اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مالی میں امن مشن ختم کرنے کا فیصلہ
اقوام متحدہ (شِنہوا )اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مالی میں اقوام متحدہ کے کثیر جہتی مربوط استحکام مشن (ایم آئی این یو ایس ایم اے) کو 30 جون تک ختم کرنے کی قرارداد منظور کر لی ہے۔مشن سے یہ درخواست بھی کی گئی ہے کہ وہ یکم جولائی سیاپنی سرگرمیاں بند کرکے اپنے کاموں کی منتقلی کے ساتھ ساتھ اپنے اہلکاروں کی منظم اور محفوظ واپسی کا عمل فوری طور پر شروع کرے جس کا مقصد یہ عمل 31 دسمبر 2023 تک مکمل کرنا ہے۔قرارداد 2690 کو 15 رکنی کونسل نے متفقہ طور پر منظور کیا۔کونسل نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے کہا کہ وہ مالی کی حکومت کے ساتھ مشن کی منتقلی کے لیے ایک منصوبہ تیار کریں اور اسے 15 اگست تک سلامتی کونسل میں پیش کریں۔قرارداد میں مالی کی حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ مشن کے منظم اور محفوظ انخلا کو یقینی بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے ساتھ مکمل تعاون کرے۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ مشن 30 ستمبر تک اپنے ذرائع اور صلاحیتوں کے مطابق قریبی علاقے میں کام کرتے ہوئیشہریوں کو تشدد کے خطرات سے تحفظ دینے اور شہریوں کی قیادت میں انسانی امداد کی محفوظ ترسیل میں تعاون کرنے کا مجاز ہے۔قرارداد میں فیصلہ کیا گیا کہ اپنی مکمل واپسی تک مشن کو اقوام متحدہ کے اہلکاروں، سہولیات، قافلوں، تنصیبات ، آلات اور اس سے منسلک اہلکاروں کے لیے سیکورٹی فراہم کرنے سمیت اقوام متحدہ کے اہلکاروں اور انسانی ہمدردی کے کارکنوں کے انخلا کے لیے کارروائیاں انجام دینے کا اختیارحاصل ہے۔مشن کو اپریل 2013 میں سلامتی کونسل کی قرارداد 2100 کے ذریعے مالی میں سیاسی عمل میں تعاون کرنے اور سیکیورٹی سے متعلق متعدد سرگرمیاں انجام دینے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔
بیجنگ(شِنہوا )چینی مین لینڈ کی ترجمان نے تائیوان کی ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی(ڈی پی پی)حکام کی جانب سے امریکہ سے ہتھیاروں کی خریداری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف تائیوان کے لوگوں کو جنگ کی کھائی میں دھکیل دے گی۔ ریاستی کونسل کے تائیوان امور دفتر کی ترجمان ژو فینگ لیان نے ان خیالا ت کا اظہارتائیوان کو تقریبا 44 کروڑ ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے کے حالیہ امریکی فیصلے کے بارے میں رپورٹس کے جواب میں کیا۔ اس بات سے خبردار کرتے ہوئے کہ "تائیوان کی آزادی" کا کوئی مستقبل نہیں اور ڈی پی پی حکام کی اپنی آزادی کے ایجنڈے کے لیے امریکی حمایت حاصل کرنے کی سازش صرف ناکامی سے دوچار ہوگئ،ترجمان نے کہا کہ تائیوان کے زیادہ سے زیادہ باشندے تائیوان کو نقصان پہنچانے یا یہاں تک کہ اسے برباد کرنے کی امریکی کوششوں سے آگاہ ہو چکے ہیں۔ژو نے امریکہ اور چین کے تائیوان خطے کے درمیان تمام قسم کے سرکاری تبادلوں اور فوجی رابطوں اور تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ چین کا اس حوالے سے موقف واضح اور مستقل رہا ہے۔
اواگاڈوگو(شِنہوا )برکینا فاسو میں رواں ہفتے دو دہشت گردانہ حملوں میں 8 فوجیوں اور رضاکار ملیشیا کے 33 اہلکاروں سمیت 41 افراد مارے گئے۔برکینا فاسوکی فوج نے ایک بیان میں کہا ہیکہ منگل کے روز صوبہ موہون میں تیا کے علاقے کے قریب فوجی یونٹ پر گھات لگا کر حملہ ہوا جس پرفوجی یونٹ کی جوابی کارروائی میں30 سے زائد دہشت گردہلاک ہو گئے جبکہ اس دوران آٹھ فوجی ہلاک اور نو زخمی ہوئے۔ایک دن قبل سانماتینگا صوبے کے علاقے نواکا میں فوج کے معاون گروپ ،وطن کے دفاعی رضاکاروں (وی ڈی پی) نے ایک دہشت گردانہ حملے کے جواب میں دہشت گردوں کو نشانہ بنایا۔فوج نے کہا کہ وی ڈی پی ارکان نے تقریبا 50 دہشت گردوں کو ہلاک کر کیان سے بڑی مقدار میں ساز و سامان برآمد کیا جبکہ اس کارروائی کے دوران وی ڈی پی کے 33 ارکان ہلاک ہوئے۔
بیجنگ(شِنہوا )چین کے صدر،کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ (سی پی سی) کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری شی جن پھنگ نے پارٹی کی نظریاتی جدت میں مزید کامیابیوں پر زور دیا ہے۔ سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے پولیٹیکل بیورو کے گروپ اسٹڈی سیشن کی صدارت کرتے ہوئے صدرشی نے کہا کہ پارٹی کی نظریاتی جدت کی تفہیم کو مسلسل بہترکیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے چینی کمیونسٹوں کی یہ تاریخی ذمہ داری ہے کہ وہ مارکسزم کو چینی تناظر اور وقت کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کے لیے نئی سرحدیں کھولیں۔
نئی دہلی(شِنہوا )بھارت کی جنوب مغربی ریاست مہاراشٹر میں ہفتہ کو ایک مسافر بس میں آگ لگنے سے کم از کم 26 افراد ہلاک اور چند دیگر زخمی ہو گئے۔ایک مقامی پولیس اہلکار نے فون پر تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حادثے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی ہے۔یہ حادثہ ناگپور شہر کے قریب سمردھی مہامرگ ایکسپریس وے پر پیش آیا۔ یواتمال سے پونا جانے والی بس میں 33 مسافر سوار تھے۔
ہانگ کانگ (شِنہوا )چین کے ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے (ایچ کے ایس اے آر) کی حکومت نے "ایک ملک، دو نظام" اور ہانگ کانگ میں قومی سلامتی قانون کے نفاذسے متعلق امریکی اور برطانوی سیاست دانوں کی اشتعال انگیز بہتان بازی اور الزام تراشی پرسخت اظہار ناپسندیدگی کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیاہے۔ ایچ کے ایس اے آر حکومت کے ایک ترجمان نے کہا کہ امریکی سینیٹ کے بعض ارکان نے حال ہی میں ہانگ کانگ کی مادر وطن واپسی کی 26 ویں سالگرہ اور ہانگ کانگ میں قومی سلامتی کے قانون کے نفاذ کی تیسری سالگرہ کے موقع پر ایک بیان کے ذریعے اور برطانوی پارلیمنٹ کے دارالعوام میں تیسری سالگرہ کے موقع پر بحث میں گمراہ کن اظہار خیال کیا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ امریکی اور برطانوی سیاست دان جان بوجھ کر سیاست کو قانون کی بالادستی سے بالاتر رکھنا چاہتے ہیں۔ ہانگ کانگ میں قانون پر مبنی حکمرانی میں مداخلت اور قانون کی حکمرانی کے ساتھ ساتھ اس کی خوشحالی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کے لیے نفرت انگیز سیاسی چالوں کے ذریعے ان کی کوششوں سے صرف ان کی اپنی کمزوریاں اور ناقص دلائل بے نقاب ہوں گے اور یہ ناکامی سے دوچار ہوں گے۔ ترجمان نے کہا کہ ان سیاست دانوں نے ایک بار پھر ان کاموں اور سرگرمیوں کو نظر انداز کیا جنہوں نے ہانگ کانگ کے معاشرے، معیشت اور کاروباری ماحول کو2019 کے "سیاہ پوش تشدد" اور ہانگ کانگ میں "رنگین انقلاب" کے ورژن میں شدید نقصان پہنچایا۔
بیجنگ(شِنہوا )چین کے نائب وزیر اعظم ژانگ گو چھنگ نے بیجنگ میں روس کے نائب وزیر اعظم اور صنعت و تجارت کے وزیر ڈینس مانتوروف سے ملاقات کی۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کے پولیٹیکل بیورو کے رکن ژانگ نے کہا کہ دونوں سربراہان مملکت کی سٹرٹیجک رہنمائی کے تحت نئے دور کے لیے چین اور روس کے درمیان ہم آہنگی پر مبنی جامع سٹرٹیجک شراکت داری کی مستحکم ترقی برقرارہے۔ژانگ نے کہا کہ دونوں سربراہان مملکت کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاق رائے کے تحت بین الحکومتی تعاون کے طریقہ کار کو عملی شکل دینے، صنعتی تعاون کی بہتری اور دونوں ممالک کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے چین روس کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیارہے ۔اس موقع پر روسی نائب وزیر اعظم مانتوروف نے کہا کہ روس دونوں ممالک کے درمیان مثبت اور مستقبل کے حوالے سے صنعتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے چین کے ساتھ مشترکہ کوششیں کرنے کو تیار ہے۔
چھینگڈو(شِنہوا )چین کے صوبہ سیچھوان کے دارالحکومت چھینگڈو میں 19ویں ویسٹرن چائنہ بین الاقوامی نمائش میں 56 ممالک اور خطوں سے 3 ہزار 500 سے زائد کاروباری ادارے شریک ہیں ۔اندرون و بیرون ملک سے 60 ہزار سے زائد معززمہمان اورتاجر جمعرات سے آئندہ پیر تک جاری رہنے والی نمائش میں ذاتی طور پر یا آن لائن شرکت کر رہے ہیں۔ ایکسپو کا کل نمائش کا رقبہ 2 لاکھ مربع میٹر ہے جس میں بیلٹ اینڈ روڈ تعاون ، مغربی خطوں کی ترقی ، ڈیجیٹل معیشت اور ہائیڈروجن انڈسٹری کی نمائش کی گئی ہے۔نمائش کے منتظمین سرمایہ کاری کو فروغ دینے والی 30 سے زائد سرگرمیوں سمیت 50 سرگرمیاں منعقد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تھائی لینڈ اس سال نمائش کا مہمان ملک ہے جبکہ نمائش میں تھائی لینڈ، بیلاروس، چلی، آسٹریلیا اور پاکستان سمیت 17 ممالک نے اپنے قومی پویلین قائم کیے ہیں۔
