنیاد...

ملک میں تیل وگیس کی پیداوارمیں گزشتہ ہفتہ کے دوران ہفتہ واربنیادوں پراضافہ ریکارڈکیا گیا ہے۔ پی پی آئی ایس اورانڈسٹری کے اعدادوشمارکے مطابق 8 جون کوختم ہونے والے ہفتہ میں ملک میں خام تیل کی اوسط یومیہ پیداوار69865 بیرل ریکارڈکی گئی جو گزشتہ ہفتہ کے مقابلہ میں 3 فیصد زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران ملک میں خام تیل کی اوسط یومیہ پیداوار67637 بیرل ریکارڈکی گئی تھی۔ اعدادوشمار کے مطابق 8 جون کو ختم ہونے والے ہفتہ میں ملک میں گیس کی اوسط یومیہ پیداوار3284 ایم ایم سی ایف ڈی ریکارڈکی گئی جوپیوستہ ہفتہ کے مقابلہ میں 2 فیصدزیادہ ہے، اس سے قبل ملک میں گیس کی اوسط یومیہ پیداوار3225 ایم ایم سی ایف ڈی ریکارڈکی گئی تھی۔ اعدادوشمارکے مطابق گزشتہ ہفتہ کے دوران اوجی ڈی سی ایل کی خام تیل کی اوسط یومیہ پیداوار32586بیرل، پی پی ایل 11546 بیرل، ماڑی گیس 1136 بیرل اورپی اوایل کی اوسط یومیہ پیداوار 4898بیرل ریکارڈکی گئی، اسی طرح اوجی ڈی سی ایل کی گیس کی اوسط یومیہ پیداوار 740ایم ایم سی ایف ڈی ، پی پی ایل 719ایم ایم سی ایف ڈی، ماڑی گیس 1136 ایم ایم سی ایف ڈی اورپی اوایل کی گیس کی اوسط یومیہ پیداوار65 ایم ایم سی ایف ڈی ریکارڈ کی گئی۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی

۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

ترسیلات زر میں ساڑھے تین ارب ڈالر سے زائد کی...

اسٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 11 مہینوں میں ترسیلاتِ زر کی مد میں مجموعی طور پر 24.8 ارب ڈالر موصول ہوئے جو گذشتہ برس کی نسبت 12.8 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے ان مہینوں میں ترسیلات زر 28.4 ارب ڈالر تھیں۔ ایک سال میں ان ترسیلات زر میں 3.6 ارب ڈالر یعنی 12.8 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اعداد وشمار کے مطابق مئی 2023 میں کارکنوں کی ترسیلاتِ زر کی مد میں 2.1 ارب ڈالر موصول ہوئے۔نمو کے لحاظ سے مئی 2023 میں ترسیلاتِ زر میں 4.4 فیصد ماہ بہ ماہ اور 10.4 فیصد سال بسال کمی آئی۔ رپورٹ کے مطابق مئی 2023 میں ترسیلات زر کی آمد کے اہم ذرائع میں سعودی عرب (524 ملین ڈالر)، متحدہ عرب امارات (335.8 ملین ڈالر)، برطانیہ (306.5 ملین ڈالر) اور امریکہ (257.2 ملین ڈالر) شامل ہیں۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی

۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی کرنے والا یوٹیوبر ع...

اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی اور اکسانے کے الزام میں یوٹیوبر عادل راجا کو لندن پولیس نے گرفتار کرلیا۔ عادل راجا کو لندن میں بیٹھ کر اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی، شدت پسندی، انتشار، نفرت اور ریاست مخالف پروپیگنڈا کرنے پر گرفتارکیا گیا۔ عادل راجا کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ رمنا میں مقدمہ بھی درج ہے۔ عادل راجہ یو ٹیوب پر پاکستانی اداروں کے خلاف نفرت انگیز مواد شیئر کر رہا تھا اور اس کے خلاف پاکستان میں دہشتگردی اور بغاوت کا مقدمہ درج ہے۔ عادل راجہ کیخلاف دو دن قبل تھانہ رمنا میں انسداد دہشت گردی اور غداری کی دفعات کے تحت مقدمہ اسلام آباد کے شہری محمد اسلم کی درخواست پر درج کیا گیا ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی

۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں

کراچی،کالعدم تحریک طالبان کی فنڈنگ میں ملوث2...

محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی )نے کالعدم تحریک طالبان کی فنڈنگ میں ملوث2 کارندوں کو کراچی سے گرفتار کرلیا۔ ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق ملزمان کو نیوکراچی انڈسڑیل ایریا اور شیرشاہ سے گرفتار کیا۔ ملزمان میں فضل الرحمان اور رحیم آفریدی شامل ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کمانڈر سیف اللہ عرف گلئی کے کہنے پر کام کرتے تھے، ملزمان دہشت گردوں کی فیملی کیلیے فنڈنگ کررہے تھے۔ ملزمان سے فنڈنگ کی رقم اور لٹریچر بھی برآمد کرلی گئی۔ ترجمان سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ ملزم فضل الرحمان کے 4ساتھی وزیرستان میں خودکش دھماکوں میں ہلاک ہوچکے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی

۱۴ جون، ۲۰۲۳ مزید دیکھیں