بیجنگ(شِنہوا) چین کے صدر شی جن پھنگ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی دعوت پر شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہان مملکت کی کونسل کے 23ویں اجلاس میں بیجنگ سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے شرکت کریں گے۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چُھون اینگ کی جانب سے جمعہ کو کئے گئے اعلان کے مطابق چینی صدر4 جولائی کومنعقد ہونے والے اجلاس سے اہم خطاب بھی کریں گے
چھونگ چھنگ(شِنہوا)چین کی چھونگ چھنگ میونسپلٹی میں ایک مسافر بس چٹانوں سے گرنے والے پتھروں کی زد میں آگئی جس کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک اور نو زخمی ہو گئے۔
حادثہ فینگ جی کاؤنٹی میں جمعرات کی سہ پہر تقریباً 3 بج کر 30 منٹ پر پیش آیا جب ایک درمیانی بس جس میں ڈرائیور سمیت 19 افراد سوار تھے، قریبی پہاڑی سے گرنے والےپتھروں کی زد میں آ گئی۔ فینگ جی کے محکمہ تعلقات عامہ کے مطابق نو زخمی مسافروں کو معمولی زخم آئے ہیں۔
ریسکیو آپریشن اختتام پذیر ہو گیا ہے جبکہ مقامی حکام اس قسم کے واقعات سے بچنے کے لیے ممکنہ خطرات کی چھان بین کر رہے ہیں۔
بیجنگ(شِنہوا)2023 چائنہ انٹرنیٹ تہذیبی کانفرنس 18 سے 19 جولائی تک چین کے صوبہ فوجیان کے شہر شیامن میں منعقد ہو گی۔
مرکزی سائبر سپیس افیئرز کمیشن او چین کی سائبرسپیس ایڈمنسٹریشن کے نائب سربراہ نیو یبنگ نے بیجنگ میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ کانفرنس ایک مرکزی فورم سمیت سائبر سپیس میں سالمیت کو فروغ دینے کے لیے ایک فورم، 12 ذیلی فورمز اور موضوعاتی پروگراموں کی ایک سیریز پر مشتمل ہو گی۔
ذیلی فورمز میں مواد کی ترقی، سائبرسپیس میں قانون پر مبنی گورننس، ڈیٹا سیکیورٹی، سائبرسپیس میں ذاتی معلومات کا تحفظ، اور الگورتھم، بین الاقوامی تبادلوں، ڈیجیٹل چیریٹی اور ثقافتی سیاحت کی ترقی جیسے موضوعات کا احاطہ کیا جائے گا۔
نیونے کہا کہ دو روزہ کانفرنس کا مقصد انٹرنیٹ تہذیب کے لیے چین کے خیالات کو پیش کرنے سمیت تجربات کے تبادلے اور باہمی طور پرسیکھنے کے عمل کو فروغ دینا اور متعلقہ کامیابیوں کو ظاہر کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم قائم کرنا ہے۔
نان چھانگ(شِنہوا) چین کے صوبہ فوجیان کے شہر شیامن کے سابق سینئر قانون ساز چِھن جیاڈونگ پر صوبہ جیانگ شی میں رشوت خوری، غبن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا۔
چِھن شیامن میونسپل پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی کے سابق چیئرمین ہیں۔
ان پرسال 2000 سے 2022 کے درمیان تبت خود مختار علاقے اور فوجیان میں اپنے مختلف عہدوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسروں کے لیے فوائد حاصل کرنے اور بدلے میں 9 کروڑ 41 لاکھ50ہزار یوآن (تقریباً 1 کروڑ 30 لاکھ 40ہزار ڈالر) مالیت کی رقم اور قیمتی اشیاء وصول کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
نان چھانگ سٹی کے استغاثہ کے مطابق چِھن نے 2015 اور 2017 کے درمیان فوجیان کے ژانگ ژو شہر میں مبینہ طور پر اپنے عہدےکا فائدہ اٹھاتے ہوئے 34 لاکھ10 ہزار یوآن مالیت کی سرکاری املاک کا غبن کیا۔
استغاثہ نے چِھن پر 2013 سے 2014 کے درمیان ژانگ ژو شہر میں کام کرتے ہوئے ذاتی فائدہ اٹھانے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا بھی الزام لگایا جس کی وجہ سے ریاستی اثاثوں کو 19 کروڑ یوآن سے زیادہ کا نقصان پہنچا۔
نان چھانگ کی انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ میں سماعت کے دوران استغاثہ نے اپنے شواہد پیش کیے جن پر مدعا علیہ اور ان کے وکلاء نے جرح کی۔
چِھن نے اعتراف جرم کیا اور اپنے آخری بیان میں پشیمانی کا اظہار کیا۔
مقدمے کا فیصلہ سماعت کی تکمیل پر سنایا جائے گا۔
بیجنگ (شِنہوا) کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ (سی پی سی) کی مرکزی کمیٹی کے خارجہ امور کمیشن دفتر کے ڈائریکٹر وانگ یی نے گزشتہ روزاقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل امینہ محمد سےبیجنگ میں ملاقات کی۔ سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن وانگ یی نے کہا کہ چین نے ہمیشہ بانی رکن کی حیثیت سے اقوام متحدہ کے مقاصد کی بھرپور حمایت کی ہے۔ چین ہمیشہ عالمی امن کا معمار، عالمی ترقی میں معاون اور بین الاقوامی نظام کا محافظ رہے گا، اس سے قطع نظر کہ چین تاریخ میں کہیں بھی ہو یا وہ ترقی کی کس منزل پرہے۔ وانگ نے کہا کہ چین بین الاقوامی امور میں اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کا مضبوط حامی ہے، حقیقی کثیرالجہتی کی حمایت کرتے ہوئے اس پر عمل پیرا ہے اور اقوام متحدہ کے منشورکے مقاصد اور اصولوں پر مبنی بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کو مضبوطی سے برقرار رکھتا ہے۔ وانگ نے کہا کہ چین نے امن، ترقی، سلامتی اور گورننس کےشعبوں میں ان نقصانات کو دور کرنے کے لیے گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو، گلوبل سیکورٹی انیشیٹو اور گلوبل سولائزیشن انیشیٹو کو آگے بڑھایا ہے جن کا آج دنیا کو سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ترقی پذیر ممالک کی مشترکہ اور اولین خواہشات کا جواب ہے اور سب سے بڑے ترقی پذیر ملک کے طور پر چین کی ذمہ داری کی عکاسی کرتا ہے۔
شینزین(شِنہوا)چین کے شہر شینزین میں نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں (این ای ویز) کو چارج کرنے میں مزید سہولت فراہم کرنے کے لیے اگلے تین سالوں میں 300 نئے سپر چارجنگ سٹیشن تعمیر کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا گیا ہے۔
یہ اعلان انٹرنیشنل ڈیجیٹل انرجی ایکسپو 2023 میں کیا گیا جہاں شہر نے اپنا پہلا مکمل طور پر مائع سےٹھنڈاہونے والا سپر چارجنگ اسٹیشن کا بھی افتتاح کیا۔
مجوزہ تعمیراتی منصوبہ 2030 تک شینزین کو "سپر چارجنگ کے شہر" کے طور پر قائم کرنے کے وسیع تر اقدام کا حصہ ہے۔ اس اقدام کا مقصد 2025 تک شہر میں گیس سٹیشنوں کی طرح زیادہ سے زیادہ سپر چارجنگ سٹیشن قائم کرنا ہے۔
چائنہ سدرن پاور گرڈ اور ہواوے ٹیکنالوجیز کے تحت شینزین پاور سپلائی بیورو کے اشتراک سے تیار کیا گیا مائع سے ٹھنڈا ہونے والاسپر چارجنگ سٹیشن 1 کلومیٹر کا سفر طےکرنے کے لیے درکار بجلی صرف ایک سیکنڈ میں فراہم کر سکتا ہے۔
یہ نئی ٹیکنالوجی روایتی ایئرکولنگ طریقوں کے مقابلے میں چارجنگ کے لیے زیادہ کم آواز، مستحکم اور محفوظ ماحول فراہم کرتی ہے۔ اسکے علاوہ چارجنگ کے عمل میں استعمال ہونے والے کم پرزوں کے حامل آلات کی عمر 20 سال تک زیادہ ہو سکتی ہے۔
مجوزہ سپر چارجنگ سٹیشن بنیادی طور پر ہائی ٹریفک والے علاقوں جیسے ہوائی اڈوں، تیز رفتار ریل مراکز، میونسپل پارکس اور تجارتی مراکز کے ارد گرد بنائے جائیں گے تاکہ چارجنگ انفراسٹرکچر کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جاسکے۔
اقوام متحدہ(شِنہوا)اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل نمائندے گینگ شوانگ نے متعلقہ فریقوں سے شام میں انسانی بنیادوں پر فنڈنگ کے خلاء کو پُرکرنے کے لیے تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے۔
گینگ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شام کے بارے میں بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت شام کے لیے انسانی بنیادوں پر مالی امداد میں بڑے خلاء کے باعث پہلے ہی امدادی کارروائیوں اور جلد بحالی کے منصوبوں کا نفاذمتاثرہوا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ متعلقہ فریق اپنے وعدوں کا احترام کریں گے اور اپنی مالی امداد میں مزید اضافہ کریں گے۔
چینی ایلچی نے کہا کہ شامی حکومت نے تاحال باب السلام اور الراعی کی سرحدی گزرگاہیں کھولنے کے علاوہ انسانی امداد کی رسائی کو آسان بنانے کے لیے مثبت اقدامات کیے ہیں، سرحد پار امداد کے لیے علیحدہ علیحدہ منظوری کے طریقہ کار کو ختم کیا ہے اورانسانی ہمدردی کے کارکنوں کے لیے ویزا اجراء میں سہولت فراہم کی ہے۔انہوں نے کہا کہ متعلقہ فریقین کی طرف سے ان اقدامات کا خیرمقدم کیا گیا ہےاور چین ان کوششوں کو سراہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کو شام کی صورت حال کی پیشرفت اور قرارداد 2672 کے نفاذ کو سائنسی بنیادوں پراگلے مرحلے کی منصوبہ بندی میں مدنظر رکھنا چاہیے تاکہ شام میں انسانی امداد میں مزید اضافہ ہو اور اس کے انسانی بحران کو ختم کیا جا سکے۔
سرحد پار سے انسانی امداد کے طریقہ کار کے بارے میں گینگ نے کہا کہ یہ صرف ایک مخصوص صورتحال میں ایک غیر معمولی انتظام ہے جسے ضروری امدادی مقاصد کے حصول کے بعد منظم طریقے سے ختم کیا جانا چاہیے۔
بیجنگ(شِنہوا) چین نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ غیر ذمہ دارانہ بیان بازی بند کرے اور ٹھوس اقدامات کے ساتھ اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں کو پورا کرے۔
یہ مطالبہ وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤننگ نے ایک میڈیا رپورٹ کے جواب میں کیا جس کے مطابق امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے حالیہ انٹرویو میں کہا کہ یہ کوئی راز نہیں کہ امریکہ اور چین کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔ امریکہ اپنے مفادات اور اپنی اقدار کے لیے کھڑا رہے گا اور وہ ایسے کام کرتا اور ایسی باتیں کہتا رہے گا جو چین کو پسند نہیں ہے۔ ماؤ نے کہا کہ چین بلنکن کے ان بیانات سے غیر مطمئن ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایک غلط فہمی پر مبنی چین کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جو چین کے گمراہ کن تصور کی بنیاد پر، اس کو روکنے، اس کو محدود کرنے اور اسے دبانے کی کوشش پر مبنی ہے اور امریکہ چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے لیے چین کی ساکھ پر تنقید اور اسے داغ دار کررہا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ امریکہ نے جو کچھ کہا اور کیا وہ بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ چین اس کی بھرپور مخالفت کرنے کاجواز رکھتا ہے۔
بیجنگ (شِنہوا) چینی صدر شی جن پھنگ کی اہلیہ اور لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم کی ترقی کے لیے اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم (یونیسکو) کی خصوصی مندوب پھینگ لی یوآن نے خواتین کی بھرپورترقی کو فروغ دینے کے لیےمشترکہ کوششوں پرزور دیاہے۔
پھینگ نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز چین-افریقہ خواتین فورم سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چینی خاتون اول نے کہا کہ چین اور افریقہ ایک ہم نصیب مستقبل کے ساتھ ایک کمیونٹی ہیں، جو ہر دکھ سکھ کی گھڑی میں ایک دوسرے کےساتھ کھڑے ہیں خواتین چین-افریقہ بڑے خاندان کی اہم رکن ہیں۔ پھینگ نے کہا کہ گزشتہ سالوں کے دوران چین افریقہ تعاون فورم کے فریم ورک کے تحت چین اور افریقہ کی خواتین نے یکجہتی اور تعاون کے ذریعے مشترکہ ترقی کا ایک شاندار باب تحریر کیاہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افریقہ کے مختلف مقامات پر، چینی خواتین افریقی بہنوں کے ساتھ طبی ٹیموں، امن مشنز، بنیادی ڈھانچے کی تعمیرکے شعبوں اور تکنیکی تربیتی پروگراموں میں کام کر رہی ہیں۔وہ ایک بہتر زندگی بنانے اور مضبوط چین-افریقہ دوستی میں شراکت کے لیے شانہ بشانہ کام کررہی ہیں۔ پھینگ نے کہا کہ انہوں نے محبت اور امید کی پیشکش کے لیے افریقی ممالک کی خواتین اول کی ترقی کی تنظیم کے ساتھ دوستانہ تبادلوں اور تعاون کو برقرار رکھا ہے۔
بیجنگ (شِنہوا) چین کے دفاعی ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے پاس "تائیوان کی آزادی" نامی علیحدگی پسندی اور غیرملکی مداخلت کی منصوبہ بندی کوشکست دینے کی صلاحیت اوراعتماد دونوں موجود ہیں۔ وزارتِ قومی دفاع کے ترجمان ژانگ شیاؤگانگ نے ان خیالات کا اظہار چین کے تائیوان خطے کے ساتھ فوجی تعاون کو فروغ دین کے لیے امریکی ایکٹ کی منظوری پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔ ژانگ نے کہا کہ تائیوان کا مسئلہ چین کے بنیادی مفادات کا مرکز اور یہ چین اور امریکہ کے تعلقات میں سب سے اہم مسئلہ ہونے کے ساتھ خطرہ بھی ہے۔ ترجمان نے کہاکہ ہم امریکہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ ون چائنہ اصول اور چین-امریکہ تین مشترکہ بیانات کی پاسداری کرے اور مخالفانہ کام کرتے ہوئے کچھ اچھا کہنے کی بجائے 'تائیوان کی آزادی' کی حمایت نہ کرنے کے اپنے عہد کو پورا کرے۔
ژانگ نے اس بات پر زور دیا کہ چین کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کبھی تقسیم نہیں ہوئی اور نہ کبھی ہوگی۔
یجنگ (شِنہوا) کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ (سی پی سی) کے 2022 کے آخر تک ارکان کی تعداد9 کروڑ80 لاکھ 40 ہزارتھی۔
سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے تنظیمی شعبے کی جانب سے یکم جولائی کو سی پی سی کی 102 ویں سالگرہ سے قبل جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 2021 سے اس تعداد میں تقریباً13لاکھ 30 ہزار یا 1.4 فیصد کا اضافہ ہوا۔
سی پی سی میں 2022 کے آخر میں تقریباً 50لاکھ70 ہزار بنیادی سطح کی تنظیمیں تھیں، جو گزشتہ سال سے 1 لاکھ 29 ہزار زیادہ ہیں۔
بیجنگ (شِنہوا) چین کے دفاعی ترجمان نے مشرقی بحیرہ چین اور بحیرہ جنوبی چین کے خطوں کے ممالک کو خبردار کیا کہ وہ دوسروں کے لیے خطرہ مول لیتے ہوئے خود کو نقصان پہنچانے سے گریز کریں۔ وزارت قومی دفاع کے ترجمان ژانگ شیاؤگانگ نےان خیالات کا اظہار امریکہ، جاپان اور فلپائن کے درمیان سہ فریقی سیکورٹی اجلاس پر باقاعدہ پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں کیا۔
ژانگ نے کہا کہ مشرقی بحیرہ چین اور جنوبی بحیرہ چین کے علاقوں میں صورتحال اس وقت عام طور پر مستحکم ہے۔ خطے سے باہر کے بعض ممالک، اپنے مفادات کے لیے، فوجی اشتعال انگیزی اورگروہی تصادم کے ذریعے ان سمندروں کو گدلا کررہے ہیں، جس سے علاقائی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ترجمان نے چین کے مستقل موقف پر زوردیا کہ دوطرفہ اورکثیرالجہتی سیکورٹی تعاون علاقائی امن و استحکام کے لیے سازگاراوراس سے کسی تیسرے فریق کو نشانہ بنانا یا اس کےمفادات کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔
بیجنگ (شِنہوا) چین کی غیر پیداواری سرگرمیوں میں جون کے دوران اضافے کا رجحان جاری رہا،قومی ادارہ شماریات کے مطابق اس شعبے کے لیے پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس (پی ایم آئی) 53.2 پر آ گیا۔
پی ایم آئی کی 50 سے اوپرریڈنگ اضافے جب کہ اس سے نیچے کی ریڈنگ کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ قومی ادارہ شماریات( این بی ایس) کے سینئر ماہر ژاؤچھنگ ہی کے مطابق، ملک کے غیر پیداواری پی ایم آئی میں اس سال اضافے کو برقرار رکھا ہے، جو مستقل بحالی کا اشارہ ہے۔ خدمات کے شعبےکا ذیلی انڈیکس جون میں 52.8 تھا، جو مئی کے53.8 سے نیچےہے۔
خدمات کے شعبے میں نئے آرڈرز کا ذیلی انڈیکس 49.5 فیصد رہا، جس میں گزشتہ ماہ کے مقابلے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ژاؤ نے بتایا کہ تعمیراتی شعبے میں رواں ماہ تیزرفتار ترقی کا رجحان برقرار رہااور کاروباری سرگرمیوں کا ذیلی انڈیکس 55.7 پر ہے۔ اس شعبے کی سرگرمیوں کا ذیلی انڈیکس 60.3 پر رہا ، جس سے تعمیراتی اداروں کے درمیان مضبوط متوقع ترقی ظاہر ہوتی ہے۔
اقوام متحدہ (شِنہوا)چین کے ایک مندوب نے اسرائیلی اور فلسطینی شہر یوں کے درمیان تشدد کے سلسلے کو ختم کرنے اور مشترکہ سلامتی کے لئے کوششیں کرنے پر زور دیا ہے۔ اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب ژانگ جون نے کہا کہ فلسطین اور اسرائیل ہمسایہ ہیں جنہیں ایک دوسرے سے دور نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی فریق کو دوسرے فریق کی سلامتی کی قیمت پر مطلق سلامتی کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ دونوں فریقین کے جائز سلامتی کے خدشات پر یکساں توجہ دے اور مشترکہ، جامع، تعاون پر مبنی اور پائیدار سلامتی کے وژن کو فروغ دے۔ انہوں نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ دونوں فریقین کی بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے مشترکہ سلامتی کے حصول کے لئے حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے جبکہ تشدد کے سلسلے کو ختم کرنا ضروری ہے۔ ژانگ نے کہا کہ مشرق وسطی کی صورتحال پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی تازہ ترین رپورٹ میں مقبوضہ علاقے میں تشدد اور فلسطینی شہر یوں کی ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی جانب شہری ہلاکتوں کی خطرناک تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں چین کی جانب سے یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں جو مقبوضہ علاقے میں کشیدگی میں اضافہ کرتے ہیں، شہریوں کے خلاف تمام تشدد کے ساتھ ساتھ غیر ذمہ دارانہ طور پر اشتعال انگیزی کرتے ہیں۔ قابض طاقت کو بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں اور مقبوضہ علاقے میں لوگوں اور ان کی املاک کے تحفظ کی ضمانت دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنا اور حیثیت کو تبدیل کرنے کے لئے یکطرفہ اقدامات کو روکنا ضروری ہے۔
لاس اینجلس(شِنہوا)امریکی مراکز برائے امراض کی روک تھام و تدارک کی سبکدوش ہونے والی ڈائریکٹر روشیل ولینسکی نے ایک حالیہ مضمون میں لکھا ہے کہ امریکہ اگلے وبائی مرض سے نمٹنے کو تیار نہیں ہے کیونکہ صحت عامہ کے نظام کے کچھ حصے اب بھی " پرانے طریقہ کار " پر انحصار کررہے ہیں۔ نیویارک ٹائمز میں شائع شدہ مضمون میں انہوں نے لکھا ہے کہ سی ڈی سی رہنما کی حیثیت سے انہیں امریکہ میں صحت عامہ کے چیلنجزاور اس کے تحفوں دونوں کو دیکھ کر ایک منفرد نقطہ نظر اپنانے کا موقع ملا۔ نوول کرونا وائرس کے ساتھ ابتدائی غلطیوں اور مسلسل جانچ پڑتال کے باجود ادارے کو نظرانداز کیا گیا۔ ولینسکی جون کے اختتام پر عہدے سے سبکدوش ہوجائیں گی۔ انہوں نے لکھا ہے کہ صحت عامہ کی ذمہ داری امریکہ میں رہائش پذیر تمام افراد کی صحت کے تحفظ میں مناسب توازن پیدا کرنا اور معاشرے کے معمول کے امور میں خلل کو کم سے کم کرنا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ صحت عامہ میں دہائیوں کی کم سرمایہ کاری کے سبب امریکہ عالمی وبا کے لئے تیار نہیں تھا۔ ولینسکی نے لکھا کہ امریکہ کے کچھ صحت عامہ کے اعداد و شمار کے نظام آج بھی "پرانے طریقہ کار" پر انحصار کرتے ہیں۔ ولینسکی نے لکھا کہ قومی لیبارٹریوں میں جدید ترین آلات اور ہنر مند تربیت یافتہ سائنس دانوں کی کمی ہے۔ وبائی امراض کے دوران ان موجودہ مسائل کا حل تیزی سے سرمایہ کاری تھی تاہم وسائل تیزی سے واپس لے لئے گئے۔
نان جنگ(شِنہوا)وزارت تجارت نے کہا ہے کہ چین کے ریاستی سطح کے اقتصادی اور تکنیکی ترقیاتی زونز نے 30 ہزار سے زائد غیر ملکی مالی اعانت سے چلنے والی کمپنیز کو اپنی طرف راغب کیا ہے۔ وزارت نے ریاستی سطح کے اقتصادی اور تکنیکی ترقیاتی زونز کو فروغ دینے کی ایک تقریب میں کہا کہ ملک میں اس وقت 31 صوبائی سطح کے علاقوں میں ایسے 230 ترقیاتی زون ہیں جن میں 40 لاکھ سے زائد کاروباری ادارے شامل ہیں۔ 300 سے زیادہ فارچیون 500 کاروباری اداروں نے ان ترقیاتی زونز میں ہیڈ کوارٹر یا تحقیقی مراکز قائم کیے ہیں۔ گزشتہ سال ریاستی سطح کے اقتصادی اور تکنیکی ترقیاتی زونزمیں 150کھرب یوآن (تقریبا 20.8 کھرب امریکی ڈالرز)کی علاقائی جی ڈی پی رہی جو 2013 کے مقابلے میں 117 فیصد زیادہ ہے۔ یہ ترقیاتی زونز عالمی صنعتی نظام میں چین کے معاشی انضمام کے لئے ایک اہم پلیٹ فارم بن گئے ہیں۔ معاون وزیر تجارت چھن چھون جیانگ نے تقریب میں کہا کہ چین غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے منفی فہرست کو مزید معقول طور پر کم کرنے اور جدید خدمات کی صنعتوں کے کھلے پن کو مضبوط بنانے پر غور کرے گا۔ چھن نے کہا کہ ملک جدت سازی کو فروغ دینے اور ریاستی سطح کے اقتصادی اور تکنیکی ترقیاتی زونز کو اپ گریڈ کرنے کے لئے پالیسی اسپورٹ میں اضافہ کرے گا۔ چین کے مشرقی شہر نان جنگ میں منعقد ہونے والی اس تقریب کی میزبانی وزارت تجارت اور جیانگ سو صوبے کی حکومت نے مشترکہ طور پر کی تھی۔
ہائیکو(شِنہوا)چین کا انتہائی جنوبی صوبہ ہائی نا ن ڈیوٹی فری خریداری اور متعلقہ خصوصیت کی حامل صنعتوں کے ساتھ خود کو سیاحت اور کھپت کا ایک عالمی مرکز بنانے کی کوشش میں مصروف عمل ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں 2023 کی پہلی سہ ماہی کے دوران 2 کروڑ 60 لاکھ سیاح آئے جس سے 53 ارب یوآن (7.35 ارب امریکی ڈالرز) سے زائد کی آمدن ہوئی جو گزشتہ برس کی نسبت بالترتیب 20.2 فیصد اور 25.4 فیصد زائد ہے۔ روں سال یوم مئی کی 5 روزہ تعطیلات کے دوران صوبے نے 32 لاکھ سیا حوں کو خوش آمدید کہا جو ایک برس کے مقابلے میں 141.5 فیصد زائد ہے جبکہ سیاحت سے آمدن 178.8 فیصد اضافے سے 4.23 ارب یوآن تک پہنچ گئی۔ صوبائی محکمہ سیاحت، ثقافت، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور کھیلوں کے ڈپٹی ڈائریکٹر لیو چھنگ نے بتایا کہ صوبہ ساحل ، برساتی جنگلات پارکس اور جزیرے کے اطراف سیاحتی مقامات پر مشتمل ہمہ جہتی سیاحت کو فروغ دے رہا ہے۔ ہائیکو کسٹمز کے مطابق رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں صوبے کی ڈیوٹی فری دکانوں نے 16.9 ارب یوآن کمائے جو گزشتہ برس کی نسبت 14.6 فیصد زائد ہے۔ صوبے کا مقصد 12 ڈیوٹی فری شاپنگ مالز کے ساتھ 2023 کے اختتام تک آف شور ڈیوٹی فری فروخت 80 ارب یوآن سے زائد بڑھانا ہے۔ چائنہ ڈیوٹی فری گروپ کا تعمیر کردہ ہائیکو انٹرنیشنل ڈیوٹی فری شاپنگ کمپلیکس دنیا کا سب سے بڑا ڈیوٹی فری شاپنگ مال ہے جس کا تعمیراتی رقبہ تقریبا 2 لاکھ 80 ہزار مربع میٹرہے۔ یہاں 800 سے زائد معروف بین الاقوامی اور ملکی برانڈز دستیاب ہیں۔
اسلام آباد (شِنہوا)عید الاضحی قریب آتے ہی پاکستان بھر میں قائم مویشی منڈیوں میں گزشتہ چند روز سے زبردست گہماگہمی نظرآرہی ہے اور پرجوش گاہک اس تہوار کا جشن منانے کے لیے بجٹ سے کچھ زیادہ خرچ کرنے کو تیار ہیں۔ عید الاضحی پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کا ایک اہم ترین تہوار ہے جس میں جانوروں کی قربانی، خصوصی اجتماعی نمازیں، خیرات اور شاندار جشن شامل ہے ۔ اس تہوار کو منانے کے لیے حکومت نے رواں سال 28 جون سے یکم جولائی تک تعطیلات کا اعلان کیا ہے۔ ہر سال عید الاضحی سے قبل ملک بھر کے مختلف شہروں میں مویشی منڈیاں لگ جاتی ہیں جن میں قربانی کے لئے بکروں، بھیڑوں ، اونٹوں اور گائے کو قربانی کے لئے فروخت کیا جاتا ہے۔ پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 2022 میں عید الاضحی پر صرف قربانیوں سے 329 ارب روپے (1.15 ارب امریکی ڈالرز) کی معاشی سرگرمیاں ہوئی تھیں اور اگر اس میں متعلقہ معاشی سرگرمیوں کو بھی شامل کیا جائے تو یہ رقم 500 ارب روپے (1.74 ارب ڈالر) سے زائد ہوجاتی ہے۔ ضلع راولپنڈی کی ایک عارضی مویشی منڈی میں ایک تاجر مشتاق ملک نے شِنہوا کو بتایا کہ خریداروں کی ایک بڑی تعداد اپنے اہلخانہ کے ساتھ منڈی آرہی ہے اور سخت بھا تا اور بحث ومباحثہ کرتے ہوئے قربانی کے جانوروں میں گہری دلچسپی ظاہر کررہی ہے۔ ملک نے بتایا کہ ہم نے ان جانوروں کی پرورش پیارومحبت سے کی ہے۔ وہ (گاہک) اس خاص موقع پر قربانی کے لئے بہترین جانور کا انتخاب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ امیر افراد قیمتوں کی زیادہ پرواہ نہیں کرتے کیونکہ ان کی توجہ بہترین جانور خریدنے پر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر جانور کی قیمت کا تعین عمر، وزن اور صحت کی مناسبت سے کیا جاتا ہے ۔زیادہ وزن اور اچھی صحت والے جانور زیادہ قیمت پر فروخت ہوتے ہیں اور خریدار جانور خریدنے سے قبل اپنی ضروریات سے بخوبی آگاہ ہوتے ہیں۔ مویشی منڈیوں میں گہماگہمی بتدریج بڑھ رہی ہے۔ کچھ خریدار جانوروں کی غیر حقیقی طور پر زیادہ قیمتوں سے ناخوش ہیں اور شکایت کرتے ہیں کہ گزشتہ برس کی نسبت رواں سال قیمتوں میں کافی زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
دارالسلام(شِنہوا)چین نے مشرقی افریقی کمیونٹی (ای اے سی) کے ساتھ استعداد کار بڑھانے، تجارت، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے کا عہد کیا ہے۔ تنزانیہ میں چین کے سفیر چھن منگ جیان نے کہا کہ چین دنیا کا سب سے بڑا ترقی پذیر ملک ہونے کے ناطے نہ صرف ای اے سی بلکہ پورے افریقی براعظم میں اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے بارے میں انتہائی پرامید ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ چھن نے یہ تبصرہ تنزانیہ کے شمالی شہر اروشا میں ای اے سی ہیڈ کوارٹر کو تین بسز اور پانچ ڈبل کیبن پک اپ سمیت آٹھ گاڑیا ں حوالے کرتے ہوئے کیا۔ چھن نے کہا کہ گاڑیوں کا عطیہ ژونگ ٹونگ اور جے ایم سی سمیت سب سے مشہور چینی آٹوموبائل مینوفیکچررز کی طرف سے تھا جو کہ خطے بھر میں اجلاسوں اور تقریبات کے انعقاد اور رابطہ کاری میں اپنی صلاحیت کو بہتر بنانے میں ای اے سی کی مدد کرے گا ۔ چین نے گاڑیوں کی دیکھ بھال اور آپریشنز میں مدد کے لئے تکنیکی ماہرین اور مختلف موٹر وہیکل اسپیئر پارٹس بھی بھیجے ہیں۔ چینی سفیر نے کہا کہ چین ترقی کے حوالے سے ای اے سی کا زبردست اور مضبوط حامی رہے گا اور انہوں نے دونوں فریقین کے باہمی فائدے کے لیے علاقائی بلاک کے ساتھ تعاون اور یکجہتی کو مضبوط بنانے کی خواہش کا اعادہ کیا۔ چین علاقائی امن و استحکام کو برقرار رکھنے، علاقائی بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے، نوول کرونا وائرس کے خلاف مشترکہ طور پر لڑنے، علاقائی اقتصادی انضمام کو فروغ دینے اور خطے کے ممالک کی اقتصادی بحالی میں ای اے سی کے اہم کردار کو سراہتا ہے۔
تیان جن(شِنہوا)چین کے شہر تیان جن میں سمر ڈیوس کے نام سے مشہور نیو چیمپیئنز کا 14 واں سالانہ اجلاس شروع ہو گیا جس سے ملک میں چار سال کے وقفے کے بعد سالانہ اجلاس کی بحالی ہوئی ہے۔ کاروباری اداروں، حکومتوں، بین الاقوامی تنظیموں اور تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے 1500 سے زائد شرکا "انٹرپرینیورشپ :دی ڈرائیونگ فورس آف دی گلوبل اکا نومی" کے عنوان سے تین روزہ تقریب کے لئے شمالی بندرگاہی شہر میں جمع ہو رہے ہیں۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چینی وزیراعظم لی چھیانگ نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران چین عالمی معیشت کی مستحکم ترقی کے لیے حوصلہ افزائی کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے۔ لی نے کہا کہ چین نے دنیا میں آزاد تجارت اور مستحکم ترقی کے لئے ایک اہم قائدانہ اور محرک ذریعہ کے طور پر کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آ مدہ طویل عرصے میں چین عالمی معیشت کی بحالی اور ترقی کے لئے مضبوط رفتار فراہم کرنا جاری رکھے گا۔ چین کی جی ڈی پی میں گزشتہ سال کی نسبت پہلی سہ ماہی میں 4.5 فیصد اضافہ ہوا اور دوسری سہ ماہی میں اس میں تیزی سے اضافے کی توقع ہے۔ ملک سال کے لئے مقرر کردہ تقریبا5فیصد ترقی کے ہدف کو حاصل کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔ لی نے اس بات پر زور دیا کہ چین اقتصادی گلوبلائزیشن کی حمایت کرنے ، مارکیٹ کی معیشت کو برقرار رکھنے ، آزاد تجارت کی مضبوطی سے حمایت کرنے اور عالمی معیشت کو زیادہ جامع ، لچکدار اور پائیدار مستقبل کی طرف لے جانے کے لئے مختلف ممالک کے کاروباری افراد کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہے۔ اس وقت دنیا کو سست شرح نمو، قرضوں کے خطرات، آب و ہوا کی تبدیلی اور دولت کے فرق جیسے عالمی چیلنجز کا سامنا ہے۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ورلڈ اکنامک فورم کے ایگزیکٹِو چیئرمین کلاس شواب نے تقسیم سے لڑنے اور مکالمے، افہام و تفہیم اور تعاون کے لیے عالمی کوششوں پر زور دیا۔ شواب نے کہا کہ ہم ایک ایسے مستقبل کے لئے کھڑے ہیں جہاں قوموں کو انسانیت کی اجتماعی فلاح و بہبود کے لئے مل کر کام کرنا ہوگا۔
تیان جن(شِنہوا)ائیربس نے چین کی شمالی بلدیہ تیان جن میں تیار کردہ طیارہ پہلی بار یورپی صارف کو مہیا کیا ہے۔ تیان جن میں ائیربس کی فائنل اسمبلی لائن میں منعقدہ ایک تقریب میں پہلا طیارہ اے 321 نیو ہنگری کی ویز ائیر کے سپرد کیا فیا ہے۔ یہ فضائی کمپنی وسطی اور مشرقی یورپی میں کم لاگت والی سب سے بڑی فضائی کمپنی ہے۔ ایئربس تیان جن ڈیلیوری مرکز کے جنرل منیجر کرسٹوف شریمپ نے بتایا کہ یہ ترسیل ایئربس تیان جن کے لیے ایک سنگ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کی مضبوط معاشی بحالی کے پس منظر میں ایف اے ایل ایشیا نے اپنی اسمبلنگ صلاحیت میں اضافہ جاری رکھا جس سے مزید بین الاقوامی صارفین کی طلب پورا کرنے میں مدد ملی اور عالمی ہوا بازی مارکیٹ میں نئی قوت پیدا ہوئی ۔ ائیربس نے اپنے مقبول طیارے اے 321 ماڈل کی بڑھتی طلب کو پورا کرنے کے لئے ، تیان جن میں اپنے ایف اے ایل کی صلاحیت کو اے 321 کی پیداوار تک بڑھانے کے لئے2021 میں ایک منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ اے 321 نیو، اے 320 سیریز کا سب سے بڑا طیارہ ہے جس میں 244 مسافر سفر کرسکتے ہیں۔ تیان جن میں ایف اے ایل یورپ سے باہر ایئربس کمرشل طیارہ سازی کی پہلی لائن ہے جس کا افتتاح 2008 میں ہوا تھا۔ 2009 میں اپنے پہلے اے 320 طیارے کی فراہمی کے بعد سے تیان جن میں ایئربس کا ایف اے ایل گزشتہ 14 برس کے دوران 600 سے زیادہ طیارے فراہم کرچکا ہے۔ ائیربس نے اپریل میں عالمی صارفین کی طلب کو پورا کرنے اور اے 320 سیریز کے مسافر طیاروں کی پیداوار بڑھانے کے لئے تیان جن میں دوسری اسمبلی لائن کی تعمیر کا اعلان کیا تھا۔
بیجنگ(شِنہوا)چین کے دارالحکومت بیجنگ میں 2023 میں لان کانگ۔ میکونگ تعاون (ایل ایم سی) میڈیا سمٹ منعقد ہوئی۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ(سی پی سی)کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن اور سی پی سی مرکزی کمیٹی کے شعبہ تشہیر کے سربراہ لی شولی نے تقریب میں شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس تقریب میں 6 لان کانگ۔ میکونگ ممالک کے متعلقہ محکموں اور مرکزی میڈیا کے 130 سے زائد نمائندوں نے شرکت کی۔ انہوں نے خطے میں امن و ترقی، باہمی فائدے، جیت کے نتائج اور عوام کے درمیان تبادلے اور مشترکہ مستقبل کے ساتھ وابستہ لان کانگ۔ میکونگ کمیونٹی کی تعمیر میں کردار ادا کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ تقریب کے شرکانے اس خیال کا اظہار کیا کہ ایل ایم سی کے قیام کے بعد سے 6 شریک ممالک کو ٹھوس فوائد فراہم کیے گئے ہیں اور ایل ایم سی نے 6 ممالک کے لوگوں کے مابین ہم آہنگی کو مئوثر طریقے سے فروغ دیا ہے۔ شرکا نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، زراعت، غربت میں کمی، سلامتی اور ماحولیاتی تحفظ جیسے شعبوں میں 6 ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ میڈیا تعاون کے ذریعے 6 ممالک کے عوام کے درمیان تبادلوں کو فروغ ملے گا، دوستی اور باہمی اعتماد میں اضافہ ہوگا اور لان کانگ۔میکونگ کی کہانیاں بہتر طور پر سنائی جائیں گی۔
اوگاڈوگوا(شِنہوا)برکینا فاسو میں ایک سپلائی قافلے پر حملے میں کم از کم 34 افراد ہلاک ہوگئے جن میں 31 فوجی اور تین فوجی معاون شامل ہیں۔ فوج نے ایک بیان میں بتایا کہ فوجی دستوں کی نگرانی میں جانے والے سپلائی قافلے پر یہ حملہ وسطی نارڈ خطے میں بام صوبے کے نامسیگیا میں گھات لگا کر کیا گیا۔ بیان کے مطابق انتہائی پرتشدد، فوجی یونٹس کی طرف سے بھرپور ردعمل کے باوجود لڑائی میں بھاری نقصان ہوا۔ بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ تقریبا 20 افراد زخمی ہوئے جنہیں نکال لیا گیا ۔ تقریبا 10 فوجی اہلکار لاپتہ ہیں ۔ لڑائی میں 40 سے زائد دہشت گرد بھی مارے گئے۔ بیان کے مطابق علاقے میں دہشت گردوں کی تلاش کے لئے مزید فورس بھیج دی گئی ہے۔
تیان جن(شِنہوا)چین کے وزیر تجارت وانگ وین تا نے چین کی شمالی بلدیہ تیان جن میں عالمی تجارتی تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل نگوزی اوکونجو ایولا کو ماہی گیری کی سبسڈی پر معاہدے کی منظوری بارے دستاویز پیش کیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چین نے معاہدے کو قبول کرنے بارے اپنے اندرونی قانونی طریقہ کار مکمل کرلیا ہے۔ یہ معاہدہ ماہی گیری کی سبسڈی بارے عالمی تجارتی تنظیم کا پہلا معاہدہ ہے جسے جون 2022 میں عالمی تجارتی تنظیم کی 12 ویں وزارتی کانفرنس میں اپنایا گیا جس کا مقصد ماحولیاتی پائیدار ترقی کا ہدف حاصل کرنا ہے۔ عالمی تجارتی تنظیم کے 2 تہائی ارکان کی جانب سے منظور ی کے بعد یہ قانون نافذ العمل ہوگا۔
بیجنگ(شِنہوا)چین کے شماریاتی حکام کی نگرانی میں مو جود زیادہ تر کیپیٹل گڈز کی قیمتیں جون کے اوائل کے مقابلے میں وسط جون میں زیادہ رہیں۔ قومی ادارہ برائے شماریات(این بی ایس) کے مطابق ن9 زمروں میں درجہ بندی کی گئی 50 اہم اشیا میں سے 26 کی اس عرصے کے دوران قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ 21 اشیا کی قیمتوں میں کمی ہوئی اور تین اشیا کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ خاص طور پر مائع قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جون کے اوائل کے مقابلے میں وسط جون میں 5.8 فیصد اضافہ ہوا جبکہ اینتھراسائٹ کی قیمت میں 11.2 فیصد کی کمی واقع ہوئی جو سب سے بڑی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی عرصے کے دوران رِبڈ اسٹیل سلاخوں کی قیمت میں 2.1 فیصد اضافہ ہوا اور مائع پٹرولیم گیس کی قیمت میں 5 فیصد کمی واقع ہوئی۔ یہ اعداد و شمار ہر 10 دن بعد جاری کیے جاتے ہیں جو ملک بھر میں 31 صوبائی سطح کے علاقوں میں تقریبا2 ہزار ہول سیلرز اور ڈسٹری بیوٹرز کے سروے پر مبنی ہوتے ہیں۔
روم(شِنہوا) کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کے بین الاقوامی شعبے کے سربراہ لیو جیان چھا کی سربراہی میں ایک وفد نے اٹلی کا دورہ کیا ہے۔ دورے کے دوران لیو نے اطالوی سینیٹ کے صدر اگنازیو لا روسا، نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ انتونیو تاجانی، سابق وزیر اعظم میسیمو ڈی علیما، ڈیموکریٹک پارٹی کے سیکرٹری ایلی شلین اور اٹلی چائنہ کونسل فانڈیشن کے صدر ماریو بوسیلی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ لیو نے اٹلی کی پارلیمانی ایسوسی ایشن "فرینڈز آف چائنہ " اور زندگی کے تمام شعبوں سے وابستہ افراد سے بھی ملاقات کی اور تبادلہ خیال کیا۔ فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اسٹریٹجک شراکت دار کی حیثیت سے چین اور اٹلی کو سیاسی جماعتوں، حکومتوں، مقننہ، کاروباری برادریوں، تھنک ٹینکس اور مقامی حکام کے درمیان تبادلے مزید مستحکم کرنے چا ہئیں۔ دونوں جا نب سے مز ید اتفاق کیا گیا کہ معیشت، تجارت ، سرمایہ کاری، سبز تبد یلی ، زراعت اور سیاحت میں عملی تعاون کو مزید گہرا کر تے ہوئے تہذیبوں کے درمیان تبادلوں اور باہمی سیکھنے کو مضبوط بنانا چاہیے تاکہ چین-اٹلی اور چین- یورپ تعلقات کی زیادہ سے زیادہ ترقی پر زور دیا جاسکے۔
جینان(شِنہوا)چین کے مشرقی صوبہ شان ڈونگ کے شہر چھوفو میں عالمی انٹرنیٹ کانفرنس "مصنوعی ذہانت برائے سماجی بھلائی " پروگرام کا آغاز کردیا گیا ہے جس کا مقصد دنیا کی بہتری میں مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجیز کا استعمال ہے۔ افتتاحی تقریب کے دوران ایک لائحہ عمل جاری کیا گیا جس میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے عوامی فلاح و بہبود کی سرگرمیوں بارے 4 اقدامات تجویز کیے گئے ۔ مجوزہ اقدامات میں عالمی رابطوں کے نظام کا قیام ، مصنوعی ذہانت کے تکنیکی فوائد بانٹنے کے لیے عالمی منصوبوں میں تعاون کا فروغ ، عالمی ڈیجیٹل تقسیم ختم کرنے کے لیے تربیت کی فراہمی اور اس طرح کی سرگرمیوں میں رابطے اور تشہیر کو بڑھانا شامل ہے۔ تقریب کے منتظمین کے مطابق عالمی انٹرنیٹ کانفرنس نے عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی مدد سے عوامی فلاح و بہبود منصوبوں بارے تجاویز طلب کی تھیں جو اس پروگرام کا ایک حصہ ہے۔ گوگل، مائیکروسافٹ، انٹیل، نوکیا، ٹینسینٹ اور علی بابا سمیت دنیا بھر کے 23 کاروباری اداروں اور تنظیموں سے اب تک 33 تجاویز موصول ہوئی ہیں جن میں تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، ثقافتی تبادلے اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ جیسے شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔
شنگھائی(شِنہوا) اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک گلوبل سلک روٹ ریسرچ الائنس کے بانی چیئرمین ضمیر احمد اعوان نے اپنی تعلیمی درسگاہ شنگھائی یونیورسٹی میں 4 دہائیوں کے دوران چین کی زبردست ترقی کے بارے میں شِنہوا کے ساتھ اپنے خیالات کا تبادلہ کیا ہے۔ ضمیر 1970 کی دہائی کے آخر سے شنگھائی یونیورسٹی میں مکینیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہے تھے، بعد میں وہ 6 سال تک پاکستانی سفارت کار کی حیثیت سے چین میں تعینات رہے۔ گزشتہ 40 سالوں کے دوران انہیں چین میں تعلیم حاصل کرنے، کام کرنے اور رہنے کا تقریبا 16 سال کا تجربہ ہے۔ ضمیر کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ (سی پی سی) کی قیادت میں شنگھائی اور چین کے شہروں میں زبردست ترقی کا مشاہدہ کر رہے ہیں، "یہ دنیا میں بے مثال ہے، چین میں ہونے والی تبدیلیاں واقعی حیرت انگیز ہیں، یہ معجزہ ہے۔ اور کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ چین اتنی بڑی طاقت بن جائے گا، اتنا خوشحال ہوگا، اتنا آگے بڑھے گا۔ "میں ا پنی تعلیمی درسگاہ کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میرے لئے اس لیکچر کا اہتمام کیا۔ یہ میرے لئے ایک قیمتی موقع ہے کہ میں دوبارہ کیمپس میں واپس آں، آس پاس کے علاقے بدلتے رہتے ہیں لیکن میرے جذبات اور بھی مضبوط ہوئے ہیں۔ ان کے لیکچر کا عنوان "سی پیک پر مرکوز چین ۔پاکستان تعلقات" تھا جس میں 10 ممالک کے 70 سے زائد بین الاقوامی طلبا نے آن سائٹ یا آن لائن شرکت کی۔ ضمیر چین اور پاکستان کے درمیان بیلٹ اینڈ روڈ اینی شیٹو پر طویل مدتی مشاہدہ اور تحقیق کے حامل ہیں۔ ضمیر نے چین پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک) منصوبے پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ توانائی، صنعت، انفراسٹرکچر اور فائبر آپٹک کنکٹیویٹی میں تعاون کے ذریعے چین اور پاکستان نے باہمی فائدے اور مثبت نتائج حاصل کیے ہیں۔ انہوں نے بیلٹ اینڈ روڈ اینی شیٹو کے تحت چین اور پاکستان کو درپیش چیلنجز پر بھی زور دیا اور تجاویز پیش کیں۔ چین اور پاکستان تعلیم، ثقافت اور دیگر شعبوں میں تعاون اور تبادلوں کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں، چین پاکستان اقتصادی راہداری کی تعمیر کو فروغ دے سکتے ہیں اور مشترکہ ترقی اور خوشحالی کے ہدف کو حاصل کرسکتے ہیں۔ تھائی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم سسیچا ڈیچی بونتاناکورن نے بتا یا کہ میں جانتا ہوں کہ چین کے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ تعلقات رہے ہیں اور حالیہ برسوں میں بیلٹ اینڈ روڈ اینی شیٹو (بی آر آئی) اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سمیت مختلف اقدامات کے ذریعے ان کے تعلقات مضبوط ہوئے ہیں۔ ازبکستان سے تعلق رکھنے والے طالب علم جورویوا نیلوفار نے کہا کہ آج کا لیکچر میرے سمیت تمام طلبا کے لئے بہت دلچسپ اور بہت معلوماتی تھا۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے پروفیسر نے ہمیں ماضی اور آج کے دور میں چین اور پاکستان کے تعلقات بارے مختلف طر ح سے آ گا ہ کیا۔ ضمیر نے شِنہوا کو بتایا کہ بیلٹ اینڈ روڈ اینی شیٹو(بی آر آئی)کے آغاز کے بعد سے اب تک متعدد ترقیاتی منصوبے شروع ہوئے اور ان پر عمل درآمد کیا گیا ہے ۔اس سے نہ صرف پاکستانی شہر یوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں اور آمدنی میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ پاکستان کی طویل مدتی ترقی کے لیے وسیع فوائد بھی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے لیے مستحکم محرکات بھی حا صل ہو رہے ہیں۔ ضمیر نے چینی زبان میں روانی سے کہا کہ "2023 بی آر آئی کی 10 ویں سالگرہ ہے، یہ پہلا قدم ہے، میں ہمیشہ بی آر آئی کی کامیابی اور ترقی پر توجہ مرکوز کروں گا"۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
أعلن معالي الرئيس العام للمسجد الحرام والمسجد النبوي الشيخ الدكتور عبدالرحمن السديس، الجاهزية الكاملة للمسجد الحرام ضيوف بيت الله الحرام لاداء طواف الافاضة وصلاة عيد الاضحى بالحرمين الشريفين صباح غد وفق منظومة عمل تشغيلية متكاملة لتمكين الحجاج من استكمال مناسك الحج بيسر وسهولة .
واكد الرئيس العام ان رئاسة الحرمين وضعت خطط تشغيلية مستقلة للتعامل مع ادارة تفويج الحجاج في مرحلة اداء المناسك واضعة في الاعتبار الكثافة العددية الهائلة وحجم تدفق الحشود المليونية للحرمين الشريفين بعد اداء مناسك الحج .. واعلن الرئيس العام نجاح اكبر خطة تشغيلية في تاريخ الرئاسة لموسم الحج في مرحلتها الرئيسية الاولى ؛ حيث سخرت الرئاسة جميع طاقاتها البشرية و قرابة ١٤ألف عامل وعاملة لخدمة حجاج بيت الله الحرام..
وأعدت وكالات الرئاسة عدة خطط تشغيلية بديلة وفق السيناريوهات المتوقعة مع الازدياد الكبير والمكثف من القاصدين والمصلين، وهو ما حدث فعليًّا على الأرض؛ حيث تشير مصادر إلى وصول أعداد القاصدين للمسجد النبوي إلى أكثر من عشرين مليونًا طوال موسم رمضان، فيما توقعت المصادر ذاتها وصول نفس الأرقام والأعداد في المسجد الحرام.
وتابع الرئيس العام قائلا" لقد وضعت الرئاسة في الحسبان تسخير كامل طاقة التوسعة السعودية الثالثة بجميع أدوارها وتوسعة الملك فهد بكامل أدوارها وجميع ساحات المسجد الحرام للمصلين، مع تطبيق أعلى معايير الوقاية البيئية في المصليات.وأعطت أولوية قصوى لضمان انسيابية حركة الحشود وسهولتها ومنع الاختناقات والتدافعات
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
بیجنگ(شِنہوا)چین نے کہا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک نے ابھی تک ترقی پذیر ممالک میں کلائمیٹ ایکشن کے لیے 14سال پہلے کیے گئے سالانہ 100رب ڈالرفراہم کرنے کے اپنے وعدے کو پورا کرنا ہے۔لیڈز یونیورسٹی کی زیرقیادت اور برطانیہ کے جریدے نیچر سسٹین ایبلٹی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، تقریبا 90 فیصد سے زیادہ کاربن کا اخراج امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک سے ہوتا ہے، جو آب و ہوا کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کے لیے کم اخراج کرنے والے ممالک کو1ہزار 700کھرب ڈالر ادا کرنے کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ وہ موسمیاتی نقصان کو کم کرنے کے اہداف پوریکرسکیں۔اس سے متعلقہ سوال کے جواب میں چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماو ننگ نے روزانہ کی نیوز بریفنگ میں کہا کہ یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ ترقی یافتہ ممالک پر ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے تاریخی ، قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ترجمان نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کواپنے کاربن اخراج میں تیزی سے کمی لانے اور 2050 سے بہت پہلے خالص صفر کاربن اخراج تک پہنچنے اور ترقی پذیر ممالک کی پائیدار ترقی کے لیے سہولت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ماو نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کو فنانس، ٹیکنالوجی اور صلاحیت سازی میں اضافے کے لیے ترقی پذیر ممالک کو مدد فراہم کرنے کی بھی ضرورت ہے
جنیوا(شِنہوا)چین نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کے قانون سے ہانگ کانگ کو بدامنی اور افراتفری سے استحکام اور خوشحالی کی جانب تبدیل کرنے میں مدد ملی ہے۔ ایک چینی سفارت کار نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے جاری 53ویں اجلاس کے دوران جاری ایک بیان میں کہا کہ قانون کے نفاذ کے بعد، قانون کی حکمرانی پر دوبارہ زور دیا گیا ہے اور ہانگ کانگ کے باشندوں کے حقوق اور آزادیوں کا بہتر تحفظ کیا گیا ہے۔ ججز اور وکلا کی آزادی کے حوالے سے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کے ساتھ ایک انٹرایکٹو مکالمے میں دئے گئے بیان میں کہا گیا کہ ہانگ کانگ میں قانون کی حکمرانی اور عدالتی آزادی کو بنیادی قانون کے ذریعے موثر طریقے سییقینی بنایا گیا ہے اور عدالتیں بغیر کسی مداخلت کے آزادانہ طور پر کام کررہی ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ چین انسانی حقوق کی آڑ میں اپنے اندرونی معاملات اور عدالتی خودمختاری میں مداخلت کرنے والے کسی بھی ملک یا بیرونی طاقت کی سختی سے مخالفت کرتا ہے
بیجنگ(شِنہوا)چین کی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس(سی پی پی سی سی) کی 14ویں قومی کمیٹی کی دوسری قائمہ کمیٹی کے اجلاس کا مکمل سیشن منگل کو بیجنگ میں منعقد ہوا۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ (سی پی سی)کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کی قائمہ کمیٹی کے رکن اور اعلی سیاسی مشاورتی ادارے سی پی پی سی سی کی قومی کمیٹی کے چیئرمین وانگ ہوننگ نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کے دوران، قائمہ کمیٹی کے 13 اراکین نے نئے ترقیاتی پیٹرن کی تشکیل اور چینی جدیدیت کو آگے بڑھانے کے بارے میں خیالات کا اظہار کیا۔ ننگ جی ژہی نے سائنس ٹیک اختراعات کوبڑھانے اور حقیقی معیشت، ڈیجیٹل معیشت اور ماحول دوست معیشت کی مربوط ترقی کو آسان بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ژینگ یونگ فیی نے کہا کہ انجینئرنگ ٹیکنالوجی کے شعبے میں اختراعی صلاحیت کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھلے پن اور آزاد تحقیق اور ترقی کو مربوط بنانے اورایک جدید صنعتی نظام تیار کرنے کی ضرورت ہے۔جیوسان سوسائٹی سنٹرل کمیٹی کی جانب سے، چھیان فینگ نے بنیادی تحقیق کو فروغ دینے، اختراعات اور ایپلی کیشن کو بہتر بنانے اور سائنس ٹیک اختراعات کے ذریعے مینوفیکچرنگ شعبے کو اعلی ترین، بہتر اور ماحول دوست پیداوار کی طرف لے جانے پر زور دیا۔ شیی ڈونگ نے خطرناک حالات کی تحقیق اور تجزیہ کو بہتر کرنے، مالیاتی ضابطوں کو تیز اور موجودہ خطرات سے نمٹنے کو مستقل طور پر آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا
جنیوا(شِنہوا) چین نے برطانیہ سمیت کچھ ترقی یافتہ ممالک کی طرف سے تارکین وطن کے حقوق کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئیان ممالک سے تارکین وطن کے حقوق کاموثرتحفظ کرنے کا مطالبہ کیا۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے جاری 53 ویں اجلاس میں ایک بیان میں چین نے کہا کہ پڑھے لکھے اور اعلی ہنرمند تارکین وطن کی طرف سے ملنے والے فوائد حاصل کرتے ہوئے کچھ ترقی یافتہ ممالک عالمی مائیگریشن گورننس میں زیادہ کردار ادا کرنے کے بجائے ، نہ صرف اپنے ملکوں میں تارکین وطن کے حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں بلکہ پناہ گزینوں اور امیگریشن بحرانوں کا اصل محرک بھی ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کی طرف سے پناہ کے متلاشیوں کو دوسرے ممالک میں بھیجنا تشویشناک ہے، اور یہ حقیقت ہے کہ ملک میں پناہ کے متلاشی بچوں کو لاپتہ اور اسمگل ہونے کے خطرے کا سامنا ہے، اس مسئلے کو بھی حل کیا جاناچاہئے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار اور انسانی حقوق معاہدے میں شامل اداروں نے اس بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے اور یہ کہ اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے حقوق اطفال نے حال ہی میں برطانیہ سے اپنے غیر قانونی امیگریشن بل میں فوری ترمیم کا مطالبہ کیا ہے
بیجنگ(شِنہوا)چین کے ریاستی کونسلراورقومی دفاع کیوزیرلی شانگ فو نے منگل کو بیجنگ میں اپنے ویتنام کے ہم منصب فان وان گیانگ سے ملاقات کی۔لی شانگ فو نے چین کی طرف سے دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان اعلی سطحی رابطوں کو بڑھانے، منصوبہ سازی کو بہتر بنانے اورعملی تعاون کووسعت دینے کے لیے ویتنام کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش ظاہرکی۔فان وان گیانگ نے اس موقع پر کہا کہ ویتنام چین کے ساتھ جامع سٹرٹیجک تعاون کو فروغ دینا جاری رکھے گا اورچینی فوج کے ساتھ تعلقات کو ایک نئی سطح پر فروغ دے گا
أعلن معالي الرئيس العام لشؤون المسجد الحرام والمسجد النبوي الشيخ الدكتور عبدالرحمن بن عبدالعزيز السديس عن نجاح مشروع الترجمة الفورية لخطبة عرفات بعشرين لغة عالمية وتحقيق أكثر من نصف مليار مستفيد حول العالم، وذلك لأول مرة في تاريخ المشروع.
وأكد معالي الرئيس بدعم كبير من القيادة الرشيدة قامت الرئاسة العامة لشؤون المسجد الحرام والمسجد النبوي بترجمة خطبة عرفة موضحا ان المشروع يعكس جهود المملكة العربية السعودية في إيصال رسالة الحرمين الشريفين ومنبر عرفة إلى العالم أجمع.
وأوضح معالي الرئيس العام أن الرئاسة العامة لشؤون المسجد الحرام والمسجد النبوي قامت ببث خطبة يوم عرفة من خلال منصة وتطبيق (منارة الحرمين)، وعبر ترددات البث الإذاعية بالمشاعر المقدسة، باستخدام أحدث أجهزة البث التي تبث هذه الترددات من جوار المسجد الحرام للعالم كافة لافتا إلى استمرار سعي الرئاسة العامة لشؤون المسجد الحرام والمسجد النبوي تجاه تسخير أحدث التقنيات الحديثة وآليات الذكاء الاصطناعي والمنتجات الإلكترونية التي من شأنها إيصال رسالة الحرمين الشريفين والارتقاء بالخدمات المقدمة للحجاج والمعتمرين والزائرين.
وتتضمن اللغات العالمية وهي: (الإنجليزية، والفرنسية، والأوردية، والألمانية، والإسبانية، والإندونيسية، والبنغالية، والمالايامية، والأمهرية، والهاوسا، والتركية، والروسية، والصينية، والفارسية، والتاميلية، والفلبينية، والبوسنية، والسواحلية، والهندية، والسويدية)، وتم البث من خلال منصة وتطبيق (منارة الحرمين)
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
جکارتہ(شِنہوا)انڈونیشیا میں امدادی کارکن مشرقی صوبے ہائی لینڈ پاپوا کے پہاڑی علاقے میں گزشتہ جمعہ کو گرکر تباہ ہونے والے ایک چھوٹے طیارے سے متاثرین کی چھ لاشیں منگل کو نکالنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
جیا پورہ سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی کے چیف آپریٹنگ آفیسر ماری نس اوہویرات نے شِنہوا کو بتایا کہ طیارہ مکمل طور پر جل گیا ہے جس میں سوار تمام افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم فی الحال تمام متاثرین کو ہیلی کاپٹر کا استعمال کرتے ہوئے وامینا قصبے کے ہوائی اڈے پر لے جا رہے ہیں جنہیں شناخت کے لیے صوبے کے دارالحکومت جیا پورہ منتقل کیا جائے گا۔
لاس اینجلس(شِنہوا) اسپیس ایکس کا ری سپلائی کرنے والا ڈریگن کارگو خلائی جہاز جمعرات کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) سے روانہ ہوگا جوسائنسی تحقیق کے نمونے اور ہارڈ ویئر زمین پر واپس لے کر پہنچے گا۔
امریکی خلائی ادارے ناساکے مطابق خلائی جہاز جمعرات کو مشرقی وقت کے مطابق دوپہر 12بج کر 5 منٹ پر آئی ایس ایس سے علیحدہ ہوگا اورریاست فلوریڈا کے ساحل پر سمندر میں جمعہ کو تقریباً رات 2 بج کر30منٹ پرپیراشوٹ کی مدد سے اترے گا۔
ناسا کے مطابق، ڈریگن کارگو خلائی جہاز 3ہزار600پاؤنڈ سے زیادہ سامان اور سائنسی تجربات زمین پر لے کرپہنچے گا جو خلائی اسٹیشن کے مائیکرو گریوٹی ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کیے گئے تھے۔
رم اللہ(شِنہوا)فلسطین نےروس کےیروشلم میں سفارتی دفتر کھولنے کے حالیہ فیصلےپرمایوسی کا اظہارکیا ہے۔
وزارت کے بیان کےمطابق فلسطینی وزیرخارجہ ریاض المالکی نے مغربی کنارے کے شہر رم اللہ میں فلسطین کے لیے روسی سفیرگوچا بوچیدزے کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا کہ اس طرح کے فیصلے سے دوسرے ممالک بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو موقع کے انتظارمیں ہیں۔
المالکی نےکہا کہ یہ فیصلہ فلسطین کے ساتھ پیشگی ہم آہنگی یا بعد میں وضاحت فراہم کیے بغیر آیا ہے۔
16 جون کو روسی سفارت خانے اور اسرائیلی وزارت خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ روس یروشلم میں اپنے قونصلر سیکشن کی شاخ کھولے گا۔
جنیوا (شِنہوا)اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کےادارے یو این ایچ سی آر نے کہا ہے کہ 2024 میں عالمی سطح پر 24 لاکھ سے زائد پناہ گزینوں کو دوبارہ آباد کرنےکی ضرورت ہوگی جو 2023 کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہے۔
2024 کے لیے متوقع عالمی آبادکاری کی ضروریات کے تخمینے کے مطابق ایشیائی خطہ 2024 کے لیے تخمینہ شدہ ضروریات کی فہرست میں سرفہرست ہے جہاں تقریباً 7 لاکھ 30 ہزار پناہ گزینوں کو دوبارہ آبادکاری کی ضرورت ہے جوعالمی ضروریات کا 30 فیصدہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام کا بحران اپنے 13ویں سال میں ہے جہاں پناہ گزینوں کی سب سے بڑی صورت حال درپیش ہے جبکہ شامی پناہ گزینوں کو مسلسل آٹھویں سال دوبارہ آبادکاری کی سب سے زیادہ ضروریات ہے۔ دنیا بھر میں تقریباً 7 لاکھ54 ہزار شامی باشندوں کو دوبارہ آبادکاری کے ذریعے فوری امداد کی ضرورت ہے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات میں قانون کے مطابق اضافہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے نیب اور ایف آئی اے سے پارلیمنٹیرینز (سیاستدانوں) کے خلاف کیسوں کی تفصیلات طلب کرلیں، کمیٹی نے حاجیوں کودرپیش مسائل پر شدید برہمی کااظہارکرتے ہوئے نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ وزیر مذہبی امور خود بھی سعودی عرب ہیں مگراس کے باوجودحاجیوں کوٹرانسپورٹ ،کھانے اور رہائش کے مسائل ہیں ۔ پی اے سی نے وزارت داخلہ کو ہدایت کی کہ جن سیاست دانون پر نیب ایف آئی اے کے کیس نہیں ہیں ان کو این اوسیجاری کیا جائے ۔کمیٹی نے نیب اور ایف آئی اے کو بھیجے گئے کیسز بارے پیشرفت کی بریفنگ طلب کر لی، چیئر مین کمیٹی نورعالم خان نے کہاکہ قانون کے مطابق جب گریڈ 22کے افسران کی تنخواہ بڑھے گی تو پارلیمنٹیرین کی تنخواہ بھی بڑھے گی اس پر عمل کیاجائے خلاف ورزی پر سزا ہوگی ۔تفصیلات کے مطابق منگل کو پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نور عالم خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔ اجلاس میں مشاہد حسین سید،شاہدہ اختر علی،نواب شیرجبکہ وجیہہ قمر،طارق حسین سید،سینیٹر محسن عزیز نے ان لائن شرکت کی۔اجلاس میں کمیٹی نے پاکستانی حاجیوں کو درپیش مسائل کا نوٹس لے لیا۔چیئرمین کمیٹی نورعالم خان نے کہاکہ حاجیوں کے حالات دیکھے ہیں، لوگ میسیجز ،فون اور ویڈیوز بھیج رہے ہیں،حاجیوں کو ٹرانسپورٹ کی سہولت میسر نہیں ہے 16گھنٹے انتظارکررہے ہیں کھانا صحیح نہیںدیا جارہاہے رہائش بھی ٹھیک نہیں دی گئی ہے ۔پرائیویٹ آپریٹرز نے 25، 25، 30،30 لاکھ روپے لئے ہیں، مگر اس کے مطابق سہولت نہیں دے رہے ہیں ۔
حکومت نے سرکاری حاجیوں کو ٹرانسپورٹ نہیں دیا نہ پانی ہے، کھانے کا بھی مسئلہ تھا، اس حوالے سے ایک میٹنگ جلد رکھی جائے، 4جولائی کو اس حوالے سے اجلاس میں وزارت مذہبی امور کوبلائیں گے ۔شاہد اختر علی نے کہاکہ تاریخ دیکھ لیں ساری وزارت مذہبی امور سعودی عرب گئی ہے ۔نورعالم خان نے کہاکہ منسٹر بھی وہاں ہیں پھر بھی یہ حال ہے،پچھلے سال مولانا صاحب منسٹر تھے تو کسی نے شکایت نہیں کی، اب بھی جمعیت علماء اسلام (ف) کے وزیر ہیں مگر حاجیوں کو تکلیف ہے انہوں نے شاہد اختر علی کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ کے لوگ وزیر بنانے کے لیے کوشش کرتے ہیں تو ان کو کام بھی کرنا چاہیے ۔وہاں صدر بھی ہو اور منسٹر بھی ہو اور حاجیوں کا یہ حال ہو؟ مجھے بہت افسوس ہوا۔کمیٹی نے معاملے کا جائزہ لینے کے لئے جلد ایک میٹنگ منعقد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔رکن کمیٹی نواب شیر نے کہاکہ جس طرح سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں بھی اضافہ ہو تا ہے اس طرح ہماری تنخواہ میں بھی اضافہ ہونا چاہئے،ہم اپنا حق مانگ رہے ہیں ۔نور عالم خان نے کہاکہ جن کی پندرہ لاکھ تنخواہ ہے ان کی تین سو فیصد تنخواہ بڑھ جاتی ہے، قانون میں ہے کہ گریڈ22کے افسران کی تنخواہ بڑھے گی تو پارلیمنٹیرین کی تنخواہ بھی بڑھے گی اس پر عمل کیوں نہیں ہورہاہے نورعالم خان نے پارلیمنٹیرین کی تنخواہوں کے حوالے سے قانون سربراہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو دیئے اور کہاکہ اس میں واضح لکھا ہے کہ گریڈ22کے افسران کی تنخواہ بڑھے گی تو پارلیمنٹیرین کی تنخواہ بھی بڑھے گی اس پر عمل کیوں نہیں ہورہاہے جس پر سربراہ آڈیٹر جنرل نے کہاکہ قومی اسمبلی کے سیکرٹری اس حوالے سے خط لکھیں گے تو امید ہے معاملہ حل ہوجائے گا۔
چیئرمین کمیٹی نے وزارت خزانہ کو تنخواہوں میں اضافے کے حوالے سے قانون پر عملدرآمد کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ رولز کو فالو کیاجائے اگر رولز کو فالو نہیں کیاجائے گا تو خلاف ورزی پر سزاہوگی ۔کمیٹی میں وزارت تجارت سے متعلق سال 2019-20کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیاگیا۔چیئرمین کمیٹی نے نیب اور ایف آئی اے کو بھیجے گئے کیسز بارے پیشرفت کی بریف طلب کر لی۔ چیئرمین کمیٹی نور عالم خان نے اس حوالے سے جلد میٹنگ بلانے کی ہدایات جاری کردیں۔نیب اور ایف آئی اے حکام سے ایک سال میں بھیجے گئے کیسز کی تفصیلات طلب کرلی ۔اجلاس میں اسلحہ لائسنز کے وینڈرز کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔نورعالم خان نے کہاکہ وہ چالیس ہزار روپے چارج کررہے ہیں، یہ تو کرپشن کا نیا بازار کھل گیا ہے، لائسنس وہ لوگ رکھتے ہیں جو قانون کا احترام کرتے ہیں، جو اسلحہ لائسنس ایکسپائر ہوگئے ہیں ان کو ری نیو کیاجائے ۔ہم نے نیب کو کہا تھا کتنے پارلیمنٹیرینز پر کیسز ہیں ان کی تفصیلات فراہم کی جائیںجن کے خلاف کیسز نہیں ہیں ان کو نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ دیں، کسی کو ہراساں نہیں کیا جانا چاہئے،نیب اور ایف آئی اے کوہدایت کی کہ جن پر کیس ہیں ان کی لسٹ فراہم کی جائے۔(محمداویس)
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی